پریش راول نے ۱۹۸۰ءکی دہائی میں فلمی دنیا میں قدم رکھا۔ ابتدا میں انہیں چھوٹے کردار ملے، لیکن جلد ہی فلم سازوں نے ان کی صلاحیتوں کو پہچان لیا۔
EPAPER
Updated: May 30, 2026, 11:23 AM IST | Mumbai
پریش راول نے ۱۹۸۰ءکی دہائی میں فلمی دنیا میں قدم رکھا۔ ابتدا میں انہیں چھوٹے کردار ملے، لیکن جلد ہی فلم سازوں نے ان کی صلاحیتوں کو پہچان لیا۔
پریش راول کا شمارہندی سنیما کے ان چند فنکاروں میں ہوتا ہےجنہوں نےاپنی غیر معمولی اداکاری، منفرد مکالمہ گوئی اور کرداروں میں ڈھل جانے کی حیرت انگیز صلاحیت کے ذریعے فلمی دنیا میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ وہ ان اداکاروں میں شامل ہیں جو ہیرو نہ ہوتے ہوئے بھی اکثر فلم کے مرکزی کردار پر بھاری پڑ جاتے ہیں۔ چاہے منفی کردار ہو، مزاحیہ کردار ہو، سنجیدہ باپ کا کردار ہو یا کوئی سیاسی شخصیت، پریش راول نے ہر روپ میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ پریش راول ۳۰؍مئی ۱۹۵۵ءکواحمد آبادمیں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک گجراتی خاندان سےتھا۔ بچپن ہی سے انہیں فنونِ لطیفہ اور اداکاری میں دلچسپی تھی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے تھیٹر کی دنیا کا رخ کیا، جہاں ان کی فنی صلاحیتیں نکھر کر سامنے آئیں۔ گجرات کے تھیٹر سے اپنے فنی سفر کا آغاز کرنے والے پریش راول نے جلد ہی اسٹیج پر اپنی الگ شناخت قائم کرلی۔ تھیٹر ہی وہ درسگاہ تھی جس نے انہیں کردار کی نفسیات، مکالمے کی ادائیگی اور جذبات کے اظہار کی باریکیوں سے آشنا کیا۔
پریش راول نے ۱۹۸۰ءکی دہائی میں فلمی دنیا میں قدم رکھا۔ ابتدا میں انہیں چھوٹے کردار ملے، لیکن جلد ہی فلم سازوں نے ان کی صلاحیتوں کو پہچان لیا۔ ۱۹۸۴ءمیں ریلیز ہونے والی ہولی ان کی ابتدائی فلموں میں شمار کی جاتی ہے۔ ۱۹۸۰ءاور ۱۹۹۰ءکی دہائی میں انہوں نے متعدد فلموں میں ولن کے کردار ادا کیے۔ ان دنوں ان کا شمار ہندی سنیما کے سب سے مؤثر منفی کردار ادا کرنے والے فنکاروں میں ہونے لگا تھا۔ ان کے ولن روایتی ولنوں سے مختلف ہوتے تھے۔ وہ محض شور مچانے یا تشدد کرنے والے کردار نہیں ہوتے تھے بلکہ ان میں نفسیاتی پیچیدگیاں اور حقیقت کا رنگ بھی شامل ہوتا تھا۔
اگرچہ پریش راول ایک کامیاب ولن کے طور پر پہچانے جاتے تھے، لیکن ان کی اصل مقبولیت مزاحیہ کرداروں سے آئی۔ ۲۰۰۰ءکی دہائی کے آغاز میں انہوں نےمزاحیہ کردار ادا کرنے شروع کیے اور دیکھتےہی دیکھتے وہ ہندوستان کے مقبول ترین کامیڈین اداکاروں میں شامل ہوگئے۔ ۲۰۰۰ءمیں ریلیز ہونے والی ہیرا پھیری نے ان کی قسمت بدل دی۔ اس فلم میں انہوں نے’بابو بھیا‘کا کردار ادا کیا، جو آج بھی ہندوستانی سنیما کے یادگار ترین مزاحیہ کرداروں میں شمار ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ممبئی صرف خواب نہیں دکھاتا بلکہ انہیں پورا کرنے کی طاقت بھی دیتا ہے: شریا
پھر ہیرا پھیری نے ان کی مقبولیت کو مزید بڑھا دیا۔ اس کے بعد انہوں نے متعدد کامیاب فلموں میں یادگار کردار ادا کیے جن میں ہنگامہ، ہلچل، مالامال ویکلی، بھول بھلیاں اورویلکم جیسی فلمیں شامل ہیں۔ ان فلموں میں ان کے کرداروں نے ثابت کیا کہ مزاح صرف لطیفے سنانے کا نام نہیں بلکہ کردار کی گہرائی، مکالمے کی ادائیگی اور حالات کے مطابق ردعمل بھی کامیڈی کا اہم حصہ ہیں۔ مزاحیہ اداکاری کے ساتھ ساتھ پریش راول نے سنجیدہ کرداروں میں بھی اپنی صلاحیت کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ ۲۰۱۲ءمیں ریلیز ہونے والی اوہ مائی گاڈ میں انہوں نے کانجی لال مہتا کا کردار ادا کیا۔ مذہبی اندھی عقیدت اور سماجی مسائل پر مبنی اس فلم میں ان کی اداکاری کو ناقدین اور ناظرین دونوں نے بے حد سراہا۔ اسی طرح سنجو میں انہوں نے سنیل دت کا کردار ادا کیا اور کردار میں ایسی جان ڈال دی کہ ناظرین نے اسے فلم کی نمایاں اداکاریوں میں شمار کیا۔ پریش راول کو ہندوستانی سنیما میں ان کی خدمات کے اعتراف میں متعدد اعزازات سے نوازا گیا۔ ۲۰۱۴ءمیں انہیں پدم شری سے سرفرازکیا گیا۔