Inquilab Logo Happiest Places to Work

اوہ مائی ڈاگ: کتوں کے ساتھ انسانوں کے جذباتی تعلق کی کہانی

Updated: August 08, 2026, 11:53 AM IST | Mohammed Habib | Mumbai

اس فلم میں بے زبان جانوروں کی وفاداری کو پیش کرنے کے ساتھ ان کے تئیں ہمدردی،رحم اور نرمی کا برتائو کرنے کا پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے۔

Pankaj Tripathi and others can be seen in a scene from the film `Ohh My Dog`. Photo: INN
فلم’اوہ مائی ڈاگ‘کے ایک منظر میںپنکج ترپاٹھی اور دیگر کو دیکھا جاسکتا ہے۔ تصویر: آئی این این

اوہ مائی ڈاگ (Ohh My Dog)
اسٹارکاسٹ:پنکج ترپاٹھی،راجیش کمار، گیتا اگروال شرما، پون ملہوترا، شریدھر دوبے، وجے مشرا، سلکھیانا بروا،ماہی رائے
ڈائریکٹر:امیت رائے، گربیر سنگھl رائٹر:امیت رائے
 پروڈیوسر:راجیش بھردواج، امیت رائے، ثنا وارثی،
موسیقار:منگیش ڈھکڑے،امن پنت
سنیماٹو گرافر:ماٹے ہربائی، کرندیپ سنگھ
ایڈیٹر:سوویر ناتھ lپروڈکشن ڈیزائن:اشوینی شریواستو
آرٹ ڈائریکٹر:بلرام سرکار، گرپرتاپ سنگھ، پوجا کنچن تھورات
میک اپ:پرکاش کدم، سریش موہنتی
 ریٹنگ: ***

یہ بھی پڑھئے: اسپائڈر مین-برانڈ نیو ڈے: ماروَل اسٹوڈیو کی ایک اور بہترین فلم

کتوں کو انسان کا سب سے وفادار دوست مانا جاتا ہے۔ اگرچہ انسان اور کتوں کی دوستی اور وفاداری پر بالی ووڈ میں ’تیری مہربانیاں‘، ’ہیلو‘ اور ’چلر پارٹی‘ جیسی چند ایک فلمیں ہی بنائی گئی ہیں، لیکن ہدایت کار امیت رائے کی فلم ’اوہ مائی ڈاگ‘ اس فہرست میں ایک مضبوط اضافہ ہے۔یہ فلم انسان اور کتوں کے رشتے پر مبنی ایک جذباتی اور حساس کہانی ہے، جس میں ان بے زبان جانوروں کی وفاداری کو سلام پیش کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے تئیں ہمدردی، رحم اور نرمی کا برتاؤ کرنے کا پیغام بھی دیا گیا ہے۔

فلم کی کہانی

کہانی ۲؍مختلف ریاستوں اور مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والے۲؍ بچوں اور ان کے پالتو کتوں کے گرد گھومتی ہے۔ ایک طرف آسام میں ٹیکنالوجی کاماہر بچہ اپّو (ماہی رائے) ہے، جس کا اپنے ڈاگی مومو (آسکر)کےساتھ انتہائی پیارا اور جذباتی رشتہ ہے، تو دوسری طرف بہار میں چائلڈ لیبر کرنے والا پرنس (نکھل کمار) ہے، جسے اپنے ڈاگی آسکر (برونو) سے بے حد محبت ہے۔ 

ایک دن ایک طرف مومو اچانک لاپتہ ہوجاتا ہے اور دوسری طرف پرنس بھی غائب ہوجاتا ہے۔ پولیس دونوں ہی معاملات میں ہاتھ کھڑے کردیتی ہے، لیکن اپّو اپنے مومو کو تلاش کرنے کے لیے اور آسکر اپنے مالک پرنس کو ڈھونڈنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتے ہیں۔لیکن کیا دونوں اپنی کوشش میں کامیاب ہو پاتے ہیں؟ آخر مومو اور پرنس کے لاپتہ ہونے کی وجہ کیا ہے؟ کیا دونوں واقعات کے درمیان کوئی تعلق بھی ہے؟ ان سوالات کے جواب جاننے کے لیے فلم دیکھنا ہوگی۔

ہدایت کاری

مصنف اور ہدایت کارامیت رائے کی کہانی مضبوط ہے۔ انہوں نے مختلف سطحوں پر ناظرین کے جذبات اور حساسیت کو جھنجھوڑنےکی کوشش کی ہے۔ جانوروں سے محبت اور ان کی وفاداری کے ساتھ ساتھ انسانوں اور جانوروں کی اسمگلنگ جیسےسنگین مسئلے کو بھی انہوں نے بڑی سمجھ داری سے کہانی کا حصہ بنایا ہے۔

فلم میں بے زبان جانوروں کے ساتھ معاشرے کے ایک طبقےکی بے رحمی کو بھی مؤثر انداز میں دکھایا گیا ہے۔ پٹاخوں کے استعمال سے کتوں کو پہنچنے والی اذیت اور ڈاگ میٹ کے کاروبار کے خوفناک ریکٹ کا پردہ فاش کرنے والے مناظر ناظرین کو سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔یہ فلم یہ بھی دکھاتی ہے کہ لالچ انسان کو کس حد تک اندھا کردیتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ مجبور اور بے بس لوگوں کے اعضا کا سودا کرنے سے بھی نہیں ہچکچاتا۔ دوسری جانب غربت انسان کو کس قدر بے بس بنا سکتی ہے، اس کی ایک انتہائی تکلیف دہ تصویر اس وقت سامنے آتی ہے جب ایک باپ کو اپنے بچے کی زندگی سے زیادہ ۲۰؍ہزار روپے عزیز دکھائی دیتے ہیں۔ فلم اس طرح کے کئی حساس اور اہم مسائل کو مؤثر انداز میں اٹھاتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: دی انڈیا اسٹوری: فصلوں کیلئے کیمیکل کے بے دریغ استعمال کی کہانی

دوسری جانب امیت رائے نےکتوں سے جس انداز میں اداکاری کروائی ہے، اس کیلئےبھی ان کی تعریف ہونی چاہیے۔ تاہم اسکرین پلے کے معاملے میں فلم کچھ کمزور پڑ جاتی ہے۔ کہانی کو جس کساؤ اور رفتار کی ضرورت تھی، اس کی کمی محسوس ہوتی ہے، جس کے باعث فلم کا پہلا نصف قدرے سست محسوس ہوتا ہے۔ 

اداکاری

جہاں تک اداکاری کا تعلق ہے تو ماہی رائے اور ڈاگی آسکر فلم کی جان ہیں۔ دونوں نے اپنی پہلی ہی فلم میں شاندار کام کیا ہے۔ تیز طراراور ذہین اپّو کے کردار میں ماہی رائے جہاں ناظرین کے چہروںپرمسکراہٹ لاتے ہیں، وہیں آسکر کے جذباتی مناظر دل کو چھولیتے ہیں۔ان کے علاوہ پون ملہوترا، پنکج ترپاٹھی، گیتا اگروال، شری دھر دوبے اور گوتم سمیت دیگر فن کاروں نے بھی اپنے اپنے کرداروں کے ساتھ انصاف کیا ہے اور فلم کو ضروری سہارا فراہم کیا ہے۔ البتہ راجیش کمار بعض مقامات پر کچھ زیادہ ہی بلند آہنگ اور لاؤڈ محسوس ہوتے ہیں۔

کیوں دیکھیں؟

مجموعی طور پرفلم کو تقریباً آدھا گھنٹہ مزید مختصر اور کہانی کو زیادہ مربوط کیا جاسکتا تھا۔ ایسا ہوتا تو فلم زیادہ مؤثر اور مکمل بن سکتی تھی۔ اس کے باوجود نیک نیتی، جذبات اور اچھے پیغام کے ساتھ بنائی گئی یہ خاندانی فلم ایک مرتبہ ضرور دیکھی جاسکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK