Inquilab Logo Happiest Places to Work

برطانیہ: اینڈی برنہم کی پیرکو بطور وزیراعظم حلف برداری، عوامی مفاد پر مبنی معیشت کا وعدہ

Updated: July 18, 2026, 10:00 PM IST | London

اینڈی برنہم پیر کو برطانیہ کے وزیراعظم کا حلف اٹھائیں گے،اس سے قبل انہوں نے ایسی معیشت کا وعدہ کیا جو سب کے لیےمفید ہو۔

Andy Burnham. Photo: X
اینڈی برنہم۔ تصویر: ایکس

اینڈی برنہم کی برطانیہ کی لیبر پارٹی کے نئے لیڈر کے طور پر تصدیق کر دی گئی ہے اور وہ آئندہ ہفتے وزیراعظم بننے کے لیے تیار ہیں، کیئر اسٹارمر کی جگہ لے کر ۱۰؍ ڈاؤننگ اسٹریٹ کا چارج سنبھالیں گے۔اس سے قبل اینڈی برنہم کی جمعہ کو برطانیہ کی حکمران لیبر پارٹی کے نئے منتخب لیڈر کے طور پر تصدیق دی گئی، جس سے وہ وزیراعظمکے عہدے کے دعویدار ہوگئے ہیں۔ بعد ازاں برنہم کو پیر کو کنگ چارلس سوم کی جانب سے نئی حکومت بنانے کی دعوت دی جائے گی، اس سے قبل موجودہ وزیراعظم کیئرا سٹارمر شاہ کو اپنا استعفیٰ پیش کریں گے۔یہ اعلان لیبر کی نیشنل ایگزیکٹو کمیٹی (این ای سی) کی چیئر پرسن شعبان محمود نے لندن میں ایک خصوصی پارٹی کانفرنس میں کیا۔

یہ بھی پڑھئے: امریکی نائب صدر کی امریکی نظام میں اسرائیلی اثر و رسوخ پر سخت تنقید

واضح رہے کہ اس عہدے کے لیے صرف ایک ایم پی (رکن پارلیمنٹ) کو نامزد کیا گیا تھا، لہٰذا یہ مقابلہ ایک رسمی نوعیت کا تھا۔ محمود نے کانفرنس سے کہا، ’’صرف ایک نامزد ایم پی تھے،یہ کوئی دشوار مقابلہ نہیں تھا۔‘‘ بی بی سی کے مطابق، لیبر لیڈر کے طور پر اپنی پہلی تقریر میں برنہم نے کہا کہ ’’وہ پارٹی کی قیادت کرنے اور کیئر اسٹارمر کی رکھی ہوئی بنیادوں کو مزید استوار کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘‘جبکہ انہوں نے اسٹارمر کو اس بات کا سہرا دیا کہ انہوں نے لیبر کو اس کی بدترین شکست سے اس کی بہترین فتح تک پہنچایا، اور پارٹی کو لوگوں کی زندگیاں بدلنے کے قابل بنایا۔علاوہ ازیں برنہم نے این ایچ ایس (نیشنل ہیلتھ سروس) کے انتظار کے اوقات میں کمی اور عالمی سطح پر برطانیہ کی شہرت کی بحالی کو اپنے پیشرو کی اہم کامیابیوں کے طور پر اجاگر کیا۔لیکن انہوں نے تبدیلی کا ایک پیغام بھی دیا، جس میں ’’اتحاد اور امید پر مبنی ایک نئی سیاست‘‘ اور ’’ایسی معیشت جو ہر کسی کے لیے کام کرے‘‘ کا وعدہ کیا، چاہے وہ کہیں بھی رہتے ہوں۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ کے۱۶؍ ڈاکٹراسرائیلی جیلوں میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا

یاد رہے کہ برنہم کا عروج کسی بھی طرح روایتی نہیں رہا۔ ایک دہائی قبل، انہوں نے لندن میں گریٹر مانچسٹر کے میئر کا انتخاب لڑا۔ ایک ماہ قبل، وہ ایک مشکل ضمنی انتخاب جیت کر پارلیمنٹ میں واپس آئے۔ اور پیر کو، وہ برطانیہ کے۵۹؍ویں وزیراعظم بن جائیں گے۔صرف دو سال دفتر میں رہنے کے بعد کیئرا سٹارمر کا اچانک زوال۵۶؍ سالہ برنہم کو اقتدار میں لے آیا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، وہ اس عہدے پر توقعات کے بوجھ اور اس بارے میں جواب طلب سوالات کے ساتھ پہنچ رہے ہیں کہ وہ اس سے کیسے نمٹیں گے۔برنہم نے اپنا سیاسی نام مانچسٹر میں بنایا جبکہ وہ لیورپول میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد برٹش ٹیلی کام کے انجینئر تھے اور والدہ ایک ریسپشنسٹ تھیں؛ وہ ایک کیتھولک خاندان میں پلے بڑھے۔جبکہ وہ اور ان کے بھائی اپنے خاندان کی پہلی نسل تھے جنہوں نے یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے کیمبرج میں تعلیم حاصل کی، جو برطانیہ کے قدیم اور معروف ترین اداروں میں سے ایک ہے۔گریجویشن کے بعد، برنہم نے تجارتی رسالوں میں صحافی کے طور پر کام کیا، اس سے قبل وہ سیاست میں لیبر شخصیات کے محقق اور مشیر کے طور پر آئے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ کا مسلسل ۷؍ ویں رات حملہ، ایران کا جوابی وار، خلیج میں کشیدگی عروج پر

ذہن نشین رہے کہ برطانیہ کی پارلیمانی جمہوریت حکمران جماعت کو بغیر عام انتخابات کے اپنے لیڈر اور اس طرح وزیراعظم کو تبدیل کرنے کی اجازت دیتی ہے۔ لیبر اپنی اکثریت برقرار رکھتے ہوئے، اینڈی برنہم فوری طور پر عہدہ سنبھال سکتے ہیں، جبکہ آئندہ ملک گیر انتخابات۲۰۲۹ء تک ہونے کی توقع ہے۔ واضح رہے کہ قیادت کی تبدیلیاں برطانوی سیاست میں تیزی سے عام ہو گئی ہیں، برنہم ۲۰۱۶ؐ کے بعد برطانیہ کے ساتویں وزیراعظم بننے والے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK