فلمی دنیا میں ملکہ ترنم کے نام سے مشہور پلے بیک سنگر اللہ وسائی عرف نورجہاں نے اپنی آواز میں جو گانے گائے وہ آج بھی اپنا جادو جگائے ہوئے ہیں۔ نور جہاں کی پیدائش۲۱؍ ستمبر ۱۹۲۶ء کو پنجاب کے ایک چھوٹے سے قصبے قصور کے ایک متوسط گھرانےمیں ہوئی۔
EPAPER
Updated: September 22, 2025, 2:07 PM IST | Agency | Mumbai
فلمی دنیا میں ملکہ ترنم کے نام سے مشہور پلے بیک سنگر اللہ وسائی عرف نورجہاں نے اپنی آواز میں جو گانے گائے وہ آج بھی اپنا جادو جگائے ہوئے ہیں۔ نور جہاں کی پیدائش۲۱؍ ستمبر ۱۹۲۶ء کو پنجاب کے ایک چھوٹے سے قصبے قصور کے ایک متوسط گھرانےمیں ہوئی۔
فلمی دنیا میں ملکہ ترنم کے نام سے مشہور پلے بیک سنگر اللہ وسائی عرف نورجہاں نے اپنی آواز میں جو گانے گائے وہ آج بھی اپنا جادو جگائے ہوئے ہیں۔ نور جہاں کی پیدائش۲۱؍ ستمبر ۱۹۲۶ء کو پنجاب کے ایک چھوٹے سے قصبے قصور کے ایک متوسط گھرانےمیں ہوئی۔ پیدائش کے وقت نور جہاں کی خالہ نے نومولود بچے کے رونے کی آواز سن کر کہا- اس بچے کے رونے میں موسیقی ہے۔ نورجہاں کے والدین تھیٹرمیں کام کرتے تھے۔ گھر میں فلمی ماحول کی وجہ سے نور جہاں بچپن سے ہی موسیقی کی طرف مائل تھیں۔ نور جہاں نے فیصلہ کیا کہ وہ بطور پلے بیک سنگر اپنی شناخت بنائیں گی۔ ان کی والدہ نے نورجہاں کے ذہن میں موسیقی کی طرف بڑھتے ہوئے جھکاؤ کو پہچان لیا۔ اس راستے پر آگے بڑھنے کی ترغیب دی اور گھر پر موسیقی کی تعلیم کا انتظام کیا۔
نور جہاں نے موسیقی کی ابتدائی تعلیم کجن بائی سے اور کلاسیکی موسیقی کی تعلیم استاد غلام محمد اور استاد بڑے غلام علی خان سے حاصل کی۔ ۱۹۳۰ءمیں نور جہاں کو انڈین پکچر کے بینر تلے بننے والی خاموش فلم ’ہند کے تارے‘ میں کام کرنے کا موقع ملا۔ کچھ عرصے بعد ان کا خاندان پنجاب سے کلکتہ چلا گیا۔ اس عرصے کے دوران انہیں تقریباً۱۱؍خاموش فلموں میں اداکاری کرنے کا موقع ملا، ۱۹۳۱ءتک نور جہاں نے بطور چائلڈ آرٹسٹ اپنی پہچان بنا لی تھی۔ ۱۹۳۲ءمیں ریلیز ہونے والی فلم ششی پنوں نورجہاں کے سینما کیرئیر کی پہلی ٹاکی فلم تھی۔ اس عرصے میں نورجہاں نے کوہ نور یونائیٹڈ آرٹسٹ کے بینر تلے بننے والی کچھ فلموں میں کام کیا۔ کولکتہ میں ان کی ملاقات فلم پروڈیوسر پنچولی سے ہوئی۔ پنچولی نےنورجہاں کو فلم انڈسٹری کی ابھرتی ہوئی اسٹار کے طور پر دیکھا اور انہوں نے انہیں اپنی نئی فلم گل بکاؤلی کے لیے منتخب کیا۔
فلم خاندان میں نورجہاں پر فلمایا گیا گانا’کون سی بدلی میں میرا چاند ہے آجا‘ ناظرین میں کافی مقبول ہوا۔ فلم خاندان کی کامیابی کے بعد نورجہاں نے فلم کے ہدایت کار شوکت حسین سے شادی کر لی۔ اس کےبعد وہ ممبئی آگئیں۔ اس دوران نور جہاں نے شوکت حسین کی ہدایت کاری میں بننے والی فلموں میں نوکر، جگنو(۱۹۴۳ء)میں کام کیا۔ نور جہاں نے اپنی آواز کے ساتھ مسلسل تجربہ کیا۔ انہی خوبیوں کی وجہ سے انہیں ٹھمری گائیکی کی ملکہ کہا جانے لگا۔ اس دوران نورجہاں کی دہائی(۱۹۴۳ء)، دوست (۱۹۴۴ء)اور بڑی ماں، ولیج گرل(۱۹۴۵ء)جیسی کامیاب فلمیں ریلیز ہوئیں۔ ان فلموں میں ان کی آواز کے جادو نے شائقین کو متاثر کیا۔ اس طرح نورجہاں ممبئی فلم انڈسٹری میں مہک۔ ترنم کہی جانے لگیں۔
۱۹۹۶ءمیں ریلیز ہونے والی پنجابی فلم’سکھی بادشاہ‘میں نورجہاں نے اپنا آخری گاناکی دم دا بھروسہ گایا تھا۔ نورجہاں نے اپنے پورے فلمی کرئیر میں بے شمار گانے گائے۔ نور جہاں نے ہندی فلموں کے علاوہ پنجابی، اردو اور سندھی فلموں میں بھی اپنی آواز سے سامعین کو مسحور کیا، اپنی دلکش آواز اور انداز سے سب کو مسحور کرنے والی نور جہاں ۲۳؍دسمبر۲۰۰۰ءکو اس دنیا سے رخصت ہوگئیں۔