Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’روایتی شوز کو ختم کرنے کیلئے میں نے اپنا پروڈکشن ہاؤس شروع کیا ہے‘‘

Updated: June 28, 2026, 4:29 PM IST | Abdul Karim Qasim Ali | Mumbai

ٹی وی اور ویب سیریز اداکار اور پروڈیوسرمانس شاہ کا کہنا ہے کہ پروڈکشن ہاؤس شروع کرنا ایک جوکھم بھرا کام ہے، لیکن چونکہ زندگی ایک ہی بار ملتی ہے، اسلئے جوکھم اٹھانا ضروری بھی ہے۔

TV and web series actor and producer Manas Shah. Photo: INN
ٹی وی اور ویب سیریز اداکار اور پروڈیوسرمانس شاہ۔ تصویر: آئی این این

احمد آباد سے تعلق رکھنے والے مانس شاہ نے ٹی و ی انڈسٹر ی کے ذریعہ شو بز کی دنیا میں قدم رکھا تھا۔ اب تک وہ اپنے کریئر میں کئی شوز اور ویب سیریز میں قسمت آزماچکے ہیں۔ انہو ں نے ہندی شوز سے قبل گجراتی فلموں میں بھی کام کیا ہے۔ مانس شاہ نے ۲۰۰۸ء میں پیش کئے جانے والے شو ’ہماری دیورانی‘ سے کریئر کی شروعات کی تھی۔ ۲۰۱۶ء میں انہو ں نے گجراتی فلم انڈسٹری کا بھی رخ کیا لیکن وہ وہاں زیادہ دنوں تک نہیں رہے۔ اپنے کریئر میں انہوں نے اب تک ہماری دیورانی، زندگی کا ہر رنگ گلال، اسمائل پلیز، دفعہ۴۲۰، سنکٹ موچن مہابلی ہنومان، ہماری بہو سلک، واگلے کی نئی دنیا اور یہ ہیں چاہتیں جیسے اہم شوز میں کام کیا ہے۔ انہوں نے ویب شو میں بھی کام کیا ہے اور وہ اب پروڈکشن ہاؤس چلا رہے ہیں۔ وہ اپنے پروڈکشن ہاؤس کے ذریعہنئی نسل کیلئے شوز بنانا چاہتے ہیں کیونکہ وہ روایتی شوزسے اکتا چکے ہیں۔ انہوں نے انہی روایتوں کو ختم کرنے کیلئے اپنا پروڈکشن ہاؤس شرو ع کیا۔ انقلاب نےمانس شاہ سے گفتگو کی جسے یہاں پیش کیا جارہا ہے:
آپ اپنے پروڈکشن ہاؤس کے ذریعہ کس طرح کے شوز بنانا چاہتے ہیں ؟
ج:جی ہاں، میں ہندوستانی روایات، ثقافت اور مذہبی اقدار سے بہت جڑا ہوا ہوں۔ مجھے بنیادی انسانی قدروں سے محبت ہے۔ اسی لیے میں ایسا مواد بنانا چاہتا ہوں جو سماجی شعور پیدا کرے۔ حال ہی میں، میں نے ایک مختصر فلم بنائی ہے جو خواتین کےایام حیض میں شوہر کے تعاون کے موضوع پر تھی۔ ایک اور کہانی میں بیوی کومہ میں چلی جاتی ہے، لیکن شوہر محبت اور احترام کے ساتھ اس کیلئے کروا چوتھ مناتا ہے۔ میرا مقصد محبت، امن اور انسانیت کا پیغام دینا ہے۔ 
سننے میں آیا ہے کہ آپ نے اپنا یوٹیوب چینل دوبارہ شروع کردیا ہے؟ کچھ اپنے پروڈکشن ہاؤس کے بارے میں بھی بتائیں ؟
ج: جی ہاں !میں نے اپنا یوٹیوب چینل ’سول ورلڈس‘ دوبارہ فعال کیا ہے۔ میرا خیال ہے کہ آج ہمارے پاس روزگار، پیسہ اور ٹیکنالوجی سب کچھ ہے، لیکن سکون نہیں ہے۔ ہر چیز ایک کلک پر دستیاب ہے، مگر کوئی یہ نہیں سوچتا کہ دل کا اطمینان کیوں نہیں مل رہا۔ اسی لیے لوگ بے چینی اور عدم اطمینان کا شکار ہیں۔ میرے تین شراکت دار ہیں جو سرمایہ کار ہیں اور ہم فلمیں، ویب سیریز اور مختصر فلمیں بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ اپنی صنعت میں کچھ ایسا کروں جس سے مجھے یہ احساس ہو کہ میں نے معاشرے اور اپنے شعبہ کیلئے مثبت کوشش کی۔

یہ بھی پڑھئے: ’’اداکار وہی کامیاب ہوتا ہے جو خود کو مسلسل بہتر بناتا رہتا ہے‘‘

کیا آپ اداکاری بھی جاری رکھے ہوئے ہیں ؟
ج:میں اداکاری بھی جاری رکھے ہوئے ہوں۔ حال ہی میں، میں نے ایک سیریز میں کام کیا ہے جو براری کیس سے متاثر تھی۔ اس میں میرا کردار ایک غیر معمولی ماہر کا تھا۔ اداکاری میں وہی کام کرنا پسند کرتا ہوں جو چیلنجنگ ہو اور جس میں کچھ نیا ہو۔ صرف روایتی کردار ادا کرتے رہنا مجھے پسند نہیں۔ میں ایسے کرداروں سے متاثر ہوں جیسے فلم’پا‘ میں امیتابھ بچن نے اد ا کیا تھا۔ ’تھری ایڈیٹس ‘میں عامر خان نے جو کردار ادا کیا اور ’مائی نیم از خان ‘ میں شاہ رخ خان نےجو رول نبھایا تھا میں ویسے کردار ادا کرنا چاہتا ہوں۔ ایسے کردار اداکار کو بڑھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ 
آج کی تاریخ میں ٹی وی انڈسٹری میں کتنے چیلنجز ہیں ؟
ج:کووڈ کی وبا کے بعد میں نے فلمی صنعت کو مشکلات سے گزرتے ہوئے دیکھا ہے۔ فری لانسرز کو بینک قرض نہیں دیتے، وہ فوری طور پر انکار کردیتے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ ہم معاشرتی ذمہ داریوں کو بھولتے جا رہے ہیں۔ ہم اپنی ذاتی کامیابیوں کے پیچھے اتنے مصروف ہیں کہ معاشرے اور اپنے ساتھی انسانوں کے بارے میں کم سوچتے ہیں۔ ہم جب ایک لاکھ روپے کما لیتے ہیں تو ہمیں ۱۰؍ لاکھ کمانے کی لالچ پیدا ہو جاتی ہے اور یہ یوں ہی بڑھتی رہتی ہے۔ بس ٹی وی انڈسٹری میں یہی معاملات ہیں۔ اداکار اپنے کمانے کے بارےمیں سوچتے رہتے ہیں۔ 
کیا ہماری انڈسٹری کے پاس اب اچھی کہانیاں نہیں ہیں ؟
ج: آج دنیا بھر کا سنیما ہماری انگلیوں پر موجود ہے۔ میں مختلف ممالک کے سنیما کو دیکھتا ہوں، بالخصوص پاکستانی اور کورین ڈرامے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ شائقین کو اپنی طرف متوجہ کررہے ہیں۔ ہندوستانی ٹی وی انڈسٹری میں جو کام کیا جارہا ہے اس سے میں مطمئن نہیں ہوں۔ اسلئے میں نے کوئی بھی میں کام کرنے سے انکار کردیا ہے۔ ہماری ٹی وی انڈسٹری اپ گریڈ نہیں ہونا چاہتی بلکہ فرسودہ شوز ہی پر کام کررہی ہے۔ ایک زمانے میں ’کیونکہ ساس بھی کبھی بہو تھی‘ نے کامیابی کی بلندی دیکھی تھی لیکن یہ شو دوبارہ دکھایا گیا تو اس کی ریٹنگ ۱ء۹؍ فیصد رہی۔ میں اکثر خود سے یہ سوال کرتا ہوں کہ کورین اور پاکستانی ڈراموں کے معیار کا کام ہم کیوں نہیں کر سکتے۔ اچھا مواد وقت، منصوبہ بندی اور مضبوط اسکرپٹ مانگتا ہے لیکن ہماری انڈسٹری اس طرف توجہ نہیں دے رہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’میں یہ بات جان گئی ہوں کہ انسان کو سیکھنے کا عمل کبھی نہیں چھوڑنا چاہئے‘‘

پروڈکشن ہاؤس کے ذریعہ کیا حاصل کررہے ہیں ؟
ج:میں اسٹوڈیوز کے کام کرنے کے طریقے، فلموں کی فروخت، پروڈکشن کے تمام مراحل اور نئے منصوبوں کے ڈیزائن کو سیکھ رہا ہوں۔ میں پروڈکشن کی باریکیوں کو سمجھ رہا ہوں کیونکہ نئی نسل تک اپنے پیغام کو پہنچانے کیلئے ان کی پسند اور ناپسند کے بارے میں ہمیں معلوم ہونا چاہئے۔ میں نےجس مقصد کے تحت اپنا پروڈکشن ہاؤس شروع کیا ہے اسے حاصل کرنے کیلئے اپنی طرف سے پوری کوشش کررہاہوں۔ 
پروڈکشن ہاؤس شروع کرنے سے پہلے کیا آپ نے سوچا نہیں تھا کہ میں جوکھم لے رہا ہوں ؟
ج: پروڈکشن ہاؤس شروع کرنا یقیناً ایک جوکھم بھرا کام ہے، لیکن زندگی ایک ہی بار ملتی ہے۔ اگر ہم اپنی خواہشات اور خوابوں کیلئے کوشش نہ کریں تو پھر کیا کریں ؟ فنکار عموماً دل سے سوچتے ہیں، جبکہ دوسرے پیشے حساب کتاب سے زیادہ چلتے ہیں۔ میں نے جو کچھ کمایا، یہیں کمایا، اسلئےچاہتا ہوں کہ اسی میں سرمایہ لگاؤں۔ اس پروڈکشن ہاؤس میں جو میرے پارٹنر ہیں وہ بھی کبھی خود کو ہیرو سمجھتے تھے۔ میں نے انہیں اس بات کیلئے منایا کہ ان کی جو خواہش باقی رہ گئی تھی، وہ اس پروڈکشن ہاؤس کے ذریعہ پوری کرسکتے ہیں۔ وہ میرے دوست ہونے کے ساتھ ساتھ پروڈکشن ہاؤس کے سرمایہ کار بھی ہیں۔ 
ورٹیکل کے بارے میں آپ کا کیا کہنا ہے؟
ج:مجھے بہت سی پیشکش ہوئی تھیں، لیکن میں ابھی تک ورٹیکلز فارمیٹ پر زیادہ توجہ نہیں دے رہاہوں۔ اس پلیٹ فارم نے لوگوں کو روزگار دیا ہے، لیکن میرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ واقعی لوگوں کو وہ سکون اور اطمینان دے رہا ہے جس کی انہیں ضرورت ہے؟ یہ اداکار ایک ورٹیکل ختم کرنے کے بعد دوسرے ورٹیکل میں کام کررہے ہیں، اس کے بعد تیسرے ورٹیکل میں ، یہ سلسلہ یوں ہی جاری ہے۔ میں ان کے جیسا نہیں سوچتا، بلکہ میں اپنے دل کے سکون کیلئے کام کرنا چاہتا ہوں جوکہ ورٹیکلز میں نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’کسی بھی اداکار کو اپنے جدوجہد کے دور سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہئے‘‘

کیا ٹی وی میں ری میک شوز بنانے سے کچھ فائدہ ہوگا؟
ج:میرے خیال میں انڈسٹری میں لوگ کم خطرے والا راستہ اختیار کر رہے ہیں، لیکن اگر ماضی کے عظیم فلم سازوں نے تجربات نہ کیے ہوتے تو صنعت کبھی آگے نہ بڑھتی۔ نئی چیزیں تخلیق کرنے کیلئے خطرہ مول لینا ضروری ہے، اور میں بھی یہی کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ فلم انڈسٹری کے جتنے بھی بڑے فلمساز اور ہدایتکار ہیں انہوں نے اپنے کریئر میں بہت سے تجربات کئے، تبھی وہ کامیاب ہوسکے ہیں۔ 
کیا آپ سوشل میڈیا پر بھی سرگرم ہیں ؟
ج: میں رفتہ رفتہ یوٹیوب پر اپنی سرگرمی بڑھا رہا ہوں اور جلدہی انسٹاگرام پر بھی فعال ہو جاؤں گا۔ میرا مقصد زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچنا اور صنعت کے ساتھ مثبت تعلق قائم کرنا ہے۔ اس کیلئے مجھے سوشل میڈیا کے ہر پلیٹ فارم پر سرگرم رہنا ہے۔ 
انڈسٹری میں اب تک کا تجربہ کیسا رہا ہے؟
ج: میرا یقین ہے کہ ہم سب بہت زیادہ بھاگ دوڑ میں مصروف ہو چکے ہیں۔ ہم بارش سے لطف اندوز ہونا، تہوار منانا، لوگوں سے ملنا اور زندگی کے چھوٹے خوبصورت لمحوں کو محسوس کرنا بھول گئے ہیں۔ ہم مشینوں کی طرح زندگی گزار رہے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ اپنے کام کے ذریعے لوگوں کو چند لمحوں کیلئے رکنے، سانس لینے، سکون محسوس کرنے اور زندگی کی حقیقی قدروں کو یاد کرنے کی ترغیب دوں۔ اسی لئے میرے چینل کا نام ’سول ورڈس ‘ ہے۔ یہ روح کی دنیا کی بات کرتا ہے، جہاں انسان اندرونی سکون، محبت اور اطمینان تلاش کر سکے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK