Inquilab Logo Happiest Places to Work

فلسطینی فلم’ دی وائس آف ہند رجب‘ اسرائیل اور امریکہ کو چیلنج کرتی ہے

Updated: June 17, 2026, 1:00 PM IST | Anand Patwardhan | Mumbai

اس فلم کی ۱۹؍جون سے ہندوستان کے ۱۰۰؍ سے زائد سینما گھروں میں نمائش ہوگی۔ فلم انگریزی ٹائٹلز کے ساتھ ہے، اسلئے اس کی رسائی محدود رہے گی لیکن اگر ہم انگریزی جاننے والے بڑی تعداد میں سینما گھروں کا رخ کریں تو شاید اسے دوسری زبانوں میں بھی پیش کیا جا سکے۔

Film Poster.Photo:INN
فلم پوسٹر۔ تصویر:آئی این این
حالیہ برسوں میں،جو فلمیں میں نے دیکھی ہیں، ان میں ’دی وائس آف ہند رجب‘ کومیں سب سے طاقتور اور دل کو جھنجھوڑ دینے والی فلموں میں سے ایک مانتا ہوں ۔ یہ فلم ممبئی کے’جی فائیو اے‘میں اس وقت نمائش کیلئے پیش کی گئی، جب ہندوستان کے سنسر بورڈ نے بالآخر اسے ریلیز کی اجازت دے دی۔ مارچ میں سینسر بورڈ نے یہ کہہ کر فلم کی نمائش روک دی تھی کہ اس سے ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔
ہندرجب ایک ۵؍ سالہ فلسطینی بچی تھی جو جنوری ۲۰۲۴ء میں غزہ میں ایک ایسی گاڑی میں پھنس گئی تھی جس پر اسرائیلی فوجیوں نے فائرنگ کی تھی۔ اس کے اہل خانہ مارے گئے مگر ہند گاڑی کی نشستوں کے درمیان چھپ گئی۔ اس کے چچا نے اس سے فون پر رابطہ قائم کیا اور پھر اس کا نمبر ریڈ کریسنٹ کے رضاکاروں کو دیا، جو مغربی کنارے سے سرچ اینڈ ریسکیو کارروائیوں کو مربوط کرنے والی نہایت بہادر  بین الاقوامی اور فلسطینی تنظیم ہے۔
رضاکاروں نے فون پر ہندرجب کی ہمت بندھائے رکھنے کی  ہر ممکن کوشش کی، اس دوران  وہ اسرائیلی فوج سے ایمبولینس بھیجنے کی اجازت حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے کیونکہ ایسے کئی امدادی مشن میں اسرائیلی کارروائیوں کے دوران رضاکار مارے جا چکے تھے، اسلئے سرکاری اجازت انتہائی ضروری تھی۔ تمام سڑکوں اور نقل و حرکت پر اسرائیلی فوج کا کنٹرول تھا اور اجازت میں مسلسل تاخیر کی جاتی رہی، جو بعد میں دیکھنے سے شاید دانستہ معلوم ہوتی ہے۔
ہند کی ایک دن کے دوران ہونے والی تقریباً۷۰؍ منٹ کی فون ریکارڈنگز اس فلم کی روح ہے ۔ یہی فلم کا واحد دستاویزی حصہ بھی ہیں۔ باقی کہانی کو باریک بینی سے کی گئی تحقیق کی بنیاد پر دوبارہ تخلیق کیا گیا ہے اور اسے شاندار اداکاری، ہدایتکاری اور ایڈیٹنگ کے ذریعے ایک ایسی تخلیق میں ڈھالا گیا ہے جو سچائی کو مؤثر انداز میں بیان کرتی ہے۔
فلم کی نمائش کے بعد فلم ساز کوثر بن ہانیہ نے ویڈیو کال کے ذریعے اپنی خوشی کا اظہار کیا کہ ان کی فلم ہندوستان میں دیکھی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں ہندوستانی سنیما سے لگاؤ ہے ان کے خطے میں بے حد مقبول ہے۔یہ فلم دیکھنے کے بعد میری یہ خواہش ہے کہ سینسر بورڈ کا خدشہ درست ثابت ہوجائے۔ شاید واقعی ہمارے تعلقات ایک ایسی حکومت سے کچھ حد تک متاثر ہوں جسے میں نسل کشی کی مرتکب سمجھتا ہوں۔ میری جوانی کے زمانے میں تو ہمیں اس ملک کا سفر کرنے کی بھی اجازت نہیں تھی۔
انگریزی تعلیم یافتہ دیگر ہندوستانیوں کی طرح میری پرورش بھی ہولوکاسٹ کی داستانیں اور ’لیون یوریس‘ کے ناول، جیسے ایگزوڈس اور میلا ۱۸؍پڑھتے ہوئے ہوئی۔ ہم دنیا بھر کے یہودیوں کے ساتھ ہمدردی رکھتے تھے جنہوں نے صدیوں تک ظلم و ستم برداشت کیا تھا، اور آج بھی میں ان کے ساتھ ہمدردی رکھتا ہوں لیکن اب میں اس عام تصور پر یقین نہیں رکھتا کہ اسرائیل ایک ایسی ’’زمین جس پر کوئی آباد نہ تھا، ایک ایسی قوم کیلئے جس کا کوئی وطن نہ تھا‘‘ کے نظریے کے تحت وجود میں آیا۔اب میں جانتا ہوں کہ فلسطین مسلمانوں، عیسائیوں  اور یہودیوں کی مشترکہ سرزمین تھی، جو صدیوں تک نسبتاً ہم آہنگی کے ساتھ وہاں آباد رہے۔ یورپ کے برعکس یہاں یہودیوں کیخلاف قتل عام یا منظم فسادات نہیں ہوتے تھے۔
خوش قسمتی سے ہندوستان کی قیادت مجھ سے زیادہ جانتی تھی اور ہالی ووڈ کے اثر سے کم متاثر تھی۔ مہاتما گاندھی  دنیا کے اولین رہنماؤں میں شامل تھے، شاید سب سے پہلے، جنہوں نے اسرائیل کے قیام کی مخالفت کی۔ انہوں نے ۱۹۳۸ء میں، اسرائیل کے وجود میں آنے سے پہلے ہی، فلسطینی زمینوں پر قبضے کے خلاف آواز اٹھائی تھی اور پھر ۱۹۴۸ءمیں بھی یہی موقف دہرایا۔ گاندھی ان یہودیوں سے ہمدردی رکھتے تھے جنہوں نے جرمنی اور یورپ کے دیگر حصوں میں شدید مظالم جھیلے تھے، لیکن ان کا کہنا تھا کہ ’’زیادہ باوقار راستہ یہ ہوگا کہ جہاں بھی یہودی پیدا ہوئے اور پلے بڑھے ہیں، وہاں ان کے ساتھ انصاف کا مطالبہ کیا جائے۔ فرانس میں پیدا ہونے والے یہودی اسی طرح فرانسیسی ہیں جیسے فرانس میں پیدا ہونے والے عیسائی فرانسیسی ہیں۔‘‘گاندھی جی  نے یہ بھی کہاتھا کہ ’’فلسطین عربوں کا ہے، اسی طرح جیسے انگلستان انگریزوں کا اور فرانس فرانسیسیوں کا ہے۔‘‘
گاندھی ہر قسم کی تقسیم کے مخالف تھے۔ وہ انسانوں کو مصنوعی قوم پرستی کے نام پر ایک دوسرے سے جدا کرنے کے خلاف تھے، ایسی قوم پرستی جو اکثر صرف حکمران طبقے یا نوآبادیاتی و سامراجی طاقتوں کے مفاد میں ہوتی ہے۔ شاید وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ صیہونیت کا تصور خود یہودیوں سے نہیں بلکہ سامراجی اور عیسائی بحالی پسند تحریکوں سے جنم لیا تھا۔
دوسری طرف، آزاد ہندوستان کے ابتدائی عشروں میں گاندھی اور نہرو کا ہندوستان تھا۔ میرے ہندوستانی پاسپورٹ پر دو ملکوں کا سفر ممنوع تھا: نسل پرست جنوبی افریقہ اور نسل پرست اسرائیل۔ جنوبی افریقہ اب نسلی امتیاز کی اس پالیسی پر عمل نہیں کرتا، لیکن اسرائیل اب بھی کرتا ہے۔ ہندوستانی مزدوروں اور دنیا بھر سے آنے والے غیر سفید فام تارکین وطن کو وہاں نسل پرستی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ فلسطینی، جو اس زمین کے اصل باشندے ہیں، روزانہ عدم تحفظ، اور بدترین حالات میں تشدد، جنسی زیادتی اور موت کا سامنا کرتے ہیں۔
ہولوکاسٹ کے متاثرین کی سرزمین ہونے کے ناطے اسرائیل کو جو غیر مشروط حمایت حاصل تھی، غزہ میں ہونے والی نسل کشی کے بعد وہ دور ختم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ یہاں تک کہ جرمنی، جو ماضی کے احساسِ جرم کے باعث اسرائیل پر تنقید سے گریز کرتا تھا، اب تحفظات ظاہر کرنے لگا ہے۔ صہیونیت اب بین الاقوامی سطح پر ایک مثبت اصطلاح نہیں رہی اور اس پر تنقید کو’یہود دشمنی‘کہہ کر رد کرنا آسان نہیں رہا۔
 
 
 
البتہ آج کے ہندوستان میں صورتحال مختلف ہے۔ گاندھی اور نہرو کا دور، اور اس کے ساتھ سوشلزم، سیکولرازم اور جمہوریت کے تصورات، بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ ’طاقتور ہندو قوم پرستی‘ کا عروج  جس کے دوران گاندھی کو مسلمانوں سے بھائی چارے کی وکالت پر قتل کر دیا گیا تھا کسی حد تک ان انتہا پسند صہیونیوں کے عروج سے مشابہ ہے جنہوں نے امن کے خواب دیکھنے والے اسرائیلی وزیر اعظم رابین کو قتل کر دیا۔
ایسے شواہد موجود ہیں کہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے شدت پسند ہندو تنظیموں سے روابط تھے اور اس نے ان کی مدد بھی کی، اُس وقت جب ’ہندو انتہا پسند‘ ابھی اقتدار میں نہیں آئے تھے۔ آج اسرائیل اورنریندر مودی کا ہندوستان اسلحے کی تجارت کرتے ہیں اور غزہ میں جاری نسل کشی کے دوران بھی ایک دوسرے کے شراکت دار ہیں۔ مسلمانوں کے خلاف نفرت دونوں میں مشترک ہے، اور فلسطین کے حق میں مظاہروں کی اجازت شاذونادر ہی دی جاتی ہے۔
بہرکیف، اس مضمون کا محرک بننے والی فلم کی طرف لوٹتے ہیں، ہم نے’دی وائس آف ہندررجب‘ پر ہندوستان میں عائد پابندی کے خلاف ایک بین الاقوامی دستخطی مہم چلائی تھی، جس میں اداکارنصیرالدین شاہ، ہدایت کار مارٹن ڈک ورتھ اور دنیا بھر کے ممتاز فلم ساز شامل تھے۔ جو بھی وجہ رہی ہو، آخرکار پابندی ہٹا دی گئی، اور اس پر میں دل سے شکر گزار ہوں۔ شرمندگی کا ایک لمحہ کم ہوا۔
 
 
 
اب اگلا مرحلہ یہ ہے کہ ایک بہادر ڈسٹری بیوٹر کمپنی’جے وی ای ایل ‘  نے اس فلم کی ذمہ داری اٹھائی ہے، اور۱۹؍جون سے ہندوستان کے ۱۰۰؍ سے زائد سینما گھروں میں’دی وائس آف ہندرجب‘کی نمائش ہوگی۔ فلم انگریزی ٹائٹلز کے ساتھ ہے، اسلئے  اس کی رسائی محدود رہے گی لیکن اگر ہم انگریزی جاننے والے بڑی تعداد میں سینما گھروں کا رخ کریں تو شاید اسے دوسری زبانوں میں بھی پیش کیا جا سکے۔
یہ ہندوستان کے لئے  ایک اہم لمحہ ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ یہ فلم نہ صرف جنگی علاقوں میں جان خطرے میں ڈالنے والے امدادی رضاکاروں کی بہادری دکھاتی ہے بلکہ انسانیت کے قتل کی گواہی بھی دیتی ہے، جسے ہم دنیا کے مختلف حصوں میں تقریباً روزانہ دیکھتے ہیں۔ یہ فلم اسرائیل کے ’مظلوم‘ ہونے کے تصور اور امریکہ کے ’نجات دہندہ‘ ہونے کے افسانے کو چیلنج کرتی ہے، جو دنیا بھر میں جاری جارحیت کی مالی معاونت کرتا ہے۔ یہ دنیا کے طاقتور اور امیر طبقات کی جانب سے غریب اور لاچار انسانوں پر ڈھائے جانے والے ظلم پر ایک بے لاگ تبصرہ ہے۔ یہ ہمارے ضمیر کی وہ اندرونی آواز ہے، جسے ہمیں مرنے نہیں دینا چاہیے۔n
(بشکریہ :اسکرول ڈاٹ اِن 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK