فرانس کے اسٹار فٹبالر کائلین ایمباپے نے چین میں پیش آنے والے تنازع کے بعد میدان میں واپسی کرتے ہوئے گول اسکور کیا اور اپنی ٹیم ریئل میڈرڈ کو ریسنگ سانتاندر کے خلاف شاندار کامیابی دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔
EPAPER
Updated: November 02, 2026, 9:58 PM IST | Madrid
فرانس کے اسٹار فٹبالر کائلین ایمباپے نے چین میں پیش آنے والے تنازع کے بعد میدان میں واپسی کرتے ہوئے گول اسکور کیا اور اپنی ٹیم ریئل میڈرڈ کو ریسنگ سانتاندر کے خلاف شاندار کامیابی دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔
فرانس کے اسٹار فٹبالر کائلین ایمباپے نے چین میں پیش آنے والے تنازع کے بعد میدان میں واپسی کرتے ہوئے گول اسکور کیا اور اپنی ٹیم ریئل میڈرڈ کو ریسنگ سانتاندر کے خلاف شاندار کامیابی دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ہسپانوی فٹبال لیگ لا لیگا کے مقابلے میں ریئل میڈرڈ نے یکم نومبر کو ریسنگ سانتاندر کو ۳-۰ سے شکست دے کر اپنی برتری ثابت کی۔ اس کامیابی کے ساتھ ٹیم نے اہم پوائنٹس حاصل کیے، جبکہ ایمباپے نے ایک مرتبہ پھر اپنی گول کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔
➕3️⃣ A win in Santander! @Emirates https://t.co/UQWJoPsJDv
— Real Madrid C.F. 🇬🇧🇺🇸 (@realmadriden) November 1, 2026
مقابلے کے آغاز سے ہی ریئل میڈرڈ نے جارحانہ کھیل کا مظاہرہ کیا اور حریف ٹیم پر دباؤ برقرار رکھا۔ میچ کے ۱۰؍ویں منٹ میں کائلین ایمباپے کو حریف کھلاڑی میٹیو پراتی کے ساتھ ٹکراؤ کے بعد پنالٹی ملی، جس پر انہوں نے ۱۱؍ویں منٹ میں گیند کو جال میں پہنچا کر ریئل میڈرڈ کو ۱-۰ کی برتری دلا دی۔ تاہم پنالٹی کے فیصلے پر تنازع بھی سامنے آیا اور کئی مبصرین نے اسے نرم فیصلہ قرار دیا۔
یہ بھی پڑھئےدھمکی کے بعد امیتابھ بچن نےبلٹ پروف شیشے کے پیچھے سے مداحوں کا استقبال کیا
اس کے صرف ۱۰؍ منٹ بعد انگلینڈ کے مڈفیلڈر جوڈ بیلنگھم نے ارادہ گلر کے عمدہ پاس پر گول کرتے ہوئے ٹیم کی برتری ۲-۰ ؍کردی۔ یہ ریئل میڈرڈ کے لیے بیلنگھم کا ۵۰؍واں گول تھا۔ میچ کے ۳۶ویں منٹ میں یان دیومانڈے نے کارنر کے بعد باکس کے باہر سے زبردست شاٹ لگاتے ہوئے تیسرا گول اسکور کیا اور پہلے ہاف کے اختتام سے قبل ہی اپنی ٹیم کی کامیابی تقریباً یقینی بنادی۔
دوسرے ہاف میں ریسنگ سانتاندر نے واپسی کی کوشش کی اور ریئل میڈرڈ کو دفاعی انداز اختیار کرنے پر مجبور کیا، لیکن میڈرڈ نے جلد ہی کھیل پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرلیا۔ ایمباپے کا ایک شاٹ گول پوسٹ سے ٹکرا کر واپس آگیا، جبکہ بیلنگھم کی ایک اور کوشش کو ریسنگ کے گول کیپر جولین اگیرزابالا نے ناکام بنادیا۔ میزبان ٹیم کو بعد میں پنالٹی بھی ملی، جب ریئل میڈرڈ کے اوریلین تشوامینی کے ہاتھ سے گیند لگ گئی، تاہم ویڈیو اسسٹنٹ ریفری (VAR) کے جائزے کے بعد یہ فیصلہ واپس لے لیا گیا۔ انجری ٹائم میں بیلنگھم نے ایک اور گول کیا، لیکن آف سائیڈ قرار دیے جانے کے باعث اسے تسلیم نہیں کیا گیا۔ اس طرح مقابلہ ریئل میڈرڈ کی ۳-۰ کی کامیابی پر ختم ہوا۔ اس کامیابی سے قبل ایمباپے گزشتہ ہفتے ایک بین الاقوامی تنازع کی وجہ سے خبروں میں تھے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں انہوں نے ایک انٹرنیٹ میم کا ذکر کرتے ہوئے سابق چینی رہنما ماؤ زے تنگ کے بارے میں ایسا تبصرہ کیا تھا جس پر چین میں شدید ردعمل سامنے آیا۔ ویڈیو میں ماؤ زے تنگ کو آمر قرار دینے سے متعلق ان کے الفاظ پر چینی سوشل میڈیا صارفین اور مختلف حلقوں نے ناراضی ظاہر کی۔ اس تنازع کے بعد ایمباپے نے ۲۷؍ اکتوبر کو معذرت کی، جبکہ ریئل میڈرڈ اور ہسپانوی فٹبال لیگ لا لیگا نے بھی وضاحت اور معذرت پیش کی۔ چین کے سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کی نگرانی کرنے والے ادارے چائنا میڈیا گروپ نے لا لیگا کے میچوں کی نشریات روکنے کا فیصلہ کیا تھا۔ یکم نومبر کو ریئل میڈرڈ اور ریسنگ سانتاندر کے درمیان ہونے والا مقابلہ بھی چینی سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر نہیں کیا گیا، حالانکہ ایمباپے، ریئل میڈرڈ اور لا لیگا کی جانب سے معذرت کی جاچکی تھی۔
یہ بھی پڑھئے:افغانستان نے زمبابوے کے خلاف ٹی۲۰؍ سیریز میں کلین سویپ کیا
ریئل میڈرڈ کے لیے یہ فتح اس لحاظ سے بھی اہم رہی کہ ٹیم نے تمام مقابلوں میں مسلسل چھٹی کامیابی حاصل کی۔ اس جیت کے بعد ٹیم لا لیگا میں سرفہرست بارسلونا سے تین پوائنٹس کے فاصلے پر رہی، جبکہ شہر کی حریف ٹیم ایٹلیٹکو میڈرڈ سے اس کا فرق ایک پوائنٹ تھا۔ ایمباپے کے لیے یہ لیگ سیزن کا ۱۲؍واں گول تھا اور وہ گول اسکور کرنے والوں کی فہرست میں بارسلونا کے رافینہ کے بعد دوسرے مقام پر تھے، جن کے نام ۱۵؍ گول درج تھے۔
ریئل میڈرڈ کے کوچ جوزے مورینہو نے میچ کے بعد ٹیم کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پہلے ہاف میں کھلاڑیوں نے بہت مضبوط کھیل پیش کیا اور ٹیم کے پاس مزید گول کرنے کے مواقع بھی تھے۔ دوسری جانب ریسنگ سانتاندر کے کوچ جوزے البرٹو نے ایمباپے کو دی جانے والی پنالٹی کے فیصلے پر ناراضی ظاہر کی، تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ ریئل میڈرڈ نے پہلے ہاف میں بہتر کھیل پیش کیا اور ان کی ٹیم پر مسلسل دباؤ برقرار رکھا۔