• Mon, 02 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندوستان کی معاشی مضبوطی کو ملکی طلب سے تقویت مل رہی ہے: نرملا سیتارمن

Updated: November 02, 2026, 9:13 PM IST | Mumbai

مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے کہا ہے کہ ہندوستان کی معاشی مضبوطی اور استحکام کی بنیادی وجہ ملک کے عوام کی بڑھتی ہوئی امنگیں، وسیع گھریلو بازار اور اندرونِ ملک صارفین کی مضبوط طلب ہے۔ ہندوستان میں متوسط طبقے کی توسیع سے لوگوں کی قوتِ خرید میں اضافہ ہوا ہے۔

Nirmala Sitharaman.Photo:INN
نرملا سیتارمن۔ تصویر:آئی این این

مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے کہا ہے کہ ہندوستان کی معاشی مضبوطی اور استحکام کی بنیادی وجہ ملک کے عوام کی بڑھتی ہوئی امنگیں، وسیع گھریلو بازار اور اندرونِ ملک صارفین کی مضبوط طلب ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں متوسط طبقے کی توسیع سے لوگوں کی قوتِ خرید میں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں ملکی معیشت کو مسلسل سہارا مل رہا ہے۔ حکومت مالی شمولیت، سماجی تحفظ، ہنرمندی کی ترقی اور مالیاتی نظم و ضبط کو فروغ دے کر اس معاشی بنیاد کو مزید مضبوط بنانے کے لیے کام کر رہی ہے۔
نرملا سیتارمن پیر کو ممبئی میں ایچ ایس بی سی انڈیا کے زیر اہتمام منعقدہ ’فردرنگ فنانشل انکلوژن‘ پروگرام میں گفتگو کر رہی تھیں۔ اس موقع پر انہوں نے ایچ ایس بی سی انڈیا کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر ہتیندر دیو کے ساتھ خصوصی نشست میں شرکت کی۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ہندوستان کی بڑی آبادی، وسیع صارفین کی منڈی اور متوسط طبقے کی بڑھتی ہوئی قوتِ خرید ملک کی معاشی ترقی کے اہم محرکات ہیں۔ ان عوامل کی وجہ سے ملکی معیشت کو اندرونی سطح پر مضبوط سہارا حاصل ہو رہا ہے۔
 وزیر خزانہ نے مالی تحفظ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کی ترجیحات میں ملک کے ہر شہری تک بیمہ کی سہولت پہنچانا شامل ہے۔ اس مقصد کے لیے پردھان منتری جیون جیوتی بیمہ یوجنا اور پردھان منتری سرکشا بیمہ یوجنا جیسی اسکیمیں اہم کردار ادا کر رہی ہیں، جن کے ذریعے کم پریمیم پر شہریوں کو بیمہ تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔انہوں نے اٹل پنشن یوجنا کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس اسکیم کے ذریعے شہریوں کو بڑھاپے میں مالی تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حکومت کا ہدف ہے کہ ۲۰۴۷ء تک ملک میں ’سب کے لیے بیمہ‘ کا مقصد حاصل کیا جائے اور معاشرے کے تمام طبقات تک بیمہ کی سہولت کی رسائی میں اضافہ ہو۔

یہ بھی پڑھئے:افغانستان نے زمبابوے کے خلاف ٹی۲۰؍ سیریز میں کلین سویپ کیا

نرملا سیتارمن نے آیوشمان بھارت اسکیم کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے تحت ہر خاندان کو پانچ لاکھ روپے تک کا صحت بیمہ فراہم کیا جاتا ہے۔ اس سہولت سے مستفید ہونے والے افراد کو علاج کے لیے اپنی جائیداد یا دیگر اثاثے فروخت کرنے جیسے مشکل حالات سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں بنیادی صحت مراکز کی توسیع سے بھی طبی سہولتوں تک عوام کی رسائی بہتر ہوئی ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ صحت، بیمہ اور سماجی تحفظ کی سہولتیں زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچیں، تاکہ بیماری یا کسی مالی بحران کی صورت میں خاندانوں پر غیر ضروری معاشی بوجھ نہ پڑے۔
 وزیر خزانہ نے عالمی بینک کے تخمینے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تقریباً ۵۰؍ کروڑ افراد غربت سے باہر آئے ہیں۔ ان کے مطابق یہ کامیابی مسلسل پالیسی اقدامات اور بنیادی سہولتوں تک بہتر رسائی کا نتیجہ ہے۔انہوں نے کہا کہ اسکولوں تک رسائی اور اسکولی تعلیم کے بعد ہنرمندی کی تربیت نے غربت میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ نوجوانوں کو تعلیم کے ساتھ ایسے عملی ہنر بھی فراہم کیے جائیں جن کی روزگار کی منڈی میں ضرورت ہے۔ مستقبل میں روزگار کے امکانات پر بات کرتے ہوئے نرملا سیتارمن نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے متعلق ملازمتوں کے لیے تیار کرنے پر توجہ دے رہی ہے۔ اس مقصد کے تحت خصوصی تربیتی پروگراموں کو فروغ دیا جا رہا ہے، تاکہ نوجوانوں کی صلاحیتوں اور صنعتوں کی ضروریات کے درمیان موجود فرق کو کم کیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھئے:دھمکی کے بعد امیتابھ بچن نےبلٹ پروف شیشے کے پیچھے سے مداحوں کا استقبال کیا

ان کے مطابق ٹیکنالوجی کے شعبے میں تیزی سے ہونے والی تبدیلیوں کے پیش نظر نوجوانوں کو جدید مہارتوں سے آراستہ کرنا ضروری ہے، تاکہ وہ مستقبل میں پیدا ہونے والے روزگار کے مواقع سے فائدہ اٹھا سکیں۔ معاشی ترقی کی حکمت عملی پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کے سرمایہ جاتی اخراجات ملک کی ترقی کا ایک اہم ستون ہیں۔ بنیادی ڈھانچے اور دیگر ترقیاتی منصوبوں پر سرمایہ کاری سے معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملتا ہے اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری کے لیے بھی سازگار ماحول پیدا ہوتا ہے۔ تاہم انہوں نے مالیاتی خسارے پر مسلسل نظر رکھنے اور مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے اخراجات ذمہ دارانہ ہونے چاہئیں، تاکہ ترقیاتی سرگرمیوں کو جاری رکھتے ہوئے ملک کی مالیاتی صورتحال کو بھی مستحکم رکھا جا سکے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت میں استحکام کاروباری اداروں کو پالیسیوں کے حوالے سے وضاحت اور اعتماد فراہم کرتا ہے، جس سے وہ طویل مدتی سرمایہ کاری کے فیصلے بہتر انداز میں کر سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK