ٹی وی، فلم اور او ٹی ٹی اداکار پریچے شرما کا کہنا ہےکہ فلموں میں کام کرنے کیلئےمیں نے ۳؍ سال تک ٹی وی سے دوری اختیار کر لی تھی، اس دوران مجھے انڈسٹری کو سمجھنے کا اچھا موقع ملا۔
EPAPER
Updated: July 19, 2026, 1:53 PM IST | Abdul Karim Qasim Ali | Mumbai
ٹی وی، فلم اور او ٹی ٹی اداکار پریچے شرما کا کہنا ہےکہ فلموں میں کام کرنے کیلئےمیں نے ۳؍ سال تک ٹی وی سے دوری اختیار کر لی تھی، اس دوران مجھے انڈسٹری کو سمجھنے کا اچھا موقع ملا۔
پریچے شرما معروف اداکار ہیں جنہوں نے ٹیلی ویژن اور فلم انڈسٹری میں کام کیا ہے اور کررہے ہیں۔ انہوں نے متعدد ٹی وی سیریلز، ویب سیریزاور فلموں میں تاریخی کرداروں کے ذریعے پہچان بنائی ہے۔ وہ اپنے ورسٹائل کرداروں اور سنجیدہ اداکاری کیلئے جانے جاتے ہیں۔ پریچے شرما نے تھیٹر کے ذریعے اپنے فن کا آغاز کیا۔ بعد ازاں انہوں نے ممبئی آ کر ٹیلی ویژن اور فلمی دنیا میں قدم رکھا۔ وہ اس وقت ’وسودھا‘ شو میں کام کررہے ہیں۔ اس سے قبل انہوں نے سوراج سیریز میں شہید بھگت سنگھ کا کردار ادا کیا۔ انہوں نے ڈی کمپنی نامی فلم میں داؤد ابراہیم کا رول نبھایا تھا۔ وہ کردار کی نفسیات، باڈی لینگویج اور پس منظر پر تحقیق کرتے ہیں تاکہ کردار کو حقیقت کے قریب پیش کیا جا سکے۔ پریچے شرما اپنی ذاتی زندگی کو میڈیا سے دور رکھتے ہیں اور زیادہ تر اپنی پیشہ ورانہ سرگرمیوں پر توجہ دیتے ہیں۔ وہ مستقبل میں فلموں، ویب سیریز اور ٹیلی ویژن کے معیاری منصوبوں میں کام جاری رکھنے کے خواہش مند ہیں۔ نمائندہ انقلاب نےٹی وی، فلم اور ویب شو اداکارپریچے شرما سے گفتگو کی جسے یہاں پیش کیا جارہا ہے:
سب سے پہلے آپ ٹی وی شو ’وسودھا‘ کے بارے میں کچھ بتائیں۔ یہ شو آپ کو کیسے ملا اور اس پروجیکٹ پر کام کرنے کا تجربہ کیسا رہا؟
ج: آج کل بہت سے کاسٹنگ ڈائریکٹرز کام کر رہے ہیں۔ ان میں سے ایک کاسٹنگ ڈائریکٹر، جو خود بھی بہت اچھے اداکار ہیں، انہوں نے میرا پروفائل پروڈکشن ہاؤس اور پروڈیوسرز کو بھیجا تھا۔ انہیں میرا پروفائل پسند آیا، پھر چینل کی منظوری ملی اور اس کے بعد دو تین دن کے اندر میرا انتخاب ہو گیا۔ بعد ازاں شوٹنگ شروع ہوئی اور میں اس شو میں مرکزی کردار میں نظرآنے لگا۔
اس کے علاوہ آپ اور کس پروجیکٹ پر کام کر رہے ہیں؟
ج:فی الحال میں اسی ایک شو میں مصروف ہوں۔ ایک ویب سیریز کی بات چل رہی تھی لیکن وہ فی الحال مؤخر ہو گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی میں اچھے پروجیکٹس کی تلاش میں ہوں۔ اس سے قبل میں نے’جوہری‘نامی ایک ویب سیریز کی تھی۔ اس کے بعد ’سوراج‘ نامی شو میں بھگت سنگھ کا کردار ادا کیا تھا، جو بعد میں امیزون پرائم پلیٹ فارم پر بھی نشر ہوا۔ اس وقت یہی سب کام جاری ہیں۔ امید کرتا ہوں کہ مستقبل میں کچھ اچھے شوز یا فلموں میں کام کرنے کا موقع ضرورملے گا۔
یہ بھی پڑھئے: ’’حالات کیسے بھی ہوں، میں پُرسکون رہنے کی کوشش کرتی ہوں‘‘
آپ نے ٹی وی سے ایک طویل وقفہ لیا تھا۔ وقفے کے بعد انڈسٹری میں واپسی کا تجربہ کیسا رہا؟ کیا تبدیلیاں محسوس ہوئیں؟
ج:جب میں نے وقفہ لیا تھا، اس وقت انڈسٹری کا ماحول بالکل مختلف تھا۔ ٹی وی کو الگ نظر سے دیکھا جاتا تھاجبکہ فلموں اور ویب سیریز کو الگ مقام حاصل تھا۔ گزشتہ چند برسوں میں یہ فرق تقریباً ختم ہو گیا ہے۔ اب اگر آپ اچھے اداکار ہیں تو آپ کسی بھی میڈیم یا پلیٹ فارم پر کام کر سکتے ہیں۔ میرے خیال میں یہ اداکاروں کیلئے بہت مثبت تبدیلی ہے کیونکہ پہلے ٹی وی اداکاروں پر کئی پابندیاں ہوتی تھیں، جو اَب نہیں رہیں۔
اتنے برسوں تک ٹیلی ویژن پر کام کرنے کے بعد اچانک اسے چھوڑ دینا اور پھر نئی شروعات کرنا... یہ کیسا تجربہ تھا؟
ج: میرے جیسے اداکار کیلئے یہ بالکل بھی آسان نہیں تھا۔ میں نے ۲۰۱۷ء میں ٹی وی سے وقفہ لیا تھا تاکہ فلموں اور دیگر چیزوں پر توجہ دوں کیونکہ دیگر چیزوں پر توجہ دینے کیلئے ٹی وی سے علاحدگی ضروری تھی۔ ۲۰۱۸ءمیں مجھے مرکزی اداکاروالی ایک فلم ملی جو ایک انگریزی فلم ’دی ریڈر‘ کی کہانی پر مبنی تھی۔ اس کی شوٹنگ تقریباً ۸؍ماہ تک چلی، جس میں آشا بھوسلے کا ایک گانا بھی شامل تھا۔ اسی دوران مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ فلمی دنیا ٹی وی سے بالکل مختلف ہے۔ ٹی وی میں عموماً شو مکمل ہونے کے بعد نشر ہو ہی جاتا ہے، لیکن فلموں میں ایسا نہیں ہوتا۔ کئی بار پروجیکٹ مکمل ہونے کے باوجود ریلیز نہیں ہو پاتا۔ یہ میرے لیے ایک نیا تجربہ اور کسی حد تک جھٹکا بھی تھا۔ اس دوران مجھے انڈسٹری کی سیاست، لابنگ اور دیگر معاملات کو سمجھنے میں تقریباً دو سال لگ گئے۔ پھر۲۰۲۰ء کے بعد میں نے آہستہ آہستہ بالی ووڈ کے حالات کو سمجھا تو آڈیشن دینا شروع کیا اور پھردوبارہ کام ملنا شروع ہوگیا۔
آپ نے فلم ’ڈی کمپنی‘ میں داؤد ابراہیم کا کردار نبھایا تھا۔ اس کردار کی تیاری کیسے کی؟اور اس کیلئے کیسا تجربہ رہا؟
ج: اس کردار کی تیاری کیلئے میں نے داؤد ابراہیم کی زندگی اور اس کے پس منظر کا کافی مطالعہ کیا تھا۔ میں نے یہ سمجھنے کی کوشش کی تھی کہ اس کی شخصیت، سوچ اور ذہنیت کیسی تھی۔ ایک اداکار کے طور پر ہمارا کام پوری ایمانداری سے کردار کو سمجھنا اور نبھانا ہوتا ہے۔ کامیابی یا ناکامی ہمارے اختیار میں نہیں ہوتی، لیکن محنت کرنا ضرور ہمارے ہاتھ میں ہوتا ہے اور میں ہمیشہ یہی کوشش کرتا ہوں۔ میں نے داؤد ابراہیم کے کردار کو سمجھنے کیلئے ڈونگری کا دورہ کیا تھا اور وہاں داؤد ابراہیم کے ایک چچا سے ملاقات بھی کی تھی۔ رام گوپال ورما نے اس فلم کو بہت ریسرچ کرکے بنایا تھا۔ ہم نے اس فلم میں داؤدکے داؤد ابراہیم بننے کے پہلے کی کہانی پیش کی تھی۔ اس وقت ڈی کمپنی کا وجود بھی نہیں ہوا تھا بلکہ یہ ڈی گینگ کے نام سے بدنام تھی۔ بہرحال میں نے اس کیریکٹر کو نبھا نے کیلئے بہت محنت کی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: ’’روایتی شوز کو ختم کرنے کیلئے میں نے اپنا پروڈکشن ہاؤس شروع کیا ہے‘‘
ایک اچھا اداکار اپنی اداکاری کو بہتر بنانے کیلئے کیا کرتا ہے؟
ج:ہر کردار آپ کو کچھ نہ کچھ سکھاتا ہے۔ میں ہمیشہ نئے کرداروں کا مشاہدہ کرتا ہوں، لوگوں کو دیکھتا ہوں، ان کی باڈی لینگویج، بولنے کا انداز اور جذبات کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ ایک اداکار کی سیکھنے کی کوئی حد نہیں ہوتی۔ آج کل فطری اداکاری پر توجہ دی جارہی ہے۔ ہم اکثر ہالی ووڈ سے نقل کرتے ہیں۔ مثلاً اگر کوئی ٹرینڈ ہالی ووڈ میں آیا ہے تو وہ ہمارے یہاں ۲؍ سال کے بعد آئیگا۔ اب ہالی ووڈ میں اداکاری پر زیادہ توجہ نہیں دی جارہی ہے بلکہ فطری طورپر جو اداکاری ہوتی ہے اس پر توجہ دی جارہی ہے۔
آپ کے کریئر کا کون سا کردار آپ کو سب سے زیادہ پسند ہے؟
ج: مجھے’ڈی کمپنی‘ میں کام کرنا بے حد پسند آیا۔ وہ کردار میرے مزاج کے مطابق تھا۔ اس کا انداز، شخصیت اور اس کا ایک الگ ہی تاثر تھا، جسے ادا کرنا بہت دلچسپ تجربہ تھا۔ اس کے علاوہ ’دہنم‘ میں میں نے پیرٹالا روی کا کردار ادا کیا، جو آندھرا پردیش کے ایک بااثر سیاستداں تھے۔ اس کردار کو نبھانے میں بھی بڑا لطف آیا۔ اسی طرح ’بالیکا ودھو‘ میں میں نے ایک ایسے شخص کا کردار ادا کیا جس کا ذہن مکمل طور پر نشوونما نہیں پا سکا تھا۔ یہ بھی ایک چیلنجنگ اور منفرد کردار تھا، جسے کرنا میرے لیے یادگار تجربہ رہا۔
آج کل اتنے زیادہ پلیٹ فارمز ہیں، ایسے میں کیا یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ نئے فنکاروں کیلئے انڈسٹری میں آنا آسان ہو گیا ہے؟
ج: جی ہاں، آج کے دور میں انڈسٹری میں داخل ہونا پہلے کے مقابلے میں نسبتاً آسان ہو گیا ہے، لیکن خود کو برقرار رکھنا پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہے۔ اب کسی کو ایک موقع تو مل جاتا ہے، لیکن اگر وہ اچھا کام نہ کرے تو ناظرین بہت جلد اسے مسترد کر دیتے ہیں۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں لوگوں کے پاس صبر کم ہے۔ اگر آپ متاثر نہ کر سکیں تو وہ فوراً آگے بڑھ جاتے ہیں۔ اسلئے میں یہی کہوں گا کہ آج انڈسٹری میں آنا آسان ہے، لیکن اپنی جگہ برقرار رکھنا سب سے بڑا چیلنج ہے۔
آپ سوشل میڈیا کس حدتک استعمال کرتے ہیں ؟
ج: میں سوشیل میڈیا بہت زیادہ استعمال نہیں کرتا۔ میں نے بہت کوشش کی تھی لیکن میں سوشل میڈیا سے زیادہ قریب نہیں ہوسکا۔ میں سوشل میڈیا اتنا ہی دیکھتا ہوں یا استعمال کرتا ہوں جتنا میں اسے سمجھتاہوں۔ میں انسٹاگرام کے لانچ سے پہلے انڈسٹری میں آیا تھا۔ آج جین زی کو مجھ سے یہی شکایت ہے کہ میں انسٹا کا زیادہ استعمال نہیں کرتا۔