Updated: June 17, 2026, 8:05 PM IST
| Tel Aviv
’ماریو‘ (Maariv) کے کالم نگار بین کاسپٹ نے اپنے مضمون بعنوان ”نیتن یاہو کا شو ختم ہوگیا: ٹرمپ نے انہیں بس کے نیچے دھکیل دیا“ میں لکھا ہے کہ ”ایک بار پھر، اسرائیل کو تصویر سے باہر چھوڑ دیا گیا۔ نیتن یاہو کا انجام ہمیشہ ایک ہی پوزیشن پر ہوتا ہے۔ انہیں ایک طرف دھکیل دیا جاتا ہے، بس کے نیچے پھینک دیا جاتا ہے اور ایک ڈانٹے ہوئے بچے کی طرح راہداری میں کھڑا چھوڑ دیا جاتا ہے۔“
اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو۔ تصویر: ایکس
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے واشنگٹن اور تہران کے درمیان طے پانے والی یادداشت مفاہمت (ایم او یو) سے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجامن نیتن یاہو کو بے دخل کئے جانے کے بعد، اسرائیلی تبصرہ نگاروں نے اسرائیلی لیڈر پر شدید تنقید کرتے ہوئے انہیں ”ناکام شخص“ اور ”جھوٹا“ قرار دیا ہے۔ پیر کی شام، نیتن یاہو نے اعتراف کیا کہ وہ امریکہ-ایران معاہدے کی تفصیلات سے لاعلم تھے۔ اس موقع پر انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ انہوں نے اسرائیلیوں کو ”ایٹمی تباہی“ سے بچایا ہے۔ انہوں نے ٹرمپ کے ساتھ اختلافات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ”اس طرح کے اختلافات بہترین خاندانوں میں بھی ہوتے ہیں۔“
یہ بھی پڑھئے: ”ذہنی طور پر کمزور“ ٹرمپ کے ساتھ مذاکرات کیلئے ایران نےاپنی ٹیم میں ماہرین نفسیات کو شامل کیا: رپورٹ
تاہم، ٹرمپ لبنان میں اسرائیل کے فوجی حملوں کی وجہ سے نیتن یاہو پر پہلے ہی شدید برہم تھے۔ انہوں نے ’ایکزیوس‘ (Axios) کو بتایا کہ ”نیتن یاہو کی عقل بالکل ماری گئی ہے۔“ اس سے قبل، ۲ جون کو ایک تلخ فون کال کے دوران ٹرمپ نے نیتن یاہو کو ”شدید پاگل“ قرار دیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اور ایران پہلے ہی معاہدے پر دستخط کر چکے ہیں اور آبنائے ہرمز جمعہ تک مکمل طور پر دوبارہ کھل جائے گی۔ تہران نے تصدیق کی کہ معاہدے پر ۱۹ جون کو سوئٹزرلینڈ میں باضابطہ دستخط کئے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ نے اسرائیل کو دستخط سے قبل ایران معاہدے کا متن دکھانےسے انکار کیا: رپورٹ
’بے شرمی کے ساتھ، ناکامی کا معمار‘
معروف اسرائیلی روزنامے ’ہاریٹز‘ (Haaretz) کے کالم نگار یوسی ورٹر نے لکھا کہ ”نیتن یاہو اس وقت ایسی پوزیشن پر کھڑے ہیں جسے کوئی بھی غیر جانبدار ماہر ایک بہت بڑی اسٹریٹجک ناکامی کہے گا۔“ انہوں نے نوٹ کیا کہ ”نیتن یاہو گزشتہ ۳۰ سال سے ایک ہی وعدہ دہرا رہے ہیں کہ ایران کبھی ایٹمی ہتھیار نہیں بنا پائے گا۔“ ورٹر نے مزید لکھا کہ ”نیتن یاہو کو اس بات کا کوئی اندازہ نہیں ہے کہ اس یادداشت مفاہمت میں کیا شامل ہے جس پر امریکہ اور ایران نے ان کے پیٹھ پیچھے ڈجیٹل دستخط کئے ہیں۔ جبکہ ایرانی جانتے ہیں۔ پاکستانی جانتے ہیں۔ اور غالباً قطری بھی جانتے ہیں۔“ انہوں نے حزب اللہ کے حملے کو روکنے کے نیتن یاہو کے دعوے کو بھی ”سراسر جھوٹ“ قرار دیتے ہوئے نتیجہ اخذ کیا کہ نیتن یاہو کی پریس کانفرنس سے ”شکست کا تاثر“ ابھرتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ کا اپنا وجود اسرائیل کا مرہون منت ہے: امریکی سفیر
’نیتن یاہو کا شو ختم ہو چکا ہے‘
’ماریو‘ (Maariv) کے کالم نگار بین کاسپٹ نے اپنے مضمون بعنوان ”نیتن یاہو کا شو ختم ہوگیا: ٹرمپ نے انہیں بس کے نیچے دھکیل دیا“ میں لکھا ہے کہ نیتن یاہو کی طرف سے ”یقینی موت سے بچنے“ کے انتباہات اس لئے تیار کئے گئے تھے تاکہ ایران کے معاملے پر اسرائیل کی ناکامیوں کی ذمہ داری کو چھپایا جا سکے۔ کاسپٹ نے ۲۰۱۵ء میں دستخط کئے گئے پچھلے معاہدے سے حالیہ معاہدے میں نظرانداز کئے جانے کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ ”ایک بار پھر، اسرائیل کو تصویر سے باہر چھوڑ دیا گیا۔ نیتن یاہو کا انجام ہمیشہ ایک ہی پوزیشن پر ہوتا ہے۔ انہیں ایک طرف دھکیل دیا جاتا ہے، بس کے نیچے پھینک دیا جاتا ہے اور ایک ڈانٹے ہوئے بچے کی طرح راہداری میں کھڑا چھوڑ دیا جاتا ہے۔“
یہ بھی پڑھئے: لبنان سے اسرائیلی فوجیں نہیں ہٹائی جائیں گی: نیتن یاہو
’نیتن یاہو کی سب سے بڑی ذلت‘
’والا‘ (Walla) کے تبصرہ نگار براک سیری نے لکھا کہ ”نیتن یاہو کی فتح کا احساس، صرف ایک دن کے اندر ان کی سب سے بڑی تشویش اور سب سے بڑی ذلت میں بدل گیا۔“ سیری نے نوٹ کیا کہ نیتن یاہو مارچ سے اسرائیلی میڈیا سے گریز کر رہے تھے اور بنیادی طور پر امریکی ذرائع ابلاغ سے بات کر رہے تھے، لیکن انہوں نے اپنی خاموشی ”معاہدے کے مایوس کن انجام“ اور اپنے ہی حامیوں میں پھیلی بے چینی کی وجہ سے توڑی۔ مبینہ طور پر سینئر اسرائیلی حکام نے اس ڈیل کو ”اسرائیل کیلئے برا اور خطرناک“ قرار دیا جس میں جنگ کا کوئی بھی طے شدہ مقصد حاصل نہیں ہو سکا۔ سیری نے مزید کہا کہ ”ٹرمپ نے نیتن یاہو کو عوامی سطح پر حقیقی ذلت کا نشانہ بنایا ہے۔“