Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹی سی ایس ناسک کیس: پانچ ملزمان کو ضمانت دی، مقدمے کی سماعت جاری رہے گی

Updated: August 03, 2026, 5:09 PM IST | Mumbai

مہاراشٹر کے ناسک کی ایک عدالت نے ٹاٹا کنسلٹنسی سروسیز (ٹی سی ایس) کے ناسک یونٹ میں جنسی ہراسانی اور مبینہ مذہبی تبدیلیٔ مذہب سے متعلق درج مقدمات میں گرفتار پانچ ملزمان کو ضمانت دے دی ہے۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ تفتیش مکمل ہو چکی ہے، چارج شیٹ عدالت میں داخل کی جا چکی ہے اور موجودہ مرحلے پر ایسے شواہد سامنے نہیں آئے جن سے یہ ظاہر ہو کہ ملزمان ضمانت پر رہا ہونے کی صورت میں ثبوتوں سے چھیڑ چھاڑ کریں گے یا گواہوں کو متاثر کریں گے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

مہاراشٹر کے شہر ناسک کی ایک سیشن عدالت نے ٹاٹا کنسلٹنسی سروسیز (ٹی سی ایس) کے ناسک بی پی او یونٹ میں جنسی ہراسانی، استحصال اور مبینہ مذہبی تبدیلیٔ مذہب سے متعلق مقدمات میں گرفتار پانچ ملزمان کو ضمانت دے دی ہے۔ عدالت کا یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اس حساس معاملے کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) اپنی پہلی چارج شیٹ پہلے ہی عدالت میں پیش کر چکی ہے۔ عدالتی حکم کے مطابق استغاثہ کی جانب سے تحقیقات مکمل کیے جانے اور چارج شیٹ داخل ہونے کے بعد ملزمان کی مزید عدالتی تحویل ضروری نہیں سمجھی گئی۔ عدالت نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ موجودہ ریکارڈ کی بنیاد پر یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ ملزمان ضمانت پر رہائی کے بعد شواہد کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کریں گے یا گواہوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کریں گے۔ تاہم عدالت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ صرف ضمانت کا حکم ہے، اس سے مقدمے کی میرٹ پر کوئی حتمی رائے قائم نہیں ہوتی اور نہ ہی اسے ملزمان کی بے گناہی کا ثبوت سمجھا جا سکتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: نیویارک: میئر ظہران ممدانی کی نانی پروین نائر ۹۴؍ برس کی عمر میں انتقال کر گئیں

یہ مقدمہ رواں برس اس وقت منظرِ عام پر آیا تھا جب ٹی سی ایس کے ناسک یونٹ میں کام کرنے والی متعدد خواتین ملازمین نے جنسی ہراسانی، ذہنی استحصال اور مذہبی دباؤ سے متعلق شکایات درج کرائیں۔ ان شکایات کے بعد پولیس نے مختلف دفعات کے تحت متعدد ایف آئی آر درج کیں اور معاملے کی حساسیت کے پیش نظر خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی۔ بعد ازاں کئی ملازمین کو گرفتار کیا گیا جبکہ کمپنی نے بھی زیرِ تفتیش ملازمین کو معطل کرنے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ ہر قسم کی ہراسانی اور جبر کے خلاف ’’زیرو ٹالرنس‘‘ کی پالیسی پر عمل کرتی ہے۔ 

پولیس کی جانب سے عدالت میں داخل کی گئی پہلی چارج شیٹ تقریباً پندرہ سو صفحات پر مشتمل ہے، جس میں مختلف ملزمان کے خلاف درج ایف آئی آرز اور تحقیقات کے دوران جمع کیے گئے مواد کا حوالہ دیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق ان مقدمات میں مجموعی طور پر متعدد افراد کے خلاف کارروائی کی گئی ہے اور تحقیقات کے مختلف مراحل میں کئی گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق ضمانت دینے کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہوتا کہ عدالت نے الزامات کو غلط قرار دے دیا ہے۔ فوجداری قانون میں ضمانت کا مقصد صرف یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ آیا ملزم کو مقدمے کی سماعت تک حراست میں رکھنا ضروری ہے یا نہیں۔ اصل الزامات، شواہد، گواہوں کے بیانات اور دیگر مواد کا جائزہ ٹرائل کے دوران لیا جاتا ہے، جس کے بعد عدالت حتمی فیصلہ سناتی ہے۔ خیال رہے کہ اس معاملے میں ندا خان اور اشوینی اشوک کو پہل ہی ضمانت مل چکی ہے۔ حال ہی میں ضمانت پر رہا ہونے والے ۵؍ ملزمین رضا رفیق میمن، آصف آفتاب انصاری، شاہ رخ حسین شوکت قریشی، شفیع بھیکان شیخ اور توصیف بلال عطار ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: بریج بھوشن شرن سنگھ خاتون پہلوانوں کے جنسی ہراسانی کیس میں بری

قابلِ ذکر ہے کہ اسی مقدمے میں مختلف اوقات میں بعض دیگر ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں مسترد بھی کی جا چکی ہیں، جبکہ کچھ درخواستوں پر عدالت نے بعد میں مختلف قانونی اور حقائق پر مبنی بنیادوں پر الگ الگ فیصلے صادر کیے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہر ملزم کی درخواست کا جائزہ اس کے انفرادی کردار، اس کے خلاف موجود مواد اور تفتیش کی پیش رفت کی بنیاد پر لیا جا رہا ہے، نہ کہ ایک ہی معیار کو تمام درخواستوں پر یکساں طور پر لاگو کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب مقدمے کی اصل سماعت بدستور جاری رہے گی۔ استغاثہ کو عدالت میں اپنے شواہد پیش کرنے ہوں گے، جبکہ ملزمان کو بھی اپنے دفاع کا مکمل قانونی حق حاصل ہوگا۔ عدالت نے اپنے حالیہ حکم میں کسی بھی الزام کی صداقت یا عدم صداقت پر کوئی حتمی رائے ظاہر نہیں کی، بلکہ صرف ضمانت کی درخواستوں پر دستیاب قانونی معیار کے مطابق فیصلہ سنایا ہے۔ اس لیے مقدمے کے حتمی نتائج کا انحصار ٹرائل کے دوران پیش ہونے والے شواہد اور عدالتی کارروائی پر ہوگا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK