ٹی وی اور فلم اداکارہ پرکھ مدان کا کہنا ہےکہ کریئر میں اکثر ایسی باتیں ہوتی ہیں جن سے کچھ سیکھنے کو ملتا ہے، میں نےاداکاری کی کوئی روایتی ٹریننگ نہیں لی ہے، بس کام کرتے کرتے ہی سیکھا ہے۔
EPAPER
Updated: January 18, 2026, 11:41 AM IST | Abdul Karim Qasim Ali | Mumbai
ٹی وی اور فلم اداکارہ پرکھ مدان کا کہنا ہےکہ کریئر میں اکثر ایسی باتیں ہوتی ہیں جن سے کچھ سیکھنے کو ملتا ہے، میں نےاداکاری کی کوئی روایتی ٹریننگ نہیں لی ہے، بس کام کرتے کرتے ہی سیکھا ہے۔
پرکھ مدان شوبزانڈسٹری کا معروف چہرہ ہیں۔ شائقین انہیں نام سے نہ سہی لیکن ان کے چہرے سے ضرور پہچانتے ہیں۔ ۲۰۰۶ء سے شوبز انڈسٹری میں مصروف رہنے والی اداکارہ کا تعلق چھتیس گڑھ کے بھلائی شہر سے ہے۔ انہوں نے ’ساتھی رے سات قدم سات جنم‘ سےاپنے کریئر کی شروعات کی تھی۔ اس شو میں انہوں نے سُمن کا مرکزی کرداراداکیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے ٹی وی پر مسلسل کام کیا۔ ان کے شو زمیں ’ برے بھی ہم بھلے بھی ہم، مونیکا موگرے کیس فائلزاورپیا کا گھر‘ شامل ہیں۔ ان کے علاوہ انہوں نے ’بڑے اچھے لگتے ہیں، رشتوں کے بھنور میں الجھی نیتی، ساؤدھان انڈیا، تمہاری پاکھی، سپنے سہانے لڑکپن کے اورکلش ایک وشواس‘ میں اہم رول ادا کئے۔ ۲۰۱۶ء میں ان کی طبیعت خراب ہوگئی تھی، اسلئے انہوں نے بریک لیا تھا۔ ۲۰۲۰ء میں انہوں نے ٹی وی شو ’قربان ہوا‘ سے دوبارہ کام شروع کیا۔ ’میت بدلے گی دنیا کی ریت، کاویہ، انوپما اور بھاگیہ لکشمی‘ نامی شوز میں اپنا فن پیش کیا۔ انہوں نے ۳؍ فلموں میں بھی کام کیا جن میں ’سنتوشی ماں، دیوڈی اورکبیر سنگھ‘ شامل ہیں۔ انقلاب نے پرکھ سےگفتگو کی جسے یہاں پیش کیا جارہا ہے:
اس وقت آپ کی مصروفیت کیا ہے؟
ج:حال ہی میں میرا ایک ٹی وی شو بھاگیہ لکشمی ختم ہوا ہے۔ اس کے بعد میں اپنے دوسرے شو کی تلاش میں ہوں۔ میرے پاس چند شوزپیشکش آئی ہیں لیکن میں طے نہیں کرپا رہی ہوں کہ مجھے اگلا شو کون سا کرنا ہے۔ بہرحال میں اسکرپٹ پڑھ رہی ہوں اور غورکررہی ہوں۔ دیکھتے ہیں کس شو میں میں کام کرتی ہوں ۔ میری کوشش یہی ہےکہ میں کسی اچھے شو کا حصہ بنوں جس طرح میں ماضی میں رہی تھی۔
آپ تقریباً ۱۸؍ سال سے انڈسٹری سے وابستہ ہیں تو تجربہ کیسا رہا ہے؟
ج:اداکاری میں میری کوئی روایتی ٹریننگ نہیں ہے۔ میں نے انڈسٹری میں جو کام کیاہے، وہ اپنے بل بوتے پر کیاہے اور اسی کے ذریعہ میں آگے بڑھتی رہی ہوں۔ میرا کوئی فلمی یا اداکاری کا پس منظر نہیں ہے۔ میرے اہل خانہ میں سے کسی نے بھی فلم یا ٹی وی انڈسٹری میں کام نہیں کیا ہے۔ میں نے جو کچھ سیکھا، انہی ٹی وی شوز کے ذریعہ سیکھا۔ بہت سے افراد نے مدد کی اور اداکاری کو سنوارا۔ مجموعی طورپر کہوں تو انڈسٹری میں میرا اب تک کا سفر بہت اچھا رہاہے۔ مجھے یکے بعد دیگرے شوز ملتے رہے ہیں اور آج بھی مل رہے ہیں۔ میں نے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے انڈسٹری میں اچھے رول حاصل کئے۔ میں خوش قسمت ہوں کہ اس انڈسٹری کا حصہ ہوں۔
