Inquilab Logo Happiest Places to Work

گیس پائپ لائن کیلئے تمام وارڈوں میں کھدائی کی اجازت کا نوٹیفکیشن جاری

Updated: April 03, 2026, 12:27 PM IST | Shahab Ansari | Mumbai

جنگ کے سبب ایل پی جی کی قلت کے پیش نظر پی این جی کو ترجیح دینے کیلئے بی ایم سی نے ۳۰؍ جون تک نئی درخواستوں کو ۲۴؍ گھنٹوں میں منظوری دینے اور زیر التواء تمام درخواستوں کومنظورشدہ مان لینے کی ہدایت دی۔

A suburban skyscraper with a ‘PNG’ connection. (Photo: Inquilab)
مضافات کی ایک فلک بوس عمارت جس میں ’پی این جی‘ کنکشن دیا گیاہے۔ (تصویر: انقلاب)

مشرقی وسطیٰ میں جاری جنگ کے سبب ملک میں مختلف ایندھن کا حصول مشکل ہوگیا ہے جبکہ گھریلو ’ایل پی جی‘ سلنڈروں کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہےجس کے پیش نظر حکومت عوام کو گیس سلنڈر لینے پرپائپ گیس ’پی این جی‘ کا کنکشن حاصل کرنے کو ترجیح دینے پر آمادہ کررہی ہے۔ اس دوران برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) نےصارفین کیلئے پی این جی کنکشن حاصل کرنے کو آسان بنانے کیلئے ایک سرکیولر جاری کرکے اپنے تمام وارڈوں کو ہدایت جاری کی ہے کہ ۳۰؍ جون ۲۰۲۶ء تک ’مہانگر گیس لمیٹڈ(ایم جی ایل)‘ کو حسب ضرورت گیس کی پائپ لائن بچھانے کیلئے سڑک کی کھدائی کی اجازت دے دی جائے۔بی ایم سی کے ذریعہ جاری کئے گئےسرکیولر میں کہا گیا ہے کہ ’پی این جی(پائپڈ نیچرل گیس)‘ کے کنکشن کیلئے جتنی بھی درخواستیں التواء میں ہیں، انہیں منظور شدہ مان لیا جائے اور جو نئی درخواستیں دی جائیں گی، انہیں ۲۴؍ گھنٹوں میں منظوری دے دی جائے۔ واضح رہے کہ ممبئی میں ’پی این جی‘ فراہم کرنے کی ذمہ داری ’مہانگر گیس لمیٹڈ‘ کی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: شاہ پور میں تھانے ضلع کا پہلا شاندار پلینیٹیریم تیار، ۵؍ اپریل کو افتتاح ہوگا

بی ایم سی نے اپنے سرکیولر میں کہا ہے کہ دنیا میں جنگ کی وجہ سے جو حالات پیدا ہوئے ہیں، ان سے مختلف ایندھن بشمول ایل پی جی کے حصول میں رکاوٹیں پیدا ہوگئی ہیں۔ ان باتوں کے پیش نظر رسوئی گیس کے مسئلہ کو حل کرنے کیلئے حکومت ہند نے وزارت برائے پیٹرولیم اینڈ نیچرل گیس کے توسط سے ۲۴؍ مارچ کو ایک حکم جاری کرکے پی این جی کنکشن کے حصول کو آسان بنانے کی ہدایت دی ہے۔ اس حکم کی بنیاد پر حکومت مہاراشٹر نے ۲۷؍ مارچ کو اسی نوعیت کا حکم جاری کیا ہے۔ ان حکم ناموں کے پیش نظر بی ایم سی نے ممبئی میں پی این جی کنکشن کی سہولت کیلئے ایک سرکیولر جاری کردیا ہے تاکہ جو لوگ پی این جی حاصل کرنا چاہتے ہیں، انہیں کسی قسم کی دقت پیش نہ آئے اور انہیں فوری طور پر کنکشن مل جائے۔

یہ بھی پڑھئے: منترالیہ: سیکوریٹی سسٹم پر سوالیہ نشان،۱۰؍ ہزار انٹری کارڈز غائب، ریکوری جاری

واضح رہے کہ پی این جی کا کنکشن دینے کیلئے پائپ لائن بچھانے کی غرض سے سڑک کی کھدائی کی ضرورت پیش آتی ہے اور جب کوئی پی این جی کا کنکشن حاصل کرنے کی درخواست دیتا ہے تو اس کیلئے بی ایم سی کے مقامی وارڈ آفس سے بھی اجازت لینی پڑتی ہے تاکہ سڑک کی کھدائی کی جاسکے۔ اس لئے بی ایم سی نے اپنے تمام وارڈ دفاتر کو ہدایت دی ہے کہ پی این جی کیلئے جیسے ہی کوئی درخواست موصول ہو ، اسے ۲۴؍ گھنٹوں میں منظوری دے دی جائے پھر چاہے وہ سڑک کی دیکھ ریکھ کی مدت کسی ٹھیکیدار کے ذمہ ہو یا نہ ہو۔

پائپ لائن بچھانے کیلئے جب شہری انتظامیہ اجازت دیتا ہے تو اس میں سڑک کی کھدائی کے بعد اسے دوبارہ اپنی پہلی کی سی حالت پر بنانے کی ذمہ داری بی ایل جی کی ہوتی ہے۔ اس تعلق سے بھی وضاحت کردی گئی ہے کہ اگر بی ایل جی سڑک کھود کر پائپ لائن بچھانے کے بعد خود سڑک بنانا چاہے تو اسے بنانے دی جائے اور اگر کمپنی چاہے تو اس سے اس حصے کی مرمت کی جو مناسب طے شدہ قیمت ہے، اسے ادا کرنے کی سہولت دی جائے۔

یہ بھی پڑھئے: ڈومبیولی: کھاڑی کنارے کی گئی غیرقانونی تعمیرات کیخلاف کارروائی

عام طور پر گیس کی پائپ لائن بچھانے کیلئے رات میں کھدائی کی اجازت نہیں دی جاتی، اس تعلق سے سرکیولر میں کہا گیا ہے کہ اس کام کیلئے ۲۴؍ گھنٹے کھدائی کی اجازت دی جائے اور مانسون سے قبل مئی میں کھدائی روک دی جاتی ہے۔ اس تعلق سے بھی کہا گیا ہے کہ پی این جی کنکشن دینے کیلئے اس پابندی کو ۳۰؍ جون تک کیلئے ختم کردیا گیا ہے۔ اس کام کیلئے ٹریفک محکمہ اور چیف فاریسٹ آفیسر (سی ایف او) سے پیشگی ’این او سی‘ حاصل کرنے کی شرط کو بھی عبوری طور پر ختم کردیا گیا ہے۔ البتہ انہیں جگہ اور کھدائی کے وقت کے تعلق سے روزانہ مطلع کرنا ہوگا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK