ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ نے ایران کے ساتھ معاہدے کی پانچ نکاتی تجویز پیش کی ہے، ان شرائط میں ایران کی صرف ایک ایٹمی سہولت کو فعال رہنے دینا اور تمام محاذوں پر جنگ بندی کو مذاکرات کے نتائج سے مشروط کرنا شامل ہے۔
EPAPER
Updated: May 17, 2026, 10:08 PM IST | Washington
ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ نے ایران کے ساتھ معاہدے کی پانچ نکاتی تجویز پیش کی ہے، ان شرائط میں ایران کی صرف ایک ایٹمی سہولت کو فعال رہنے دینا اور تمام محاذوں پر جنگ بندی کو مذاکرات کے نتائج سے مشروط کرنا شامل ہے۔
ایران کی نیم سرکاری فارس نیوز ایجنسی کے مطابق، امریکہ نے ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے پانچ کلیدی شرائط پیش کی ہیں، جن میں ایران کی صرف ایک جوہری تنصیب کوفعال رہنے دینا شامل ہے۔رپورٹ کے مطابق، امریکہ کی دیگر چار شرائط میں کوئی معاوضہ یا ہرجانہ ادا نہ کرنا، ایران کے ۴۰۰؍کلوگرام یورینیم کو امریکہ منتقل کرنا، ایران کے منجمد اثاثوں میں سے۲۵؍ فیصد کو منجمد رکھنا، تمام محاذوں پر جنگ بندی کو مذاکرات کے نتائج سے مشروط کرنا شامل ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل اور لبنان ۴۵؍ روزہ جنگ بندی میں توسیع پرمتفق: امریکہ
جبکہ ایران کی کلیدی شرائط میں تمام محاذوں (لبنان سمیت) پر جنگ کا خاتمہ، پابندیوں کا خاتمہ، منجمد ایرانی اثاثوںکو جاری کرنا، جنگی نقصانات کا معاوضہ، آبنائے ہرمز پر ایران کی خودمختاری کو تسلیم کرنا شامل ہیں۔یاد رہے کہ اس سے قبل بھی امریکی صدر کی جانب سے معاہدے کی تجاویز پیش کی گئی تھیں، جسے ایران نے مسترد کردیا تھا، جبکہ اس کے جواب میں ایران نے ۱۵؍ نکاتی شرائط پیش کئے تھے، جن میں خلیج سے امریکی فوج کا انخلاء، جنگی نقصان کی ہرجانہ، اور آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول ، اور وہاں سے گزرنے والے جہازوں سے ٹول وصولی شامل تھے، لیکن امریکی صدر نے ان شرائط کو ماننے سے انکار کردیا تھا۔چونکہ جنگ بندی جاری ہے، اور معاہدے کی کوششیں بھی،اور حالیہ تجاویز اسی کوشش کی تازہ ترین کڑی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران سفارتکاری کیلئے پرعزم: ایرانی صدر کا پوپ لیو کے نام پیغام
واضح رہے کہ فروری میں امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد علاقائی کشیدگی بڑھ گئی۔ تہران نے اسرائیل اور خلیج میں امریکی اتحادیوں کو نشانہ بنایا اور آبنائے ہرمز کو بند کر دیا۔ تاہم پاکستان کی ثالثی میں۸؍ اپریل کو جنگ بندی نافذ ہوئی، تاہم اسلام آباد مذاکرات میں مستقل معاہدہ نہ ہو سکا۔بعد ازاں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بعد میں جنگ بندی کو غیر معینہ مدت کے لیے بڑھا دیا۔