Inquilab Logo Happiest Places to Work

پراڈا کے عالمی سفیر سینٹ لیونٹ کا فلسطینی نقشے والا لاکٹ موضوعِ بحث

Updated: July 03, 2026, 10:03 PM IST | Rome

اطالوی لگژری فیشن برانڈ پراڈا کی جانب سے فلسطینی نژاد گلوکار اور نغمہ نگار سینٹ لیونٹ کو عالمی سفیر مقرر کیے جانے کے بعد ان کی میلان فیشن ویک میں شرکت سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بن گئی۔ اس موقع پر لیونٹ نے تاریخی فلسطین کے نقشے کی شکل کا لاکٹ پہن رکھا تھا، جسے بہت سے صارفین نے فلسطینی شناخت اور ورثے کی علامت قرار دیا، جبکہ بعض اسرائیل نواز حلقوں نے اسے سیاسی پیغام سے تعبیر کرتے ہوئے تنقید کی۔ پراڈا نے اس معاملے پر تاحال کوئی بیان جاری نہیں کیا۔

Photo: X
تصویر: ایکس

اطالوی لگژری فیشن ہاؤس پراڈا نے فلسطینی نژاد گلوکار اور نغمہ نگار سینٹ لیونٹ کو اپنا عالمی سفیر مقرر کیا ہے، تاہم ان کی پہلی نمایاں عوامی موجودگی سوشل میڈیا پر وسیع بحث کا باعث بن گئی۔ یہ بحث خود ان کی تقرری پر نہیں بلکہ میلان میں برانڈ کے اسپرنگ/سمر ۲۰۲۷ء مینز ویئر شو کے دوران پہنے گئے ایک لاکٹ پر مرکوز رہی، جس میں تاریخی فلسطین کے نقشے کی شکل دکھائی گئی تھی۔ سینٹ لیونٹ نے اپنے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر پراڈا کی جانب سے شیئر کئے گئے ویڈیو میں یہ لاکٹ نمایاں انداز میں پہنا ہوا تھا، جس کے بعد مختلف حلقوں میں اس کی علامتی اہمیت پر گفتگو شروع ہو گئی۔

 
 
 
 
 
View this post on Instagram
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Prada (@prada)

تقریب میں سینٹ لیونٹ سیاہ رنگ کے سوٹ میں شریک ہوئے، تاہم ان کے لباس سے زیادہ توجہ اس چاندی کے رنگ کے لاکٹ نے حاصل کی، جس میں ۱۹۴۸ء سے قبل کے تاریخی فلسطین کے جغرافیائی خدوخال کی عکاسی کی گئی تھی۔ بہت سے فلسطینی اور فلسطین کے حامی صارفین نے اس لاکٹ کو فلسطینی شناخت، تاریخ اور ثقافتی ورثے کی علامت قرار دیتے ہوئے اس کی تعریف کی۔ ان کے مطابق تاریخی فلسطین کا نقشہ فلسطینی عوام کی سرزمین، یادداشت اور قومی شناخت سے وابستگی کی نمائندگی کرتا ہے۔ لاکٹ کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئے، جہاں متعدد صارفین نے فلسطینی پرچم کے ایموجیز اور اظہارِ یکجہتی کے پیغامات کے ساتھ سینٹ لیونٹ کی حمایت کی۔

ایک صارف نے لکھا، ’’تاریخ کے درست رخ پر۔‘‘ دوسری جانب بعض اسرائیل نواز صارفین نے پراڈا کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اس طرح کی علامت کو فروغ دینا ایک سیاسی پیغام کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک صارف نے لکھا کہ ’’میں فلسطینی نمائندگی کے خلاف نہیں ہوں، لیکن پراڈا نے اپنے نئے فلسطینی سفیر کی ویڈیو ایسے لاکٹ کے ساتھ شائع کی ہے جسے بہت سے لوگ اسرائیل کے وجود کی نفی کے طور پر دیکھتے ہیں۔‘‘ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا کہ اگر کوئی اسرائیلی یا یہودی شخصیت اسی نوعیت کی علامت استعمال کرتی تو ممکنہ طور پر ردعمل مختلف ہوتا۔ ایک تیسرے صارف نے دعویٰ کیا کہ پراڈا نے سینٹ لیونٹ کو بطور سفیر منتخب کرکے اور تاریخی فلسطین کے نقشے والے لاکٹ کے ساتھ پیش کرکے ایک ایسے تنازع میں قدم رکھا ہے جو دنیا کے حساس ترین سیاسی مسائل میں شمار ہوتا ہے۔ کچھ صارفین نے برانڈ پر شدید تنقید بھی کی، جبکہ دیگر نے سینٹ لیونٹ کے اس اقدام کو فلسطینی شناخت کے اظہار کا حق قرار دیا۔

یہ لاکٹ ۱۹۴۸ء کے نکبہ سے پہلے کے تاریخی فلسطین کے نقشے کی عکاسی کرتا ہے۔ فلسطینیوں کے نزدیک ایسی علامتیں ان کی تاریخ، شناخت اور آبائی سرزمین کی یاد کی نمائندگی کرتی ہیں، جبکہ اسرائیل کے حامی بعض حلقے انہیں مختلف سیاسی تناظر میں دیکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے اس نوعیت کی علامتیں اکثر بین الاقوامی سطح پر بحث کا موضوع بن جاتی ہیں۔ سینٹ لیونٹ اس سے قبل بھی اپنے فن اور عوامی بیانات میں فلسطینی شناخت، ثقافت اور ورثے کو نمایاں کرتے رہے ہیں، اور ان کے گانوں میں بھی یہ موضوعات بارہا سامنے آتے رہے ہیں۔ پراڈا نے اس معاملے پر تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا، جبکہ سوشل میڈیا پر اس حوالے سے بحث کا سلسلہ جاری ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK