Inquilab Logo Happiest Places to Work

انادولو نےغزہ نسل کشی پر مبنی ’’غزہ ٹرائیلوجی‘‘ ثبوت اکٹھا کرنےکیلئے آئی سی سی پراسیکیوٹر کو پیش کی

Updated: July 18, 2026, 10:00 PM IST | The Hague

غزہ ٹرائلوجی، تین جلدوں پر مشتمل ہے: دی ایویڈنس (ثبوت)، دی وِٹنس (گواہ)، اور دی پرپیٹریٹر (مجرم)۔ ان کتابوں میں شامل تصاویر کو اس سے قبل جنوبی افریقہ نے انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس (آئی سی جے) کے سامنے اسرائیل کے خلاف اپنے نسل کشی کے کیس میں بطور ثبوت پیش کیا تھا۔

International Criminal Court. Photo: X
عالمی فوجداری عدالت۔ تصویر: ایکس

غزہ میں اسرائیل کے ذریعے جاری فلسطینیوں کی نسل کشی کو دستاویزی شکل دینے والی، ترکی کی انادولو نیوز ایجنسی کی مرتب کردہ ”غزہ ٹرائلوجی“ (Gaza Trilogy) کے اپ ڈیٹ اور توسیع شدہ ایڈیشنز جمعہ کے دن، دی ہیگ میں عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے پراسیکیوٹر کے دفتر میں پہنچائے گئے۔ ان تینوں جلدوں کو پراسیکیوٹر کے ’ایویڈنس اینڈ ڈسکوری منیجمنٹ یونٹ‘ میں جمع کرایا گیا ہے جو ثبوتوں کو رجسٹر، زمرہ بندی اور تفتیشی فائلوں کے ساتھ مماثلت کا کام کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل غزہ کے بچوں کو روز مرہ کے معمول کے طور پر قتل کر رہا ہے: رپورٹ

غزہ ٹرائلوجی تین جلدوں پر مشتمل ہے: دی ایویڈنس (ثبوت)، دی وِٹنس (گواہ) اور دی پرپیٹریٹر (مجرم)۔ اس حالیہ جمع آوری کا مطلب یہ ہے کہ آئی سی سی کے پراسیکیوٹر کے دفتر کے پاس اب ان تینوں کتابوں کے جدید ترین ایڈیشن موجود ہیں۔ ’دی ایویڈنس‘ کا پہلا ایڈیشن بھی اس سے قبل عدالت کو پہنچایا گیا تھا۔

’دی ایویڈنس‘ (The Evidence)، جس کا حال ہی میں دسواں ایڈیشن شائع ہوا ہے، غزہ میں اسرائیلی حملوں کو موقع پر موجود انادولو کے صحافیوں کی کھینچی گئی تصاویر اور ویڈیو فوٹیج کے ذریعے دستاویزی شکل دی گئی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ اکتوبر ۲۰۲۳ء میں وزیرِ اعظم بنجامن نیتن یاہو کے تحت اسرائیل کی طرف سے شروع کی گئی فوجی مہم کے نتیجے میں ”۱۹۴۸ء نکبہ کے بعد سے اب تک کی سب سے بڑی تباہی اور جانی نقصان ہوا“ جس کے دوران بین الاقوامی اور انسانی ہمدردی کے قوانین کی بار بار خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئیں۔ یہ جِلد اسرائیلی حکومت کی طرف سے مبینہ طور پر کئے گئے جرائم کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر جواب دہی کی کوششوں کیلئے ایک حوالے کا کام بھی کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ کے۱۶؍ ڈاکٹراسرائیلی جیلوں میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا

’دی وِٹنس‘ (The Witness)، جس کے اب تک چار ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں، فلسطینیوں، ترکی کے صحافیوں اور غزہ کے رہائشیوں کے آنکھوں دیکھے بیانات اور گواہیوں پر مشتمل ہے جن سے جنگ کے دوران رابطہ ممکن ہو سکا تھا۔ یہ جلد، دستاویزی ثبوتوں کے پیچھے چھپی ذاتی کہانیوں پر توجہ مرکوز کرتی ہے اور غزہ کے واقعات کو روکنے یا ان پر مناسب ردِعمل دینے میں بین الاقوامی برادری کے کچھ حصوں کی ناکامی کا جائزہ لیتی ہے۔ 

’دی پرپیٹریٹر‘ (The Perpetrator) نیتن یاہو انتظامیہ اور ان افراد پر توجہ مرکوز کرتی ہے جنہیں غزہ میں تشدد اور تباہی کا براہِ راست ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔ اس میں جنگی کوششوں سے جڑی سیاسی، فوجی، کاروباری، تعلیمی اور ثقافتی شخصیات کے کردار کو دستاویزی شکل دی گئی ہے تاکہ مستقبل میں جوابدہی کیلئے ایک تاریخی ریکارڈ محفوظ رکھا جا سکے۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کی غزہ میں جنازے پر بمباری، متعدد سوگوار شہید

غزہ ٹرائلوجی میں شامل تصاویر کو اس سے قبل جنوبی افریقہ نے انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس (آئی سی جے) کے سامنے اسرائیل کے خلاف اپنے نسل کشی کے کیس میں بطور ثبوت پیش کیا تھا۔ جنوبی افریقہ کے قانونی نمائندوں نے غزہ میں نسل کشی کے ارادے کے اپنے دلائل کے حصے کے طور پر انادولو کے صحافیوں کی لی گئی تصاویر نمائش کیلئے پیش کی تھیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK