Updated: August 03, 2026, 4:03 PM IST
| New Delhi
معروف فلم ساز میرا نائر کی والدہ، نیویارک کے میئر ظہران ممدانی کی نانی اور سماجی کارکن ڈاکٹر پروین نائر ۹۴؍ برس کی عمر میں انتقال کر گئی ہیں۔ انہوں نے تقریباً ۶۰؍ سال سماجی خدمت کے لیے وقف کیے اور سلام بالک ٹرسٹ (Salaam Baalak Trust) کی شریک بانی تھیں، جس نے دہلی کے ایک لاکھ ۷۰؍ ہزار سے زائد بے سہارا اور سڑکوں پر رہنے والے بچوں کی مدد کی۔ ظہران ممدانی کا وائرل ریپ گانا ’’Nani‘‘ بھی انہی سے منسوب تھا۔
ظہران ممدانی اپنی والدہ میرا نائر کے ساتھ، دوسری تصویر میں ان کی نانی پروین نائر۔ تصویر: آئی این این
ہندوستان کی ممتاز سماجی کارکن، سلام بالک ٹرسٹ (Salaam Baalak Trust) کی شریک بانی اور معروف فلم ساز میرا نائر کی والدہ ڈاکٹر پروین نائر ۹۴؍ برس کی عمر میں انتقال کر گئی ہیں۔ وہ نیویارک کے میئر ظہران ممدانی کی نانی بھی تھیں، جنہوں نے ۲۰۱۹ء میں اپنی نانی کے نام پر مشہور ریپ گانا ’’Nani‘‘ پیش کیا تھا۔ پروین نائر نے اپنی زندگی کے تقریباً چھ دہائیاں سماجی خدمت کے لیے وقف کیں۔ انہوں نے ۱۹۸۸ء میں فلم ’’سلام بامبے‘‘ سے حاصل ہونے والی آمدنی کی مدد سے سلام بالک ٹرسٹ کے قیام میں مرکزی کردار ادا کیا۔ اس ادارے نے ابتدا میں صرف تین عملے کے ارکان، ۲۵؍ بچوں اور نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر ایک چھوٹی سی جگہ سے کام شروع کیا، مگر وقت کے ساتھ یہ ملک کے معروف فلاحی اداروں میں شامل ہو گیا۔
یہ بھی پڑھئے: آسٹریلیا:لائبریری سے۱۵۰؍ سال قبل لی گئی کتاب لوٹائی گئی، جرمانہ ۱۸؍ لاکھ۷۰؍ہزار
ان کے انتقال کی اطلاع ٹرسٹ کے شریک بانی اور جے پور لٹریچر فیسٹیول کے منتظم سنجوئے رائے نے دی۔ انہوں نے ایکس پر لکھا کہ ’’ایک عہد کا خاتمہ ہو گیا! پروین نائر ۹۴؍ برس کی عمر میں ہم سے رخصت ہو گئیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ہم نے دہلی میں اپنے گھروں اور رابطہ مراکز کے ذریعے ایک لاکھ ۷۰؍ ہزار سے زیادہ بچوں کی دیکھ بھال کی۔ بچوں کے لیے ان کی غیر معمولی بصیرت، ہمدردی، محبت اور سماجی خدمت سے وابستگی ہی ان کی ہمیشہ زندہ رہنے والی میراث ہوگی۔‘‘
سلام بالک ٹرسٹ آج بھی دہلی اور اس کے اطراف میں سڑکوں پر رہنے والے اور محنت کش بچوں کو رہائش، خوراک، لباس، تعلیم، صحت، مشاورت اور تفریح جیسی بنیادی سہولتیں فراہم کرتا ہے۔ پروین نائر نے صرف دہلی ہی نہیں بلکہ ادیشہ میں بھی کئی دہائیوں تک سماجی شعبے میں خدمات انجام دیں۔ وہ ریڈ کراس، ڈی اے وی پبلک اسکول اور ڈیف اینڈ ڈمب اسوسی ایشن سمیت مختلف اداروں سے وابستہ رہیں۔ بعد میں انہوں نے دہلی میں سڑکوں پر رہنے والے بچوں کے حقوق کے لیے پالیسی سازی اور قانون سازی سے متعلق فورمز پر بھی سرگرم کردار ادا کیا۔
یہ بھی پڑھئے: اویس یعقوب نے ناقابلِ شکست بلغارین حریف کو صرف ۴؍ منٹ میں ڈھیر کردیا
ان کی خدمات کے اعتراف میں سلام بالک ٹرسٹ کو ۲۰۱۱ء میں صدرِ ہند کا نیشنل ایوارڈ فار چائلڈ ویلفیئر ملا، جبکہ خود پروین نائر کو ۲۰۱۷ء میں جمنالال بجاج ایوارڈ سے نوازا گیا۔ انہیں آسٹریلیا کی CQUniversity نے سماجی اختراع (Social Innovation) کے میدان میں اعزازی ڈاکٹریٹ بھی عطا کی تھی۔ ان کے نواسے ظہران ممدانی نے سیاست میں آنے سے قبل Mr Cardamom کے نام سے موسیقی تخلیق کی تھی۔ ان کا گانا ’’Nani‘‘ اپنی نانی پروین نائر کے نام ایک خراجِ تھا، جس میں انہوں نے اپنی نانی کی آزاد مزاج شخصیت اور غیر روایتی زندگی کو خراج پیش کیا۔
۲۰۱۹ء میں دی نیویارک ٹائمزز کو دیے گئے انٹرویو میں ظہران ممدانی نے کہا تھا کہ ان کی نانی نے زندگی بھر روایت سے ہٹ کر فیصلے کیے اور یہی بات انہیں دوسروں سے ممتاز بناتی تھی۔ پروین نائر کے انتقال پر سماجی کارکنوں، ادبی حلقوں اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ انہیں ایک ایسی شخصیت کے طور پر یاد کیا جا رہا ہے جس نے شہرت کے بجائے خاموشی سے ہزاروں محروم بچوں کی زندگی بدلنے کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا۔