• Mon, 02 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

دیا مرزا کی حمایت میں لوگ آگے آئے، بی ایم سی کمشنر کو ہٹانے کا مطالبہ

Updated: November 02, 2026, 9:13 PM IST | Mumbai

بالی ووڈ اداکارہ دیا مرزا کے ماحولیاتی شعور سے متعلق دیوالی پیغام کو برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کے سوشل میڈیا صفحات سے ہٹائے جانے کے بعد تنازع شدت اختیار کرگیا ہے۔

Dia Mirza.Photo:INN
دیامرزا۔ تصویر:آئی این این

بالی ووڈ اداکارہ دیا مرزا کے ماحولیاتی شعور سے متعلق دیوالی پیغام کو برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کے سوشل میڈیا صفحات سے ہٹائے جانے کے بعد تنازع شدت اختیار کرگیا ہے۔ اداکارہ کی حمایت میں کئی افراد اور سماجی و سیاسی حلقوں نے آواز اٹھائی ہے اور بی ایم سی کے اقدام پر سوالات کھڑے کیے ہیں۔ بعض لوگوں نے میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے کو عہدے سے ہٹانے اور دیا مرزا سے معافی مانگنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔تنازع اس وقت شروع ہوا جب بی ایم سی نے دیوالی کے موقع پر شہریوں سے پٹاخوں کے استعمال میں احتیاط برتنے اور فضائی  اور صوتی آلودگی سے بچنے کی اپیل کے لیے اداکارہ دیا مرزا سمیت کئی معروف شخصیات کے ویڈیو پیغامات جاری کیے۔ تاہم ممبئی بی جے پی کے صدر امیت ساٹم کی جانب سے دیا مرزا کی ویڈیو پر اعتراض کیے جانے کے چند گھنٹوں بعد شہری انتظامیہ نے اداکارہ کا ویڈیو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے ہٹا دیا۔ بالی ووڈ اداکارہ دیا مرزا کے ماحول دوست دیوالی پیغام کو برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے ہٹائے جانے کے بعد تنازع شدت اختیار کرگیا ہے۔ اداکارہ کی حمایت میں سوشل میڈیا صارفین، سیاسی لیڈروں اور مختلف حلقوں نے آواز بلند کی ہے۔ بی ایم سی کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے بعض لوگوں نے میونسپل کمشنر اشونی بھیڑے کو عہدے سے ہٹانے اور دیا مرزا سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس معاملے نے ممبئی میں دیوالی، مذہبی روایات، ماحولیاتی آلودگی اور شہری انتظامیہ کے کردار سے متعلق ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:عمران خان کا انکشاف، لیکھا واشنگٹن کے ساتھ رہتے ہوئے بدلا طرزِ زندگی

یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب بی ایم سی نے دیوالی کے موقع پر شہریوں کو فضائی اور صوتی آلودگی سے بچنے اور پٹاخوں کے استعمال میں احتیاط برتنے کی اپیل کرنے کے لیے کئی معروف شخصیات کے ویڈیو پیغامات جاری کیے۔ ان شخصیات میں اداکارہ دیا مرزا، مادھوری دکشت، نشی گندھا واڈ اور کرکٹر اجنکیا رہانے شامل تھے۔ دیا مرزا نے اپنے پیغام میں لوگوں سے ماحول کا خیال رکھتے ہوئے دیوالی منانے اور آلودگی میں اضافے کا سبب بننے والی سرگرمیوں سے گریز کرنے کی اپیل کی تھی۔
ممبئی بی جے پی کے صدر امیت ساٹم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر دیا مرزا کی ویڈیو پر اعتراض کرتے ہوئے بی ایم سی کو ٹیگ کیا اور لکھا کہ انہیں دیا مرزا سے دیوالی منانے کا طریقہ سیکھنے کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ ان کی روایات اور تہذیب اپنی گہری جڑیں رکھتی ہیں۔ ان کے اس تبصرے کے چند گھنٹوں بعد بی ایم سی نے دیا مرزا کا ویڈیو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے ہٹا دیا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ مادھوری دکشت، نشی گندھا واڈ اور اجنکیا رہانے کے اسی مہم کے تحت جاری کیے گئے ویڈیوز بی ایم سی کے صفحات پر موجود رہے۔ اسی فرق کو بنیاد بناکر سوشل میڈیا پر شہری انتظامیہ کے فیصلے پر سوالات اٹھائے گئے۔ 

