Updated: June 17, 2026, 9:02 PM IST
| Bern
رولیکس نے کسی ہائی اسٹریٹ پر شوروم قائم کرنے کے بجائے، اپنا جدید ترین بوٹیک یورپ کے سب سے مشکل ترین مقامات میں سے ایک پر قائم کیا ہے، جس کا مقصد دکان پر عام گاہکوں کی آمد و رفت کے بجائے اپنی انفرادیت اور مہم جوئی پر مبنی امیج کو مزید مستحکم بنانا ہے۔
رولیکس نے دنیا کے سب سے زیادہ اونچائی پر واقع واچ بوٹیک (گھڑیوں کے شوروم) کا افتتاح کیا ہے۔ یہ شوروم سطح سمندر سے ۳۰۰۰ میٹر سے زائد بلندی پر سوئس الپس میں ماؤنٹ ٹٹلس (Mount Titlis) کی چوٹی پر واقع ہے۔ رولیکس کا بوٹیک ’ٹٹلس ٹاور‘ نامی عمارت کے اندر قائم کیا گیا ہے۔ یہ عمارت اصل میں ۱۹۸۰ء کی دہائی میں ٹیلی کمیونیکیشن ٹاور کے طور پر تعمیر کی گئی تھی لیکن اب اسے ایک پرتعیش اور منفرد ریٹیل مقام میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
اس ۵۶ میٹر بلند ٹاور کو سوئس آرکیٹیکچر فرم ’ہرزوگ اینڈ ڈی میورون‘ (Herzog & de Meuron) نے ڈیزائن کیا ہے۔ یہاں تک رسائی صرف کیبل کار کے ذریعے ممکن ہے، جس کے یکطرفہ ٹکٹ کی قیمت فی شخص ۱۲ ہزار روپے سے زیادہ ہے۔ یہاں آنے والے شائقین کو نہ صرف رولیکس بوٹیک تک رسائی ملتی ہے بلکہ وہ یورپ کے سب سے اونچے معلق پل (suspension bridge) ’ٹٹلس کلف واک‘ اور ایک ۵۰۰۰ سال پرانی گلیشیئر غار کی سیر بھی کر سکتے ہیں۔ اس چوٹی پر ’ہوزائن ڈیک‘ (Horizon Deck) بھی موجود ہے، جو گلیشیئر سے ۵۵ میٹر اوپر بنا ہوا ویونگ پلیٹ فارم (منظر گاہ) ہے۔ یہاں سے الپس کے پار اٹلی، سوئس سطح مرتفع (Swiss Plateau)، جرمنی اور فرانس تک کے لامتناہی نظارے دیکھے جا سکتے ہیں۔
رولیکس بوٹیک
اس شوروم کو خود رولیکس کی ملکیتی ریٹیلر کمپنی ’بوخرر‘ (Bucherer) کے ذریعے چلایا جاتا ہے اور اس میں ’ورڈے الپی‘ (Verde Alpi) ماربل کی دیوار کے ساتھ قدرتی پتھر اور لکڑی کا کام کیا گیا ہے، جبکہ الپس کے خوبصورت مناظر کو زیادہ سے زیادہ دکھانے کیلئے دیواروں کا ایک بڑا حصہ شیشے سے بنایا گیا ہے۔
’لکس میگزین سوئٹزرلینڈ‘ (LUXE Magazine Switzerland) کے مطابق، رولیکس بوٹیک کا مقام کوئی اتفاقی نہیں بلکہ یہ کمپنی کی تاریخی شناخت کی عکاسی کرتا ہے۔ رولیکس ایک ایسا برانڈ ہے جو طویل عرصے سے کوہ پیماؤں، غوطہ خوروں، پائلٹوں اور مہم جوؤں سے وابستہ رہا ہے جو انتہائی ناموافق حالات میں اس کی گھڑیوں پر انحصار کرتے تھے جہاں سب سے بڑھ کر پائیداری اور بھروسے کی ضرورت ہوتی تھی۔
رولیکس نے کسی روایتی ہائی اسٹریٹ (تجارتی بازار) پر شوروم قائم کرنے کے بجائے، اپنا جدید ترین بوٹیک یورپ کے سب سے مشکل ترین مقامات میں سے ایک پر قائم کیا ہے، جس کا مقصد دکان پر عام گاہکوں کی آمد و رفت کے بجائے اپنی انفرادیت اور مہم جوئی پر مبنی امیج کو مزید مستحکم بنانا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اہرامِ مصر نے ۴۵۰۰ برسوں تک متعدد زلزلوں کا سامنا کیسے کیا؟ تحقیق نے اس راز سے پردہ اٹھایا
سطح سمندر سے ۹ ہزار فٹ بلندی پر ایک ریسٹورنٹ
ٹٹلس ٹاور میں ’جوزفز ریسٹورنٹ‘ (Joseph`s Restaurant) بھی قائم ہے جو اب باضابطہ طور پر کھل چکا ہے۔ اس ریسٹورنٹ میں تقریباً ۱۲۰ مہمانوں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے جو تقریباً ۴۲ ہزار روپے کی قیمت میں فور-کورس ایلپائن فائن ڈائننگ (اعلیٰ درجے کے پکوان) کا لطف اٹھا سکتے ہیں۔ اس ریسٹورنٹ کا نام اینجلبرگ کے جوزف کسٹر کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کیلئے رکھا گیا ہے، جنہوں نے ولی امرہین کے ساتھ مل کر ۲۱ جنوری ۱۹۰۴ء کو پہلی بار اسکیز (skis) پر ٹٹلس کی چوٹی سر کی تھی۔