یہ بھی پڑھئے: ’’میں اب تیلگو شو بز انڈسٹری میں داخل ہونے کیلئے کوشاں ہوں‘‘
کیا آپ نے ٹی وی شو ز ہی سے کریئر شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا؟
ج:ایسا کچھ طے نہیں ہے۔ جب میں اپنے کریئر کی شروعات کرنے نکلی تو پہلا موقع ٹی وی انڈسٹری سے ملا۔ آڈیشن دینے کے بعد وہاں مجھے کام مل گیا۔ یہ قسمت کا لکھا کہیں کہ مجھے ٹی وی ہی سے اپنے کریئر کی شروعات کرنے کا موقع ملا۔ اس کےبعد ٹی وی پر ہی ایک کے بعد ایک شوز ملتے گئے اور میں مصروف ہو گئی۔ ہاں میں نے ٹی وی انڈسٹری کیلئے بہت کام کیا ہے درحقیقت میں نے ٹی وی شوز میں زیادہ کام کیا ہے۔ حالانکہ درمیان میں میں نے فلموں میں بھی کام کیا ہے۔ دراصلمیں خود کو کسی ایک ذریعہ تک محدود نہیں رکھنا چاہتی۔ میں ویب سیریز اور فلموں میں بھی کام کرنے کی خواہشمند ہوں۔
آپ نے محض ۳؍فلموں میں کام کیا، ایسا کیوں ؟
ج:۲۰۰۹ء میں میں نے انوراگ کشیپ کی فلم ’دیوڈی ‘ میں کام کیا تھا۔ اس کے ۱۰؍سال بعد میں نے ’کبیر سنگھ میں کام کیا۔ میں ان ۱۰؍ برسوں میں ٹی وی انڈسٹری میں بہت مصروف رہی تھی۔ مجھے اچھے شوز ملتے جارہے تھے اور میں انہی میں مصروف رہی۔ ہاں اس دورانیے میں فلم کے جو رول مل رہے تھے وہ مجھے کرنے نہیں تھےکیونکہ وہ اتنے دلچسپ نہیں تھے۔ میں تو آج بھی فلموں میں کام کرنے کی خواہاں ہوں لیکن میری پسند کے رول مجھے نہیں مل رہے ہیں۔
ویب سیریز یا فلموں میں رول پانے کی آپ کی حکمت عملی کیا ہے؟
ج:ایسی کوئی حکمت عملی تو طے نہیں کی ہے۔ جب میں نے اپنے کریئر کی شروعات کی تھی تو اس وقت میں مرکزی کردار ادا کررہی تھی لیکن جیسے جیسے عمر بڑھتی ہے اسی طرح انڈسٹری میں رول ملنے کے طریقے میں تبدیلی آتی ہے۔ آپ کو پھر آپ کی عمر کے مطابق ہی رول ملنے شروع ہوجاتے ہیں۔ میں نے بھی انڈسٹری کے اسی طریقے کے مطابق خود کو ڈھالا ہے۔ میں نے ویب سیریز اور فلم کیلئے ایساکوئی مائنڈسیٹ تیار نہیں کیا ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ مجھے جو رول ملے وہ دم دار ہو اور وہ اس ویب شو اور فلم کیلئے اہمیت رکھتا ہو۔
آپ کے کریئر کا مشکل مرحلہ کون سا تھا ؟
ج: ایک وقت آیا تھا جب مجھے انڈسٹری سے کچھ وقت کیلئے دورہونا پڑا تھا۔ تقریباً ڈھائی برس تک میں انڈسٹری سے دور رہی تھی۔ ۲۰۱۶ء اور ۲۰۱۸ء کے دوران میری طبیعت اچانک خراب ہو گئی تھی جس کی وجہ سے میں کام نہیں کر پا رہی تھی۔ اس وقت میں ’کلش‘ نامی شو میں کام کررہی تھی لیکن طبیعت کی خرابی کی وجہ سے شو چھوڑنا پڑا تھا۔ بعد ازاں میرے ہاتھ سے کئی اچھے رول چلے گئے تھے۔ اس بیماری سے صحت یاب ہورہی تھی کہ میرے والد کا انتقال ہوگیاجس کا مجھے بہت صدمہ پہنچا۔ ان سب باتوں سے نکلنے کیلئے مجھے کافی وقت لگا لیکن بعد میں میں نے خود کو سنبھال لیا۔
کریئر میں کوئی اچھا سبق جو آپ نے سیکھا ہو؟
ج:کریئر میں ایسی بہت سی باتیں ہیں جن سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔ میں نے پہلے ہی کہا ہے کہ میں نے اداکاری میں کوئی روایتی ٹریننگ نہیں لی ہے۔ میرے پہلے شونے ہی مجھے بہت کچھ سکھایا ہے۔ اس شو کے ہدایتکار اور ساتھی اداکاروں نے میری بہت مدد کی تھی۔ اس کے بعد جب مجھے مرکزی رول نہیں مل رہے تھے تو میں نے اپنا طریقہ کار تبدیل کیا اور اپنی عمر کے مطابق رول منتخب کرنے لگی۔ یہ حکمت عملی میرے لئے کارگر ثابت ہوئی۔ سب سے آخر میں میں نے اپنی روش سے ہٹ کر پہلی بار کوئی منفی کردار ادا کیا تھا۔ ٹی وی شو کلش میں میں نے منفی کردارادا کیا جو میرے لئے ایک نیا تجربہ تھا۔
آپ کا کوئی پسندیدہ اداکار جس کے ساتھ آپ کام کرنا چاہتی ہیں ؟
ج: شو بزا نڈسٹری میں بہت سے اداکاروں کے ساتھ کام کرنا پسند کروں گی لیکن اگر میں اپنے پسند یدہ اداکار کے بارے میں کہوں تو وہ رتیک روشن ہیں۔ ان کے کام کرنے کی لگن مجھےبہت اچھی لگتی ہے۔ انہوں نے اپنے کریئر اور زندگی میں کافی اتار چڑھاؤ دیکھا ہے لیکن انہوں نے بلند حوصلے کے ساتھ ان کا مقابلہ کیا۔ میں ایک بار رتیک روشن کے ساتھ کام کرنا چاہتی ہوں۔ ایک اور ہدایتکار ہیں جن کے ساتھ اگر مجھے کام کرنے کا ملے تو میں خود کو خوش قسمت سمجھوں گی۔ وہ ہدایتکار سنجے لیلا بھنسالی ہیں جن کے فلمیں بنانے کا طریقہ سب سے الگ ہے۔ وہ ایک الگ ہی سطح پر فلمیں بناتے ہیں۔
اداکاری کے ساتھ اور کیا کرنا پسند ہے؟
ج:میں ایک کلاسیکل ڈانسر ہوں۔ میں نے کتھک اور دیگرفارم میں تعلیم حاصل کی ہے۔ میں پنڈت برجو مہاراج کی شاگردہ ہوں اور انہی سے کلاسیکل رقص سیکھا ہے۔ اداکاری کے کریئر کے ایک پڑاؤ پر آکر میں اپنا ایک ڈانس اسکول کھولنا چاہتی ہوں۔ میں چاہتی ہوں کہ میں نے جو کچھ سیکھا ہے وہ میں دوسروں کو بھی سکھاؤں۔
آپ کے مستقبل کی منصوبہ بندی کیا ہے؟
ج:میں اسے مستقبل کی منصوبہ بندی تو نہیں کہوں گی لیکن ایک حکمت عملی ضرور کہوں گی۔ میں نے اپنے کریئر میں جوبھی رول نبھائے ہیں وہ الگ الگ ہیں۔ میں نے ایک جیسا رول سبھی شو میں نہیں نبھایا ہے۔ ایک شو میں جو کردار ادا کرتی ہوں وہ اگلے شو میں نہیں دُہراتی۔ یہ حکمت عملی میں مستقبل میں بھی جاری رکھوں گی۔ میرا کردار میرے شو کیلئے کتنا اہم ہے یہ دیکھوں گی اور اس رول سے مجھے کتنی ترقی مل رہی ہے، میں یہ بھی دیکھتی ہوں۔ یہی میری اب تک کی حکمت عملی ہے جو میں مستقبل میں بھی جاری رکھوں گی۔