• Sun, 04 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اداروں کی شکایات کے بعد جی ایس ٹی کے تحت گرفتاری اختیارات ختم کیے جانے کا امکان

Updated: October 04, 2026, 5:08 PM IST | New Delhi

کاروباری اداروں نے ٹیکس افسران کی جانب سے گرفتاری کے اختیارات کے استعمال اور اس سے پیدا ہونے والی مشکلات پر اعتراضات اٹھائے ہیں، جس کے بعد متعلقہ ضابطوں میں تبدیلی کی تجویز زیر غور ہے۔

GST.Photo:INN
جی ایس ٹی۔ تصویر:آئی این این

کاروباری حلقوں کی جانب سے ٹیکس حکام کے اختیارات کے مبینہ حد سے تجاوز پر تشویش ظاہر کیے جانے کے بعد حکومت  اشیا و خدمات ٹیکس کے تحت گرفتاری کے اختیارات ختم کرنے  پر غور کر سکتی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق کاروباری اداروں نے ٹیکس افسران کی جانب سے گرفتاری کے اختیارات کے استعمال اور اس سے پیدا ہونے والی مشکلات پر اعتراضات اٹھائے ہیں، جس کے بعد متعلقہ ضابطوں میں تبدیلی کی تجویز زیر غور ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کاروباری تنظیموں کا مؤقف ہے کہ اشیا و خدمات ٹیکس کے نفاذ کے دوران بعض معاملات میں ٹیکس حکام کو حاصل گرفتاری کے اختیارات کا استعمال ضرورت سے زیادہ سختی کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ ان اداروں کا کہنا ہے کہ ٹیکس سے متعلق تنازعات، خاص طور پر جہاں دھوکا دہی یا دانستہ ٹیکس چوری کا واضح ثبوت موجود نہ ہو، ان میں گرفتاری کا اختیار استعمال کیے جانے سے کاروباری ماحول متاثر ہوتا ہے۔
موجودہ نظام کے تحت اشیا و خدمات ٹیکس قانون میں بعض سنگین جرائم کے معاملے میں ٹیکس افسران کو کسی شخص کو گرفتار کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ ان میں بڑے پیمانے پر ٹیکس چوری، جعلی رسیدوں کا استعمال، غلط معلومات فراہم کرنا اور حکومت سے ناجائز مالی فائدہ حاصل کرنے جیسے معاملات شامل ہو سکتے ہیں۔ کاروباری حلقوں کی شکایت ہے کہ ان اختیارات کی وجہ سے بعض اوقات ایسے معاملات میں بھی سخت کارروائی کا خدشہ پیدا ہوجاتا ہے جو بعد میں انتظامی یا قانونی تنازع ثابت ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:’’میری خواہش ہے کہ اپنے کریئر میں کوئی اچھا مزاحیہ کردار بھی ادا کروں‘‘

تجویز کردہ تبدیلی کا بنیادی مقصد  کاروبار کرنے کے ماحول کو آسان بنانا اور ٹیکس انتظامیہ کے اختیارات کے استعمال میں توازن پیدا کرنا  بتایا جا رہا ہے۔ اگر حکومت اس سلسلے میں فیصلہ کرتی ہے تو اس سے کاروباری اداروں کو ٹیکس سے متعلق کارروائی کے دوران بڑی راحت مل سکتی ہے۔ تاہم سنگین مالی جرائم، منظم ٹیکس چوری اور سرکاری محصولات کو جان بوجھ کر نقصان پہنچانے والے معاملات میں کارروائی کے لیے دیگر قانونی راستے برقرار رکھے جانے کا امکان ہے۔
کاروباری برادری طویل عرصے سے حکومت سے مطالبہ کرتی رہی ہے کہ ٹیکس قوانین کے نفاذ میں افسران کے صوابدیدی اختیارات کو محدود کیا جائے اور معمولی یا تکنیکی نوعیت کی خلاف ورزیوں کو سنگین جرائم کے برابر نہ سمجھا جائے۔ صنعت اور تجارت سے وابستہ حلقوں کا کہنا ہے کہ واضح ضابطوں اور شفاف کارروائی سے نہ صرف کاروباری اداروں کا اعتماد بڑھے گا بلکہ ٹیکس نظام میں بھی بہتری آئے گی۔

یہ بھی پڑھئے:جہاں بھی وہ ہمیں روکیں گے وہیں ہمارا جنتر منتر بن جائے گا: ابھیجیت دپکے

دوسری جانب ٹیکس انتظامیہ کے لیے گرفتاری کا اختیار بڑے پیمانے پر ٹیکس چوری اور دھوکا دہی کے خلاف کارروائی کا ایک اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے اگر اس اختیار کو مکمل طور پر ختم کرنے کی تجویز پر پیش رفت ہوتی ہے تو حکومت کو یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ سنگین معاشی جرائم کے خلاف مؤثر قانونی کارروائی کا نظام کمزور نہ پڑے۔ماہرین کے مطابق حکومت کے سامنے اصل چیلنج  ٹیکس وصولی اور کاروباری سہولت کے درمیان مناسب توازن قائم کرنا  ہے۔ اگر گرفتاری کے اختیارات میں تبدیلی کی جاتی ہے تو ممکنہ طور پر سنگین جرائم کے لیے الگ اور سخت قانونی طریقہ کار برقرار رکھا جائے گا، جبکہ معمولی نوعیت کے ٹیکس تنازعات کو گرفتاری کے بجائے جرمانے، نوٹس اور قانونی سماعت کے ذریعے حل کرنے پر زیادہ زور دیا جا سکتا ہے۔یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت کاروبار کرنے کے طریقہ کار کو آسان بنانے، غیر ضروری ضابطوں کو کم کرنے اور صنعت و تجارت کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے پر زور دے رہی ہے۔ اگر اشیا و خدمات ٹیکس کے تحت گرفتاری کے اختیارات میں واقعی تبدیلی کی جاتی ہے تو اسے ٹیکس انتظامیہ میں بڑی اصلاح کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ تاہم حتمی فیصلہ حکومت کی جانب سے باضابطہ اعلان اور متعلقہ قانون میں ترمیم کے بعد ہی واضح ہوگا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK