• Tue, 03 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ ۲۰۲۶ءکے آخر میں اسرائیل کو۴؍ ارب ڈالر کی فنڈنگ بند کر دے گا: ٹرمپ

Updated: November 03, 2026, 9:35 PM IST | Washington

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ۲۰۲۶ء کے آخر میں اسرائیل کو ۴؍ارب ڈالر کی فنڈنگ بند کر دے گا، ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو اب فنڈنگ کی ضرورت نہیں ہے اور کچھ ڈیموکریٹس اور بائیں بازو کے سیاست دان اسرائیل کو امریکی مالی مدد کو ریپبلکن پر تنقید کے لیے ایک نکتے کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔

Donald Trump and Netanyahu... Photo: INN
ڈونالڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو۔۔ تصویر: آئی این این

 امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے منگل کو کہا کہ انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے کہ واشنگٹن اس سال کے آخر کے بعد اسرائیل کو۴؍ ارب ڈالر کی فنڈنگ دینا بند کر دے گا۔فاکس نیوز کے فاکس اینڈ فرینڈز سے بات کرتے ہوئے، ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل کو اب فنڈنگ کی ضرورت نہیں ہے اور کچھ ڈیموکریٹس اور بائیں بازو کے سیاست دان اسرائیل کو امریکی مالی مدد کو ریپبلکنز پر تنقید کے لیے ایک نکتے کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔ٹرمپ نے فاکس نیوز کے فاکس اینڈ فرینڈز کو بتایا،’’ اب، جہاں تک اسرائیل کو ادائیگی کا تعلق ہے، نیتن یاہو اور میں نے ایک معاہدہ کیا ہے کہ ہم اسرائیل کو سالانہ۴؍ ارب ڈالر دیتے ہیں، اور ہم نے مہینوں پہلے ایک معاہدہ کیا تھا کہ ہم روک رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا، ’’ہم نے پہلے ہی اتفاق کیا ہے کہ اس سال کے آخر تک ہم اسرائیل کو ادائیگی نہیں کریں گے۔ اب ہم اسرائیل کی مدد کریں گے اگر انہیں ضرورت ہوئی۔‘‘بعد ازاں ٹرمپ کے تبصرے پر نیتن یاہو کے دفتر کی طرف سے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ نے اپنے پورے کئے گئے ۱۲۷ وعدوں کی فہرست جاری کی، ہند-پاک جنگ بندی اور ہند تجارتی معاہدے کا دعوی

دریں اثناء یہ فوری طور پر واضح نہیں تھا کہ ٹرمپ کا مطلب کون سی فنڈنگ ہے۔ ایک مفاہمت کی یادداشت جو اسرائیل کو سالانہ۳؍ اعشاریہ ۸؍ ارب ڈالر کی امریکی فوجی امداد فراہم کرتی ہے، ۲۰۲۸ءمیں اپنی میعاد ختم ہونے کے قریب ہے اور اس بارے میں بات چیت جاری ہے کہ اس تاریخ کے بعد اسرائیل کو واشنگٹن کی مدد کیسے آگے بڑھے گی۔ٹرمپ نے منگل کو مزید کہا، ’’وہ جو چاہیں خرید سکتے ہیں۔ وہ جو چاہیں خرید سکتے ہیں۔ یورپ بھی ایسا کر سکتا ہے۔ ہم دنیا کے بہترین ہتھیار بناتے ہیں۔‘‘
واضح رہے کہ نیتن یاہو نے مئی میں سی بی ایس کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ انہیں امید ہے کہ ایک دہائی کے اندر اسرائیل کو امریکی فوجی مدد سے الگ کر دیا جائے گا۔ جون میں ایک امریکی کانگریس مین کو لکھے گئے خط میں انہوں نے لکھا کہ اسرائیل کے لیے امداد وصول کنندہ سے شراکت دار بننے کا وقت آ گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کی مداخلت پر بھی آئزن کوٹ نیتن یاہو کے اتحادی نہیں بنیں گے: رپورٹ

یہ بھی یاد رہے کہ میں غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے اسرائیل کے لیے امریکی عوامی حمایت میں کمی آئی ہے، خاص طور پر ڈیموکریٹس میں۔ جون میں کوینیپیک یونیورسٹی کے ایک سروے میں پایا گیا کہ۴۸؍ فیصد ووٹرز اور۶۶؍ فیصد ڈیموکریٹس کا خیال ہے کہ امریکہ اسرائیل کی بہت زیادہ حمایت کرتا ہے، جو۲۰۱۷ء میں پہلی بار سوال پوچھے جانے پر۱۶؍ فیصد اور۲۰؍ فیصد تھا۔مزید برآں ڈیموکریٹک رائے دہندگان میں اسرائیل کی حمایت میں زبردست کمی آئی ہے، اسرائیل پر تنقید کرنے والے امیدوار ڈیموکریٹک پرائمری جیت رہے ہیں اور یہاں تک کہ اعتدال پسند قانون ساز بھی اسرائیل کے لیے امریکہ کی دہائیوں کی حمایت کو چیلنج کرنے کے لیے تیزی سے تیار ہیں۔ 
ٹرمپ نے کہا، ’’بائیں بازو۴؍ ارب ڈالر کی ادائیگی کا،  ناانصافی کے اشارے کے طور پر استعمال کرتا ہے جس کے بارے میں سب جانتے ہیں، یہ کوئی راز نہیں ہے،، اور ہم ایسا نہیں ہونے دے سکتے۔‘‘ انہوں نے کہا، ’’ہم انہیں۴؍ ارب دے رہے تھے، ہم دے رہے ہیں، لیکن یہ سال کے آخر میں ختم ہو جائےگا۔ کیوں؟ کیونکہ انہیں اس کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK