• Sun, 06 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

فلموں میں آنے پر پرتھوی راج کپور نے راج کپور کو کہا کہ وہ سفارش نہیں کریں گے

Updated: September 06, 2026, 4:59 PM IST | Anis Amrohvi | Mumbai

اس کے بعد راج کپور نے اپنی فلمی زندگی کا آغاز پرتھوی راج کی تھیٹر کمپنی ’پرتھوی تھیٹر‘ میں بیس روپے ماہوار پر ایک معاون کی حیثیت سے کیا، پھر بمبئی ٹاکیز کی ملازمت اختیار کی، کافی دنوں تک کلیپر بوائے اور پھر کیدار شرما کے ساتھ اسسٹنٹ کے طور پر بھی کام کیا۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

حادثے، واقعات اور سانحے تو ہر پل اِس دنیا میں ہوتے رہتے ہیں، مگر کچھ پل ایسے ہوتے ہیں جو تاریخ بن کر زمانہ کی رفتار کو ٹھہرا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ’’ہمیں پڑھو کہ ہم میں انسانوں کی زندگی کے نشیب وفراز پنہاں ہیں، جو زمانہ ساز تھے اور تم آنے والی نسل کے نمائندے ہمیں کبھی فراموش نہ کر سکوگے۔ ‘‘ ایک ایسا ہی پل تھا ۲؍جون ۱۹۸۸ء کی رات ۹؍ بج کر ۲۰؍ منٹ کا پل۔ یہ پل بھی وقت کی کتاب میں تاریخ بن کر جم گیا ہے۔ وہ جس نے اپنے آپ کو، اپنی آتما کو، اپنے جسم کو، اپنے تمام جذبوں کو ایک مخصوص فن کیلئے وقف کر دیا تھا، اس پل کے ہاتھوں مجبور ہوکر اور اپنا سب کچھ یادگار بناکر اس کار جہاں دراز کی تمام مصروفیات کو خیرباد کہہ کر اپنے خالقِ حقیقی کے پاس چلا گیا۔ بہت سی فلموں کا تخلیق کار اپنی زندگی کے آخری سین کو مکمل کرکے اپنے حقیقی تخلیق کار کے پاس پہنچ گیا۔ اس شخصیت کو دنیا راج کپور کے نام سے جانتی ہے۔ 
اُ س وقت کے صدر جمہوریہ ڈاکٹر شنکر دیال شرما کے ہاتھوں سے ۱۹۸۷ء کیلئے دادا صاحب پھالکے ایوارڈحاصل کرنے والا یہ فنکار کسی زمانے میں ایک بہت معمولی انسان تھا۔ دادا صاحب پھالکے ایوارڈ ہر سال کسی ایسی فلمی شخصیت کو دیا جاتا ہے جس کی زندگی پوری طرح فلموں سے وابستہ رہی ہو۔ ۱۹۸۷ء کا قومی سطح کا یہ ایوارڈ ملک کے عظیم فنکار اور شومین راج کپور کو دیا گیا۔ ر اج کپور ہندوستانی فلمی صنعت کا وہ اہم ستون تھا جس کے بغیر ہماری فلم انڈسٹری کی تاریخ مکمل نہیں ہو سکتی۔ خود راج کپور کی زندگی کی تاریخ بھی کچھ کم اہم نہیں ہے۔ زندگی کے تمام اُتار چڑھائو جو ہو سکتے ہیں، وہ سب راج کپور کی زندگی کے اہم پہلو بن کر رہ گئے ہیں۔ 
۱۹۲۴ء میں دسمبر کی ۱۴؍تاریخ کو پشاور میں، جو اَب پاکستان میں ہے، راج کپور نے جس گھرانے میں آنکھیں کھولیں، وہ کوئی بہت بڑی حیثیت کا حامل خاندان نہیں تھا۔ مشہور اداکار پرتھوی راج کپور کے بیٹے کی حیثیت سے رنبیر راج کپور کا جنم ہوا، اور دوسرے عام بچوں کی طرح راج کی ابتدائی تعلیم دہرہ دون کے کرنل برانڈس اسکول میں ہوئی۔ یہ وہ دور تھا جب پرتھوی راج کپور فلموں میں اپنی اداکاری کا سکہ جما چکے تھے۔ اس زمانے میں ملک کے تین سربلند اداکاروں میں ایک نام پرتھوی راج کپور کا بھی تھا جبکہ دیگر دو نام مظہر خان اور چندر موہن کے تھے۔ راج کپور نے بمبئی کے انطونیو ڈسِلوا اسکول سے میٹرک اور سینئر کیمبرج کے امتحانات پاس کئے۔ بعد ازاں عملی زندگی کا آغاز ہوا۔ 
راج کپور کیلئے یہ کوئی بہت بڑے اعزاز کی بات نہ تھی کہ وہ فلم اداکار کے بیٹے ہیں۔ اُس وقت وہ صرف پرتھوی راج کپور کے لڑکے تھے اور رنبیر راج کپور کی حیثیت سے جانے جاتے تھے۔ راج کپور نے جب اپنے والد کے سامنے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ بھی فلموں سے وابستہ ہونا چاہتا ہے، تب پرتھوی راج کپور نے صاف طور پر اس بات سے انہیں آگاہ کر دیا کہ اس سلسلے میں وہ کوئی سفارش یا بے جا مدد نہیں کر سکتے۔ ان کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ راج کو اس میدان میں اپنی حیثیت بنانے کیلئے جو کچھ بھی کرنا ہے، وہ اپنی ذاتی صلاحیتوں کی بنیاد پر ہی کرنا ہے۔ 
اس کے بعد راج کپور نے اپنی فلمی زندگی کا آغاز پرتھوی راج کی تھیٹر کمپنی ’پرتھوی تھیٹر‘ میں بیس روپے ماہوار پر ایک معاون کی حیثیت سے کیا۔ اس کے ساتھ ہی ہدایتکار کیدار شرما کے اسسٹنٹ کی حیثیت سے بغیر کسی معاوضے کے کام شروع کیا اور پروڈکشن کے اسرار ورموز سے واقفیت حاصل کرنا شروع کی۔ اس وقت راج کپور کی عمر لگ بھگ بیس اکیس برس رہی ہوگی۔ انہوں نے نہایت ایمانداری اور محنت کے ساتھ ہدایتکاری کا فن سیکھا۔ راج کپور نے بمبئی ٹاکیز کی ملازمت اختیار کی اور آرٹ ڈائریکشن کا کام سیکھا، کلیپر بوائے کا کام بھی کافی دنوں تک کیا۔ اس طرح فلم کے مختلف شعبوں کا تجربہ حاصل کرتے ہوئےانہوں نے ہدایتکار مہیش کول اور دیوکی بوس کے معاون ہدایتکار کی حیثیت سے بھی کام کیا۔ یہ نشانیاں تھیں اس بات کی کہ ہماری فلم انڈسٹری میں ایک باصلاحیت اور ہونہار فلمساز پیدا ہو رہا ہے۔ 
اس میں کوئی شک نہیں کہ راج کپور کی شخصیت کو سنوارنے اور سجانے میں پرتھوی تھیٹر کا بہت بڑا ہاتھ رہا، مگر اس کے ساتھ ہی راج کپور نے ہدایتکار کیدار شرما اوردیوکی بوس اور مہیش کول کے ساتھ رہ کر جو کچھ سیکھا، وہ آخر تک ان کی شخصیت سے جڑا رہا اور خود راج کپور انہی روایتوں کے علمبردار بنے رہے۔ اس سے قبل انہوں نے اداکاری کے میدان میں ایک چائلڈ آرٹسٹ کے طور پربھی کام کیا تھا۔ ان کی پہلی فلم تھی ’’انقلاب‘‘۔ اس فلم سے ان کی اپنی ذاتی زندگی میں بھی انقلاب برپا ہو گیا۔ ۱۹۴۶ء میں کیدار شرما نے فلم ’نیل کمل‘ شروع کی اور بطور ہیرو راج کپور کو لیا۔ اس فلم میں وہ ہیرو کے علاوہ شرما کے معاون ہدایتکار بھی تھے۔ فلم کی ہیروئن تھیں مدھوبالا۔ اس وقت مدھوبالا اپنے اصلی نام ممتاز سے جانی جاتی تھیں۔ یہ فلم۱۹۴۷ء میں نمائش کیلئے پیش کی گئی۔ اس فلم کے ساتھ ہی وہ ہیرو کے طور پر اپنی پہچان بناتے چلے گئے اور ’نیل کمل‘ کے بعد ’چتوڑ وجے، دل کی رانی، امر پریم اورجیل یاترا‘ جیسی فلموں میں انہوں نے کام کیا۔ ان فلموں سے انہوں نےخود کو اداکار کے طور پر منوا لیا۔ 
اُس وقت راج کپور کی عمر صرف ۲۳؍برس تھی۔ یہ ۱۹۴۷ء کا پُرآشوب دور تھا کہ راج کپور نے اپنی فلمی زندگی کا ایک بہت بڑا فیصلہ کر لیا۔ انہوں نے اپنی ذاتی اور اپنی ہدایتکاری میں فلم ’آگ‘ بنانی شروع کر دی۔ یہ فلم اس وقت کی عام کمرشیل فلموں سے بالکل مختلف تھی۔ یہ ایک ایسے نوجوان کی زندگی کے تین ادوار کی کہانی تھی جس میں اس کا بچپن تھا، جوانی کی کالج لائف تھی اور تیسرا دور اس کے اسٹیج کے کام سے متعلق تھا۔ اس فلم کے ہر حصے کیلئے تین الگ الگ ہیروئنیں تھیں اور آخر میں ہیرو جلے ہوئے چہرے والی اپنی محبوبہ (نمی) کے پاس واپس لوٹ آتا ہے۔ یہ فلم اس دور کی آرٹ فلم کہلائی جا سکتی ہے۔ خالص کمرشیل فلم نہ ہونے کی وجہ سے فلم ’آگ‘ زیادہ بزنس تو نہ کر سکی، مگر اس فلم سے ہندوستانی سنیما کو ایک باصلاحیت ہدایتکار اور اداکار ضرور مل گیا۔ 
اس کے ساتھ ہی راج کپور کے حوصلے بلند ہوتے گئے۔ انہوں نے فوراً بعد ہی اپنی دوسری فلم ’برسات‘ شروع کر دی۔ یہ ایک خالص رومانی کہانی تھی جس کی موسیقی کو بہت پُراثر طریقے پر سنوارا گیا تھا۔ اس فلم میں پاکیزہ محبت کے جذبات کو احساس کی تمام تر نزاکتوں کے ساتھ پیش کیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی جنسی ہوس کے جذبوں کی بھی عکاسی کی گئی تھی۔ یہ راج کپور کا وہی احساس تھا جو اُن کی بعد کی فلم ’رام تیری گنگا میلی‘ تک میں بدرجہ اتم موجود رہا اور ان کا ایک خاصہ بن کر سامنے آیا۔ اب وہ صرف ایک شخصیت نہیں بلکہ فلم انسٹی ٹیوٹ کی شکل اختیار کر چکے تھے۔ ’آر کے فلمز‘ کے بینر تلے بہترین فلمی ذہن جمع ہو چکے تھے جن میں خواجہ احمد عباس، اندر راج آنند، شیلندر، مکیش، شنکر جے کشن کے نام قابل ذکر ہیں۔ 
راج کپور کی فلم کمپنی کا ٹریڈ مارک
 فلم ’برسات‘ نے فلم بینوں کے دلوں کے تاروں کو اس خوبصورتی سے جھنجھوڑا کہ دیکھنے والے عش عش کر اُٹھے، خود راج کپور بھی اس فلم سے اور اس فلم کی ہیروئن سے اس درجہ متاثر ہوئے کہ فلم کے ایک سین کو اپنی فلم کمپنی کے بینر کا ٹریڈ مارک بنا دیا۔ یہ وہ سین تھا جب ہیروئن اپنے محبوب کے وایلن کی دُھن پر بے اختیار کھنچی چلی جاتی ہے اور جذبات محبت سے سرشار اپنے محبوب کی بانہوں میں جھول جاتی ہے۔ اس فلم سے نرگس اور راج کپور کی جوڑی اس قدر مقبول ہوئی کہ بعد میں دونوں ایک دوسرے کیلئے لازم وملزوم ہو گئے۔ فلم ’برسات‘ ملک کی پہلی ہندی فلم تھی جس کی آئوٹ ڈور شوٹنگ کشمیر کی حسین وادیوں میں کی گئی تھی۔ 
کپور خاندان کی تین نسلیں ایک ساتھ
فلم ’برسات‘ کی شوٹنگ کے آخری دن چل رہے تھے جب اردو کے مشہور کہانی کار خواجہ احمد عباس نے راج کپور کو ’آوارہ‘ کی کہانی سنائی۔ راج کپور اس کہانی سے اتنے متاثر ہوئے کہ انہوں نے فوراً ہی اس کہانی پر فلم بنانے کا فیصلہ کر لیا۔ اس فلم میں پرتھوی راج کپور نے راج کپور کے باپ کا کردار ادا کیا تھا۔ اس فلم میں تین نسلیں ایک ساتھ تھیں۔ فلم میں پرتھوی راج کپور کے والد اور راج کپور کے دادا جان شری دیوان وشیشور ناتھ کپور نے بھی کام کیا تھا۔ ’آوارہ‘ میں راج کپور نے ایک آوارہ نوجوان کا کردار ادا کیا تھا۔ اس فلم نے صرف ہندوستان میں ہی نہیں بلکہ پورے یورپ، روس اور چین میں بھی بے پناہ کامیابی حاصل کی۔ 
(دوسری اور آخری قسط آئندہ ہفتے ملاحظہ کریں )

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK