Updated: March 31, 2026, 1:07 PM IST
| New Delhi
ہندوستان میں ایم بی اے چائے والا کے سی ای او پرفل بلور نے ملک میں ایک بڑھتے ہوئے ’’خاموش بحران‘‘ کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ اصل مسائل لوگوں کے اندر پنپ رہے ہیں جن پر کھل کر بات نہیں ہوتی۔ انہوں نے کشیدہ تعلقات، مالی دباؤ اور ذہنی صحت کے مسائل کو اس بحران کی بنیادی وجوہات قرار دیا۔
پرفل بلور۔ تصویر: سوشل میڈیا
ایم بی اے چائے والا گروپ کے سی ای او پرفل بلور نے حال ہی میں ہندوستان میں ایک ایسے بحران کی نشاندہی کی ہے جو بظاہر نظر نہیں آتا مگر تیزی سے گہرا ہو رہا ہے۔ انہوں نے اسے ’’خاموش بحران‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاشرے کے مختلف طبقات کے لوگ اندرونی طور پر شدید دباؤ اور مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے مشاہدات بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ بحران کسی ایک طبقے تک محدود نہیں بلکہ طلبہ، نوجوان پیشہ ور افراد، کاروباری افراد اور گھریلو افراد سب اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔

اندرونی مسائل: تعلقات، مالی دباؤ اور ذہنی صحت
بلور نے واضح طور پر ان اہم مسائل کی نشاندہی کی جو اس خاموش بحران کو جنم دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق، کشیدہ تعلقات، مالی مشکلات اور ذہنی صحت کی خرابیاں اس بحران کے مرکزی عناصر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے لوگ بظاہر معمول کی زندگی گزار رہے ہوتے ہیں، لیکن اندر سے وہ شدید اضطراب، دباؤ اور بے چینی کا شکار ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مسائل اکثر اس لیے نظر نہیں آتے کیونکہ لوگ انہیں چھپانے کی کوشش کرتے ہیں یا معاشرتی دباؤ کے باعث ان پر بات نہیں کرتے۔
یہ بھی پڑھئے: کمال مولا مسجد معاملہ :ہائی کورٹ کے حکم کو سپریم کورٹ میں مسلم فریق نے چیلنج کیا
’’اصل بحران اندر ہو رہا ہے‘‘
اپنے بیان میں پرفل نے اس پہلو پر خاص زور دیا کہ موجودہ بحران کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ یہ ’’اندر‘‘ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’اصل بحران لوگوں کے اندر پیدا ہو رہا ہے جس پر اکثر کسی کا دھیان نہیں جاتا اور شاذ و نادر ہی کھل کر بات کی جاتی ہے۔‘‘ یہ بیان اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ معاشرے میں ایک ایسا ذہنی اور جذباتی دباؤ بڑھ رہا ہے جو بظاہر پوشیدہ ہے مگر اس کے اثرات وسیع اور گہرے ہیں۔
سماجی خاموشی اور گفتگو کی کمی
بلور نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ ذہنی صحت اور ذاتی مسائل پر کھل کر بات نہ کرنا اس بحران کو مزید بڑھا رہا ہے۔ ان کے مطابق، بہت سے لوگ اپنے مسائل کو بیان کرنے سے ہچکچاتے ہیں کیونکہ انہیں خوف ہوتا ہے کہ انہیں کمزور سمجھا جائے گا یا ان کا مذاق بنایا جائے گا۔ یہ سماجی خاموشی نہ صرف مسائل کو بڑھاتی ہے بلکہ لوگوں کو تنہائی اور مایوسی کی طرف بھی دھکیلتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اکولہ: اَنوی مرزاپور گاؤں میں سلنڈر کیلئے قطار میں کھڑے سابق سرپنچ کی موت
بڑھتا ہوا رجحان: ماہرین کی رائے
حالیہ برسوں میں ذہنی صحت کے ماہرین بھی اسی طرح کے خدشات کا اظہار کر چکے ہیں کہ ہندوستان سمیت دنیا بھر میں ذہنی دباؤ، اضطراب اور ڈپریشن کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے۔ خاص طور پر نوجوان نسل میں یہ مسائل زیادہ نمایاں ہو رہے ہیں، جہاں کریئر کا دباؤ، مالی غیر یقینی صورتحال اور سماجی توقعات ایک بڑا کردار ادا کر رہی ہیں۔ پرفل بلور کے بیانات نے ایک اہم مسئلے کو اجاگر کیا ہے جس پر فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ یہ ’’خاموش بحران‘‘ اگر نظر انداز ہوتا رہا تو اس کے اثرات نہ صرف افراد بلکہ پورے معاشرے پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے سب سے پہلے اس پر کھل کر بات کرنا ضروری ہے تاکہ لوگ اپنی مشکلات کو بیان کر سکیں اور مناسب مدد حاصل کر سکیں۔