Inquilab Logo Happiest Places to Work

جوزف وجے کی حمایت اور کانگریس کا مستقبل

Updated: May 21, 2026, 1:03 PM IST | Rasheed Kidwai | Mumbai

وجے کیلئے کانگریس کی حمایت سے ڈی ایم کے برہم ہے، اس نے کانگریس کے فیصلے کو پیٹھ میں چھرا گھونپنے جیسا قرار دیا ہے مگر راہل، وجے کی حمایت کے ذریعہ کانگریس میں نئی توانائی پھونکنا چاہتے ہیں۔

Vijay And Rahul.Photo;INN
راہل گاندی اور جوزف وجے۔ تصویر:آئی این این
چار ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام ایک علاقے میں ہوئے حالیہ اسمبلی انتخابات میں کانگریس کو جہاں کیرالا میں اقتدار مل گیا وہیں مجموعی طورپر’انڈیااتحاد‘ کی کمزوری کے ا شارے بھی ملنے لگے ہیں ۔ ’ڈی ایم کے‘ خاص طور پر تمل ناڈو میں وجے کیلئے کانگریس کی حمایت سے ناراض ہے، اس نے کانگریس کے فیصلے کو پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف قرار دیا ہے۔ ڈی ایم کے نے لوک سبھا اسپیکر سے بھی اپیل کی ہےکہ لوک سبھا میںاس کے بیٹھنے کی نشستیں کانگریس سے علاحدہ کی جائیں ۔ کانگریس اور’ ڈی ایم کے‘ کے درمیان سیاسی تعلقات کی تاریخ نشیب وفراز سے بھری پڑی ہے۔
۱۹۹۱ء میں راجیو گاندھی کے قتل کے بعد دونوں جماعتوں کے درمیان تعلقات تلخ ہوگئے تھے۔ کانگریس نے ڈی ایم کے پر’ ایل ٹی ٹی ای ‘کے تعلق سے نرم رویہ اختیار کرنے کا الزام لگایا تھا۔ یاد رہے کہ ۱۹۹۸ء میں کانگریس نے ڈی ایم کے پر راجیو گاندھی کے قاتلوں کی مبینہ حمایت کا الزام لگاتے ہوئے آئی کے گجرال حکومت سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔(واضح رہےکہ اندر کمارگجرال یونائیٹڈ فرنٹ کے وزیراعظم تھے اور اس اتحاد میںڈی ایم کے بھی شامل تھی)۔ تاہم چند سال بعد دونوں جماعتیں دوبارہ متحد ہو گئیں۔ ڈی ایم کے ۲۰۰۴ء اور۲۰۰۹ء میں کانگریس کی قیادت والی یو پی اے حکومتوں میں اہم اتحادی بنی لیکن ۲۰۱۳ء میں، ڈی ایم کے نے سری لنکا کے معاملے پر یو پی اے حکومت کا ساتھ چھوڑ دیا۔ تو کیا اب راہل گاندھی نے ۲۰۱۳ء کا یہی انتقام لیا ہے؟
درحقیقت سیاست میں ماضی اتنا اہم نہیں ہوتا جتنا کہ حال یا مستقبل۔ اس لئے جب راہل گاندھی نے تمل ناڈومیںوجے کی پارٹی ٹی وی کےکاساتھ دینے کا فیصلہ تو ان کے ذہن میں ۲۰۱۳ء تو قطعی نہیںہوگا ۔ بلکہ اسے ایک ماہ قبل ’ٹی وی کے ‘ کے ساتھ قبل از انتخابات اتحاد نہ بنانے کی غلطی کو سدھارنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے ۔ غور طلب ہے کہ حالیہ اسمبلی انتخابات سے پہلے راہل گاندھی نے ملکارجن کھرگے اور پارٹی کے دیگر سینئر لیڈروں کے مشورے پر’ ڈی ایم کے‘ کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس کے باوجود تمل ناڈو کانگریس کے ایک حلقے، خاص طور پر نوجوان لیڈروںکو اس سے اتفاق نہیں تھا۔ راہل کو اپنی اس غلطی کا احساس ووٹنگ کے دن ہی ہوگیا تھا ۔یہی بنیاد ہےکہ جیسے ہی تمل ناڈو میں معلق اسمبلی کے امکانات سامنےآئے، راہل گاندھی نے کانگریس کی برسوں پرانی اتحادی ڈی ایم کے کا ساتھ چھوڑ کر اداکار’ تھلاپتی ‘ وجے کی نئی نویلی پارٹی کو حمایت دینے میں کوئی تاخیر نہیںکی۔ راہل کے اس فیصلے سے نئی سیاسی مساوات سے متعلق ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔بعض حلقے ان کے اس فیصلے کو سراسر موقع پرستی پر مبنی قرار دے رہے ہیں لیکن اس پیش رفت کو مخالف پارٹیوں کے ساتھ ساتھ خود کانگریس میں بھی تشوتش کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے ۔ اتوار کووزیراعلیٰ کی حیثیت سے حلف برداری کی تقریب میں راہل گاندھی کے ساتھ وجے کی کیمسٹری خوب نظر آئی۔ وجےکا سیاست میں یہ نیا آغازہے ، وہ صرف نوجوانوں میں نہیں بلکہ ہر طبقے میں مقبول ہیں اور راہل گاندھی بھی بھارت جوڑو یاترا کے بعد نوجوانوں، غریبوں ، کسانوں اور ہر محروم اور کمزور طبقے کو متحد کرنے کے حامی رہے ہیں ۔ یہ کام راہل گاندھی پارٹی کے موجودہ کیڈر کےساتھ کررہے ہیںلیکن پارٹی مسلسل کمزور ہوتی جارہی ہے ۔ ممکن ہے راہل گاندھی سوچ رہے ہوں کہ وجے کاساتھ ملنے کی صورت میں وہ پارٹی میں توانائی پھونک سکیںگے، وہ اس وقت مضبوط کندھے کی تلاش میں ہیں۔
 
 
عام طور پر، حلف برداری کی تقریبات میں شرکت کرنے والے وی آئی پی اگلی نشستوں پر براجمان ہوتے ہیں ۔اسٹیج پر صرف وزیر اعلیٰ یا حلف لینے والے وزراء ہی بیٹھتے ہیں۔ تاہم وجے نے راہل گاندھی سے اسٹیج پر بیٹھنے کی خصوصی درخواست کی جسے انہوں نے قبول کرلیا۔ پروٹوکول کے لحاظ سے یہ ایک غیر معمولی اشارہ تھا۔ اس دوران، پورے تمل ناڈو اور ملک نے راہل گاندھی کے تئیں وجے میںموجود احترام کے جذبہ کو محسوس کیا۔ وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف لینے کے بعد، وجے نے اپنی ابتدائی تقریر میں واضح کیا کہ ان کی بنیادی توجہ سماجی انصاف پر ہو گی ۔ سماجی انصاف کا یہی موـضوع را ہل گاندھی کا بھی پسندیدہ ہے ۔ یہ مسئلہ۲۰۲۴ء کے لوک سبھا انتخابات کے دوران ان کی مہم کا مرکزی موضوع تھا۔
 
 
بہر حال ،اب ایسا لگتا ہے کہ انہیں وجے کی شکل میں ایک ہم خیال ساتھی مل گیا ہے۔ غور طلب ہے کہ ملک میں صرف تین ریاستیں ایسی ہیں جہاں راہل گاندھی کی مقبولیت وزیر اعظم نریندر مودی سے زیادہ ہے۔ تمل ناڈو ان ریاستوں میں سے ایک ہے (باقی ۲؍ کیرالا اور پنجاب ہیں)۔ چنانچہ کانگریس کے ایک طبقے کا ماننا ہے کہ راہل اور وجے کی یہ نوجوان جوڑی اگلے لوک سبھا انتخابات میں کمال کر سکتی ہے۔ اس نئے اتحاد سے کانگریس کو۲۰۲۹ء کے لوک سبھا انتخابات میں تمل ناڈو میں بڑی تعداد میں امیدوار اتارنے کا موقع بھی مل سکتا ہے۔سابقہ انتخابات میں اسے ڈی ایم کے نے صرف ۹؍ سیٹیں ہی دی تھیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کانگریس ہیڈکوارٹر اندرا گاندھی بھون میں۴؍مئی سے جوش و خروش کی لہر نظر آرہی ہے ۔ کانگریس کے ایک حلقےکا جس میںبالخصوص راہل گاندھی کے قریبی افراد شامل ہیں، خیال ہے کہ پارٹی کے پاس مغربی بنگال، مہاراشٹر، بہار، آندھرا پردیش، ادیشہ، دہلی، اتراکھنڈ، پنجاب اور کئی دیگر ریاستوں میں اپنے ’پرانےاچھے دن‘ واپس لانے کا موقع ہے۔ لہٰذا’ایکلا چلو رے‘ نیا نعرہ بن گیا ہے اور۲۰۲۹ء میں۲۰۰؍ پارکا خواب دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم، پارٹی اس تلخ حقیقت سے نظریں نہیںچرا سکتی کہ کیرالا کو چھوڑ کر کسی بھی دوسری ریاست میں لوک سبھا میں کانگریس کیلئے دوہرے ہندسے تک پہنچنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ مغربی بنگال، تمل ناڈو، بہار، اتر پردیش، دہلی، ادیشہ اور آندھرا پر دیش میں جن کی مجموعی طور پر۲۵۴؍لوک سبھا سیٹیں ہیں، کانگریس کا ووٹ شیئر فی الحال اکائی ہندسہ میں ہے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK