• Mon, 26 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

حب الوطنی کے نغموں نےبالی ووڈ میں نیا جوش بھرا

Updated: January 26, 2026, 10:02 AM IST | Mumbai

ہندی فلمی سنیما میں حب الوطنی سے لبریز فلموں اور نغموں کا ایک اہم رول رہا ہے اور اس کے ذریعے فلمساز لوگوں میں حب الوطنی کے جذبے کو آج بھی بلند کرتے ہیں۔ بالی ووڈ میں حب الوطنی پر مبنی فلموں اور نغموں کا آغاز ۱۹۴۰ء کی دہائی سے ہوا تھا۔

Border Movie.Photo:INN
بارڈر فلم۔تصویر:آئی این این

 ہندی فلمی سنیما  میں حب الوطنی سے لبریز فلموں اور  نغموں کا ایک اہم رول  رہا ہے اور اس کے ذریعے فلمساز لوگوں میں حب الوطنی کے جذبے کو آج بھی بلند کرتے ہیں۔ بالی ووڈ میں حب الوطنی پر مبنی  فلموں  اور نغموں کا آغاز ۱۹۴۰ء کی دہائی سے ہوا تھا۔ ۱۹۴۰ء میں ہی      ڈائریکٹر گیان مکھرجی کی  فلم بندھن  غالباً  پہلی فلم تھی جس میں حب الوطنی کے احساس کو سلور اسکرین پر دکھایا گیا تھا۔ یوں تو  اس فلم میں پردیپ کے لکھے تمام نغمات کافی مقبول ہوئے لیکن چل چل رے نوجوان نغمہ نے آزادی کے ديوانو ں میں ایک نیا جوش بھر دیا۔۱۹۴۳ء میں فلم قسمت کا نغمہ آج ہمالیہ کی چوٹی سے پھر ہم نے للکارا ہے دور  ہٹو  اے دنیا والو ہندوستان ہمارا ہے  نے مجاہدین آزادی کو آزادی کی راہ پر آگے بڑھنے کا  حوصلہ دیا ۔
یوں تو ہندوستانی فلمی دنیا میں بہادروں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے اب تک نہ جانے کتنے نغمے تخلیق کئے  گئےلیکن ا ے میرے وطن کے لوگو ذرا آنکھوں میں بھر لو پانی  جو شہید ہوئے ہے ان کی  ذرا یاد کرو قربانی   جیسے حب الوطنی  کے حیرت انگیز احساس سے لبریز  رام چندر دویدی عرف پردیپ کے اس نغمہ کی بات ہی کچھ الگ ہے۔ ایک پروگرام کے دوران  اسی نغمہ کو سن کر  آنجہانی وزیر اعظم جواہر لال نہرو کی آنکھوں سے آنسو چھلک گئے تھے۔
 ۱۹۵۲ء کی فلم   آنند مٹھ کا  لتا منگیشکر کی آواز میں گيتابالی پر فلمایا  گیا نغمہ وندے ماترم آج بھی سامعین کے دلوں کو حب الوطنی کے جذبے  سے بھر  دیتا ہے۔ اسی طرح  فلم جاگیرتی  میں ہیمنت کمار کی موسیقی میں محمد رفیع کا گایا نغمہ ہم لائے ہیں  طوفان سے کشتی نکال کے سامعین میں  نیا ولولہ پیدا کردیتا ہے۔
آواز کی دنیا کے بے تاج بادشاہ محمد رفیع نے کئی فلموں میں حب الوطنی  کے نغمے گائے ہیں۔ جن میں  یہ دیش ہے ویر جوانوں کا، وطن پہ جو فدا ہوگا امر وہ نوجوان ہوگا، اپنی آزادی کو ہم ہرگز مٹا سکتے نہیں، اس ملک کی سرحد کو کوئی چھو نہیں سکتا جس ملک کی سرحد کی نگہباں ہیں آنکھیں، آج گا لو مسکرا لو محفلیں سجالو، ہندوستان کی قسم نہ جھکیں گے سر وطن کے نوجوان کی قسم، میرے دیش پریمیو آپس میں پریم کرودیش پریمیو  جیسے  اہم  نغمات شامل ہیں۔
نغمہ نگار  پردیپ کی طرح ہی پریم دھون کو بھی ایسے نغمہ نگار کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جن کے اے میرے پیارے وطن، میرا رنگ دے بسنتی چولا، اے وطن اے وطن  ہم کو  تیری قسم جیسے حب الوطنی  کے احساس سے پرُ نغمات آج بھی ناظرین کے دل و دماغ  میں حب الوطنی کا جذبہ  بلند کر دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:پدم شری ایوارڈز: مِیر حاجی بھائی قاسم بھائی کون ہیں؟

فلم کابلی  والا میں گلوکار منا ڈے کی آواز میں پریم دھون کا  نغمہ  اے میرے پیارے وطن اے میرے بچھڑے چمن آج بھی سامعین کی آنکھیں نم کر دیتا ہے۔اسی کے ساتھ ۱۹۶۱ء میں ان ہی  کی ایک اور سپر ہٹ فلم  ہم ہندوستانی منظر عام پر آئی  جس کا نغمہ چھوڑو کل کی باتیں کل کی بات پرانی سپر ہٹ رہا۔ ۱۹۶۵ء میں پروڈیوسر  ، ڈائرکٹر منوج کمار کی  فلم شہید کے سبھی نغمات سپر ہٹ رہے لیکن  اے وطن اے وطن  اور میرا رنگ دے بستي چولا   آج بھی سامعین  شدت کے ساتھ سنتے ہیں۔ ۱۹۶۵ء میں ہند۔  چین جنگ پر مبنی چیتن آنند کی فلم  حقیقت بھی حب الوطنی  پرمعمور فلم تھی۔محمد رفیع کی آواز میں کیفی اعظمی کا لکھا  نغمہ کر چلے ہم فدا جانوں تن ساتھیو اب تمہارے حوالے وطن ساتھیوں  آج بھی سامعین میں حب الوطنی کے جذبے کو بلند کرکے آنکھیں نم کردیتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:بی بی ایل: سڈنی سکسِرز کو شکست دے کر پرتھ اسکورچرز نے ریکارڈ چھٹی بار خطاب جیتا

حب الوطنی سے معمور فلمیں بنانے میں منوج کمار کا نام خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ شہید، اپکار، پورب اور پچھم، کرانتی، جے ہند دا پرائیڈ جیسی فلموں کے نغمے سن کر  سامعین کی آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔ جے پی دتہ اور انل شرما نے بھی حب الوطنی کے جذبے سے معمور کئی فلمیں بنائی ہیں۔ اسی طرح نغمہ نگاروں نے کئی فلموں میں حب الوطنی پر مشتمل کئی نغموں کی تخلیق کی ہے ان میں جہاں ڈال ڈال پر سونے کی چڑیا کرتی ہیں بسیرا وہ بھارت دیش ہے میرا ، ننھا منا راہی ہوں دیش کا سپاہی ہوں، پریت جہاں کی ریت سدا میں گیت وہاں کے گاتا ہوں، میرے ملک کی دھرتی سونا اگلے، دل دیا ہے جاں بھی دیں گے اے وطن تیرے لئے، بھارت ہم کو  جاں سے پیارا ہے، یہ دنیا ایک دلہن ، دلہن کے ماتھے کی بندیا  یہ میرا انڈیا، سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے، پھر بھی دل ہے ہندوستانی،  میرا ملک میرا دیش میرا یہ وطن، زندگی موت نہ بن جائے سنبھالو یارو،  ما تجھے سلام، تھوڑی سی دھول میری دھرتی کی  میری وطن کی   وغیرہ اہم ہیں۔ ۱۹۹۷ءکی فوجیوں کی زندگی پر مبنی فلم بارڈر بھی   حب الوطنی کے  جذبے سے بھری یادگار فلم رہی۔ اس فلم کے گیت گھر کب آؤگے،  اے جاتے ہوئے لمحوں  وغیرہ  کافی مقبول ہوئے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK