امریکہ کے صدر کے مطابق ایران سے بات چیت جاری ہے، جنگ جلد ختم ہوجائے گی، آبنائے ہرمز کھل جائے گی۔
EPAPER
Updated: August 08, 2026, 11:26 AM IST | Washington
امریکہ کے صدر کے مطابق ایران سے بات چیت جاری ہے، جنگ جلد ختم ہوجائے گی، آبنائے ہرمز کھل جائے گی۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران سے بات چیت جاری ہے، جنگ جلد ختم ہوجائے گی، آبنائے ہرمز کھل جائے گی۔امریکی صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے عالمی اور امریکی توانائی کی قیمتوں سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں ایران کے خلاف جنگ بہت جلد ختم ہوجائے گی۔ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ ایرانی زیادہ دیر تک یہ جنگ جاری رکھ سکیں گے۔اس کے علاوہ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ وہ وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کی کارکردگی سے انتہائی خوش ہیں۔ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری جنگ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ سب کچھ غیرمعمولی رہا ہے، ایران کو اس مقصد کے لئے شدید نقصان پہنچایا گیا ہے کہ وہ کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے، وہاں سب کچھ بہت اچھا جا رہا ہے۔ دوسری جانب ایران متعدد بار واضح کر چکا ہے کہ جنگ کے مستقل خاتمے کیلئےاس کی امریکہ کے ساتھ فی الحال کوئی براہِ راست بات چیت نہیں ہو رہی ہے۔دریں اثناء ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقرقالیباف نے امریکی صدر ڈونالڈٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ دھونس، وعدہ خلافی اور جھوٹی خبروں کے ذریعے دباؤ ڈالنے کی امریکی حکمت عملی ناکام ہو چکی ہے اور اس سے کوئی مثبت نتیجہ حاصل نہیں ہوگا۔حقائق تسلیم کریں اور اپنے وعدے پورے کریں، مزید دھمکی کی ضرورت نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران کو مزید بیانات یا سیاسی ڈرامے کی ضرورت نہیں بلکہ سنجیدہ اور عملی اقدامات درکار ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: فلسطین آزاد ہوگا تبھی دنیا آزاد ہوگی: ’’وائکنگز‘‘ کے اداکار گستاف اسکارشگارڈ
دوسری جانب امریکہ کی شکاگو یونیورسٹی کے پروفیسر اور معروف سیاسی تجزیہ کار رابرٹ پیپ نے خبردار کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے باعث ایک خطرناک عسکری صورتحال میں پھنس چکے ہیں، جہاں ان کےلئے جنگ ختم کرنا بھی مشکل ہے اور اسے مزید وسعت دینا بھی انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ عرب میڈیا کو دیئے جانےوالے ایک انٹرویو میں پروفیسر رابرٹ پیپ نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے ایران پر فضائی اور بحری حملوں سے ٹرمپ کو وقتی طور پر کچھ فوجی کامیابیاں ضرور حاصل ہوئی ہیں لیکن جنگ میں براہِ راست مداخلت کے باوجود وہ اپنے بڑے اسٹریٹجک مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔رابرٹ پیپ کے مطابق ایران جنگ کے نتیجے میں کمزور ہونے کےبجائے پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر سامنے آیا ہے۔ موجودہ صورتحال امریکی صدر کے لئے ایک پیچیدہ عسکری اور سیاسی چیلنج بن چکی ہے۔امریکی ماہر کے مطابق صدر ٹرمپ کے پاس اب بنیادی طور پر دو ہی راستے باقی رہ گئے ہیں۔ پہلا یہ کہ وہ ایران کے بڑھتے ہوئے علاقائی اثر و رسوخ کو تسلیم کرتے ہوئے جنگ ختم کرنے کی کوشش کریں، جبکہ دوسرا راستہ جنگ کو مزید وسیع کرنا ہے۔رابرٹ پیپ کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں ٹرمپ کے لئے کوئی آسان تیسرا راستہ نظر نہیں آتا۔