یہ بھی پڑھئے:افغانستان نے زمبابوے کے خلاف ٹی۲۰؍ سیریز میں کلین سویپ کیا

ویڈیو ہٹائے جانے پر دیا مرزا نے اپنی ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کا پیغام عوامی بیداری اور صحت مند ماحول کو فروغ دینے کے مقصد سے ریکارڈ کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق دیوالی روشنی کی تاریکی پر، علم کی جہالت پر اور امید کی مایوسی پر فتح کا تہوار ہے۔ فضائی آلودگی صحتِ عامہ کا ایک اہم مسئلہ ہے اور اسے کم کرنے کی ہر کوشش کا خیرمقدم کیا جانا چاہیے۔اداکارہ نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ جس ویڈیو کو بامبے ہائی کورٹ اور بی ایم سی کی ہدایت پر عوامی مفاد میں ریکارڈ کیا گیا، اس پر تنقید کیوں کی جارہی ہے؟ انہوں نے سوشل میڈیا پر یہ وضاحت بھی کی کہ انہوں نے اس مہم کے لیے کوئی رقم نہیں لی تھی۔ ان کے ایک تبصرے، ’’کوئی پیسے نہیں لیے ہیں، بھلائی کا زمانہ ہی نہیں رہا‘‘ نے بھی لوگوں کی توجہ حاصل کی۔ 
دیا مرزا کی ویڈیو ہٹائے جانے پر اپوزیشن جماعتوں کے لیڈروں نے بھی اعتراض کیا۔ شیوسینا (یو بی ٹی) کی رہنما اور سابق میئر کشور یڈنکر نے سوال اٹھایا کہ کیا شہری انتظامیہ بی جے پی یا اس کے ممبئی صدر کے دباؤ میں کام کررہی ہے؟ انہوں نے الزام لگایا کہ شہری ادارے کے روزمرہ کام کاج میں سیاسی مداخلت بڑھ رہی ہے۔ مہاراشٹر نو نرمان سینا کے کارپوریٹر یشونت کلیدار نے بھی امیت ساٹم کے اعتراض پر تنقید کی اور کہا کہ اگر انہیں پٹاخوں سے اتنی محبت ہے تو وہ اپنی رہائش گاہ کے باہر پٹاخے جلا سکتے ہیں۔ دوسری جانب اے آئی ایم آئی ایم کے ترجمان وارث پٹھان نے بھی سوال اٹھایا کہ جب دیگر اداکاراؤں نے بھی اسی نوعیت کی اپیل کی تھی تو صرف دیا مرزا کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ ان کے مطابق ایک ہی پیغام اور ایک ہی عدالتی ہدایت کے باوجود مختلف شخصیات کے ساتھ مختلف رویہ اختیار کرنا مناسب نہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے:دھمکی کے بعد امیتابھ بچن نےبلٹ پروف شیشے کے پیچھے سے مداحوں کا استقبال کیا

اس معاملے میں ممبئی کی میئر ریتو تاؤڑے کے بیان نے بھی تنازع کو مزید بڑھا دیا۔ انہوں نے دیا مرزا پر تنقید کرتے ہوئے انہیں ہندو مخالف قرار دیا اور کہا کہ بی ایم سی کی جانب سے انہیں مستقبل میں کسی مہم کا حصہ نہیں بنایا جائے گا۔ میئر نے یہ بھی کہا کہ آئندہ شہری ادارے کی مہمات میں شامل کی جانے والی شخصیات کے نام ان کے سامنے پیش کیے جائیں اور ان کی منظوری حاصل کی جائے۔ ڈپٹی میئر سنجے گھاڑی نے اس معاملے میں مختلف موقف اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پٹاخوں سے ہونے والی آلودگی کے بارے میں شہریوں کو آگاہ کرنے میں دیا مرزا نے کوئی غلط بات نہیں کہی، اس لیے ان کی ویڈیو ہٹانے کی ضرورت نہیں تھی۔ اس طرح ممبئی کی شہری قیادت میں بھی اس معاملے پر اختلاف رائے سامنے آگیا ہے۔  
واضح رہے کہ بی ایم سی نے ممبئی میں بڑھتی فضائی آلودگی کے پیش نظر ماحول دوست دیوالی منانے کی اپیل کے لیے یہ مہم شروع کی تھی۔ اس کا مقصد شہریوں کو پٹاخوں کے مضر اثرات سے آگاہ کرنا اور عوامی مقامات پر آلودگی پھیلانے والی سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی کرنا تھا۔ یہ مہم بامبے ہائی کورٹ کی ہدایات کے پس منظر میں شروع کی گئی تھی، جس میں عوامی سڑکوں، گلیوں اور فٹ پاتھوں پر پٹاخے جلانے سے متعلق پابندی اور ماحول دوست طریقوں کی حوصلہ افزائی پر زور دیا گیا تھا۔ اس پورے معاملے میں بی ایم سی کی جانب سے دیا مرزا کا ویڈیو ہٹانے کی وجوہات پر کوئی تفصیلی سرکاری وضاحت سامنے نہیں آئی ہے۔ تاہم ویڈیو ہٹائے جانے کے بعد اٹھنے والے سوالات نے شہری اداروں کی خودمختاری، عوامی صحت سے متعلق آگاہی مہمات اور سیاسی اعتراضات کے اثرات پر بحث کو جنم دیا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK