ایک رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو کی حمایت یافتہ اسرائیلی افسران ٹرمپ کے غزہ منصوبے میں رکاوٹ پیدا کررہے ہیں،غزہ کے لیے امریکی وژن اور زمینی حقائق کے درمیان فرق ، اور نہ ہی امریکہ اور اسرائیل کے درمیان فرق،کبھی اتنا واضح نہیں تھا جتنا اب ہے۔
EPAPER
Updated: September 06, 2026, 5:13 PM IST | Tel Aviv
ایک رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو کی حمایت یافتہ اسرائیلی افسران ٹرمپ کے غزہ منصوبے میں رکاوٹ پیدا کررہے ہیں،غزہ کے لیے امریکی وژن اور زمینی حقائق کے درمیان فرق ، اور نہ ہی امریکہ اور اسرائیل کے درمیان فرق،کبھی اتنا واضح نہیں تھا جتنا اب ہے۔
اسرائیلی روزنامہ ہاریٹزکے مطابق اسرائیلی افسران، وزیر اعظم نیتن یاہو کی حمایت کے ساتھ، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے غزہ کی پٹی پر جنگ ختم کرنے کے منصوبے پر عمل درآمد میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔ نیتن یاہو اور انتخابات کے عنوان والی رپورٹ میں اخبار نے جمعہ کو کہا کہ اسرائیلی سیکورٹی افسران ٹرمپ کے امن بورڈ کے ساتھ تعاون سے کھلے عام انکار کر رہے ہیں۔ اخبار نے مزید کہا کہ ’’غزہ کے لیے امریکی وژن اور زمینی حقائق کے درمیان فرق کبھی اتنا واضح نہیں تھا جتنا اب ہے، اور نہ ہی امریکہ اور اسرائیل کے درمیان فرق۔‘‘اخبار نے مزید کہا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے تقریباً ایک سال بعد یہ معاہدہ ’’پھنسا‘‘ ہوا ہے، جبکہ اسرائیل میں انتخابات اور امریکی وسط مدتی انتخابات میں دو مہینے سے بھی کم وقت باقی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ: ملبے میں دبی۱۰۰؍ لاشوں کی بازیابی، سول ڈیفنس کا دوسرا مرحلہ مکمل
بعد ازاں ہاریٹز نے اس معاملے سے واقف ایک گمنام ذریعہ کے حوالے سے کہا کہ ’’امن بورڈ اور اسرائیلی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان باہمی مایوسی‘‘ پائی جاتی ہے۔ ذریعہ کے مطابق، اسرائیلی افسران، بشمول قومی سلامتی کونسل اور وزارت دفاع کے ارکان کے علاوہ فوج کی جنوبی کمانڈ کے افسران، بورڈ کے ساتھ تعاون سے کھلے عام انکار کر رہے ہیں۔وہ اب اسے چھپانے کی کوشش بھی نہیں کر رہے۔ ‘‘ مزید برآں نیتن یاہو نے ، اس بات پر اصرار کرتے ہوئے کہ کسی بھی اسرائیلی انخلاء سے قبل حماس کو مکمل طور پر غیر مسلح کر دیا جائے ،۹ ؍اگست کو اس روڈ میپ کو مسترد کر دیا۔ذریعہ کے مطابق اسرائیلی افسران نے امریکی سفارت کاروں کو بتایا کہ واشنگٹن نے انہیں ’’معمولی‘‘سمجھا۔ انہوں نے روڈ میپ پر تنقید بھی کی اور تشویش ظاہر کی کہ اس پر عمل درآمد سے حکومت ایسے نظر آئے گی جیسے وہ ’’اسرائیل کو بیچ رہی ہے۔‘‘
واضح رہے کہ اسرائیل میں ۲۷ ؍ اکتوبر کو کنیسیٹ (پارلیمنٹ) کے انتخابات ہونے ہیں، جبکہ نیتن یاہو اور ان کی پارٹی لیکوڈ کے پول نمبر میں کمی آ رہی ہے۔ہاریٹز نے کہا کہ اس نقطہ نظر کا ایک اور عنصر اسرائیل کا ہزاروں غزہ والوں کی روانگی میں رکاوٹ ڈالنا ہے جنہیں تکنیکی کمیٹی نے غزہ میں ایک نئی پولیس فورس میں خدمات انجام دینے کے لیے بھرتی کیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے بھرتی شدہ افراد کو مصر میں تربیت کے لیے غزہ سے نکلنے سے روک دیا ہے۔ ذریعہ نے کہا کہ امن بورڈ کو خدشہ ہے کہ اگر انہیں جانے کی اجازت بھی دی گئی تو اسرائیل سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں تربیت مکمل کرنے کے بعد واپس آنے سے روک سکتا ہے۔دوسرے گمنام ذریعہ نے ہاریٹز کو بتایا کہ ٹرمپ اور ننیتن یاہو کے درمیان تعلقات ’’انتہائی خراب‘‘ ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: مغربی کنارہ کے شمالی دیہات کو اسرائیلی فوج نے تباہ کر دیا
واضح رہے کہ ٹرمپ نے ۲۹؍ ستمبر ۲۰۲۵ء کو غزہ جنگ ختم کرنے کے لیے ۲۰ ؍نکاتی منصوبہ کا اعلان کیا تھا۔ اس میں اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی، حماس کا غیر مسلح ہونا، جزوی اسرائیلی انخلاء، ایک تکنیکی انتظامیہ کا قیام اور بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی شامل تھی۔منصوبے کا پہلا مرحلہ ۱۰؍ اکتوبر ۲۰۲۵ء کو نافذ ہوا۔ جبکہ حماس نے پہلے مرحلے کی شرائط پوری کیں، اسرائیل نے اپنے وعدوں سے منہ موڑ لیا اور اپنے حملے جاری رکھے۔ اسرائیل کی معاہدے کی خلاف ورزی کے باوجود، ٹرمپ نے جنوری کے وسط میں منصوبے کے دوسرے مرحلے کے آغاز کا اعلان کیا، جسے ۱۷؍ نومبر ۲۰۲۵ء کو منظور کردہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد ۲۸۰۳ ؍کی توثیق حاصل ہے۔دوسرا مرحلہ وسیع تر اسرائیلی فوجی انخلاء، تعمیر نو اور غیر مسلح کرنے کے عمل کے آغاز کا مطالبہ کرتا ہے۔ تاہم، اسرائیل اب بھی غزہ کی پٹی کا تقریباً ۷۰؍ فیصد حصہ اپنے قبضے میں رکھے ہوئے ہے اور اصرار کرتا ہے کہ اس کے انخلاء سے قبل فلسطینی دھڑے غیر مسلح ہو جائیں۔
یاد رہےکہ یہ معاہدہ اسرائیل کی غزہ پر نسل کشی کی جنگ کے دو سال بعد ہوا، جو ۸؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء کو شروع ہوئی اور اس کے بعد سے مختلف شکلوں میں جاری ہے۔ اسرائیلی جارحیت میں ۷۳۰۰۰؍ سے زائد فلسطینی شہید، ۱۷۴۰۰۰؍ سے زائد زخمی ہوئے، اور غزہ کے تقریباً ۹۰؍ فیصد شہری انفراسٹرکچر کو وسیع پیمانے پر تباہی کا سامنا کرنا پڑا۔