• Tue, 03 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

عمر عبداللہ کی قاضی توقیر کی حمایت، کہا ’’میں انہیں ووٹ دوں گا‘‘

Updated: November 03, 2026, 10:03 PM IST | Srinagar

جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے مقبول ریئلیٹی شو ’’بگ باس ۲۰‘‘ میں حصہ لینے والے کشمیری گلوکار قاضی توقیر کی کھل کر حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ انہیں شو کا فاتح بنانے کے لیے اپنا ووٹ دیں گے۔ عمر عبداللہ نے قاضی کی گلوکاری کی تعریف کی اور امید ظاہر کی کہ اگر وہ بگ باس کی ٹرافی جیتنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو یہ جموں و کشمیر کے لیے ایک اور خوشی کا موقع ہوگا۔

Touqeer And Omar.Photo:INN
عمر اورتوقیر۔ تصویر:آئی این این

جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے مقبول ریئلیٹی شو ’’بگ باس ۲۰‘‘ میں حصہ لینے والے کشمیری گلوکار قاضی توقیر کی کھل کر حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ انہیں شو کا فاتح بنانے کے لیے اپنا ووٹ دیں گے۔ عمر عبداللہ نے قاضی کی گلوکاری کی تعریف کی اور امید ظاہر کی کہ اگر وہ بگ باس کی ٹرافی جیتنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو یہ جموں و کشمیر کے لیے ایک اور خوشی کا موقع ہوگا۔ ان کا یہ بیان صحافی اور ٹی وی اینکر شبھانکر مشرا کے یوٹیوب چینل پر ایک گفتگو کے دوران سامنے آیا، جس کے بعد قاضی توقیر کے مداحوں میں خاصا جوش دیکھا جا رہا ہے۔ 
گفتگو کے دوران جب شبھانکر مشرا نے عمر عبداللہ سے پوچھا کہ کیا وہ بگ باس دیکھ رہے ہیں کیونکہ اس بار جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والا ایک فنکار بھی شو میں شریک ہے تو انہوں نے فوراً قاضی توقیر کا نام لیا۔ عمر عبداللہ نے بتایا کہ وہ باقاعدگی سے بگ باس نہیں دیکھتے، تاہم اخبارات اور خبروں کے ذریعے شو میں قاضی کی سرگرمیوں سے واقف رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ قاضی کو ایک دو موسیقی کے پروگراموں میں پرفارم کرتے ہوئے دیکھ چکے ہیں اور وہ بہت اچھا گاتے ہیں۔
عمر عبداللہ نے بگ باس کے گھر میں جاری بحث اور جھگڑوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ قاضی کی وجہ سے شو میں خاصی گہماگہمی اور تنازعات بھی دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ جب انہیں بتایا گیا کہ قاضی کے جیتنے کے امکانات موجود ہیں اور شو کے فاتح کا فیصلہ عوامی ووٹنگ کے ذریعے ہوگا تو انہوں نے فوراً کہا کہ ایسی صورت میں انہیں قاضی کے لیے ووٹ دینا چاہیے۔  عمر عبداللہ نے قاضی توقیر کے ماضی کا ذکر کرتے ہوئے ان کی ۲۰۰۵ء کی کامیابی کو بھی یاد کیا۔ قاضی نے اسی سال سونی ٹی وی کے معروف گلوکاری کے ریئلیٹی شو ’فیم گروکل‘ میں روپریکھا بنرجی کے ساتھ کامیابی حاصل کرکے ملک بھر میں شہرت حاصل کی تھی۔ اس مقابلے میں معروف گلوکار اریجیت سنگھ نے بھی حصہ لیا تھا، جو چھٹے مقام پر رہے تھے۔

یہ بھی پڑھئے:بدتمیزی کے الزام کے بعد اوری نےامرتا سنگھ اور سارہ علی خان سے بدلہ لینے کی دھمکی دی

عمر عبداللہ نے اس کامیابی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ قاضی کی جیت اس وقت بہت سے لوگوں کے لیے غیر متوقع تھی اور کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ وہ مقابلہ جیت جائیں گے۔ ان کے مطابق قاضی کی گلوکاری کا ہنر پہلے سے ہی نمایاں رہا ہے اور بگ باس میں ان کی موجودگی نے انہیں ایک مرتبہ پھر عوام کی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔  عمر عبداللہ نے قاضی کی ممکنہ کامیابی کو جموں و کشمیر کی حالیہ کھیلوں کی کامیابی سے جوڑتے ہوئے کہا کہ خطے کے نوجوان رنجی ٹرافی جیت رہے ہیں اور اگر قاضی توقیر بگ باس کی ٹرافی بھی اپنے نام کرلیتے ہیں تو یہ بھی ایک بڑی خوشی کی بات ہوگی۔ ان کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ قاضی کی کامیابی کو صرف ایک ٹیلی ویژن شو کی جیت نہیں بلکہ جموں و کشمیر کے نوجوانوں کے لیے فخر کا موقع سمجھتے ہیں۔
قاضی توقیر تقریباً ۲۱؍ سال بعد ’’بگ باس ۲۰‘‘ کے ذریعے دوبارہ بڑے پیمانے پر ٹیلی ویژن کے ناظرین کے سامنے آئے ہیں۔ ’فیم گروکل‘ جیتنے کے بعد انہیں زبردست مقبولیت حاصل ہوئی تھی، لیکن ان کا فلمی اور موسیقی کا کریئر توقعات کے مطابق آگے نہیں بڑھ سکا اور وہ کچھ عرصے کے لیے مرکزی تفریحی دنیا سے دور ہوگئے۔ اب بگ باس میں ان کی شرکت نے انہیں ایک بار پھر شہرت اور عوامی توجہ دلائی ہے۔ شو میں ان کا پُرجوش انداز، مزاحیہ گفتگو، منفرد حرکات اور ان کا مخصوص جملہ ’’آئی ایم اے راک اسٹار، بے بی‘‘ ناظرین کے درمیان خاصا مقبول ہو رہا ہے۔ ان کے کھیل، دوسرے شرکاء کے ساتھ بحث اور گھر کے اندر ہونے والے واقعات بھی مسلسل موضوعِ گفتگو بنے ہوئے ہیں۔ شو کے میزبان سلمان خان نے بھی پہلے ہفتے کے اختتام پر قاضی کے انداز کو سراہا تھا، اگرچہ بعد میں ایک خاتون شریکِ مقابلہ کے ساتھ ان کے تبصرے پر انہیں تنبیہ بھی کی گئی۔ 

یہ بھی پڑھئے:ون ڈے سیریز کے لیے مکمل مضبوط ٹیم چاہتے تھے: گِل

سلمان خان کی میزبانی میں جاری ’’بگ باس ۲۰‘‘ میں قاضی توقیر کی موجودگی نے اس سیزن کو مزید دلچسپ بنا دیا ہے۔ عمر عبداللہ کی حمایت کے بعد قاضی کے مداحوں کو امید ہے کہ انہیں جموں و کشمیر کے علاوہ ملک کے دیگر حصوں سے بھی ووٹ ملیں گے۔ تاہم شو کی ٹرافی کس کے حصے میں آئے گی، اس کا فیصلہ ناظرین کی ووٹنگ اور مقابلے میں شریک دیگر امیدواروں کی کارکردگی پر منحصر ہوگا۔ عمر عبداللہ کے بیان نے قاضی توقیر کی مقبولیت کو ایک نئی توجہ دی ہے۔ ایک طرف ان کے مداح انہیں بگ باس ۲۰؍ کا ممکنہ فاتح قرار دے رہے ہیں، تو دوسری طرف فیم گروکل سے شہرت حاصل کرنے والے اس گلوکار کی طویل عرصے بعد واپسی بھی ان کے سفر کو خاص بناتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK