چشتی ہندوستانی مسجد میں علماء کی مشاورتی میٹنگ ۔ ۷؍ستمبر کوکربلا مسجد وڈالا میںکانفرنس کا انعقاد، مقصد قادیانیوں کے گمراہ کن نظریات سے آگاہی اور نسلِ نو کو بنیادی اسلامی عقیدے سے واقف کرانا ہے
چشتی ہندوستانی مسجد بائیکلہ میں عقیدۂ ختم نبوت کے تعلق سے علماء کی میٹنگ کا منظر۔ تصویر: آئی این این
عقیدۂ ختم نبوت کا پیغام نسلِ نو تک پہنچانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔اس تعلق سے سنیچر کو چشتی ہندوستانی مسجد میں علماء کی مشاورتی میٹنگ ہوئی۔ ۷؍ستمبر کوکربلا مسجد سنگم نگر (وڈالا) میں سنّی جمعیۃ العلماء اوررضا اکیڈمی کے اشتراک سے کانفرنس کا انعقاد عمل میں آئے گا۔اس کانفرنس کے انعقاد کا مقصد قادیانیوں کے گمراہ کن نظریات سے آگاہی اور نسلِ نو کو بنیادی اسلامی عقیدے سے واقف کرانا ہے۔علماء نے میٹنگ کے دوران کانفرنس کا یہ بنیادی مقصد بیان کیا ۔رضا اکیڈمی کے سربراہ الحاج محمد سعید نوری نے عقیدۂ ختم نبوت کے تعلق سے کہاکہ ’’ امام الانبیاء حضرت محمدمصطفےٰؐ آخری نبی اور رسول ہیں۔اللہ نے اپنے محبوبؐ کو تاج نبوت پہناکر اس مبارک سلسلے کی تکمیل فرمادی اور اب قیامت تک کوئی نبی نہیں آئے گا۔آپ ؐکے بعد کسی بھی شخص کا نبوت کا دعویٰ اسلامی عقائد کے سراسر منافی اور صریح جھوٹ ہے۔‘‘
انہوں نے یہ بھی کہاکہ ’’عقیدۂ ختمِ نبوت امتِ مسلمہ کا بنیادی اور قطعی عقیدہ ہے۔ اس کی حفاظت اورجھوٹا دعویٰ کرنے والے کی مذمت اور اس کی سختی سے نفی ہر مسلمان کی دینی ذمہ داری ہے۔ ‘‘ محمد سعید نوری نےموجودہ دور کے تقاضوں کے پیش نظر بالخصوص نئی نسل کو عقیدۂ ختمِ نبوت سے مضبوطی کے ساتھ وابستہ رکھنے پر زور دیا اور کہا کہ ’’فتنۂ قادیانیت کے مقابلےعلمی، فکری اور پُرامن انداز میں بیداری پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔‘‘انہوں نے علمائے کرام اور اہلِ علم سے اپیل کی کہ وہ عقیدۂ ختمِ نبوت کا پیغام نسلِ نو تک مؤثر انداز میں پہنچائیں تاکہ نوجوان نسل اپنے بنیادی اسلامی عقائد سے مکمل طور پر واقف اور اس سے وابستہ رہے۔‘‘
میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے مولانا عبدالجبار ماہر القادری نے عقیدۂ ختمِ نبوت کی عظمت و اہمیت پر روشنی ڈالی اور کہا کہ’’ تحفظِ ختمِ نبوت محض ایک موضوع نہیں بلکہ ایمان کی بنیادوں سے وابستہ ایک اہم دینی ذمہ داری بھی ہے۔‘‘ مولانا نےعلماء اور ائمۂ مساجد سے اپیل کی کہ’’ وہ اپنے خطابات، تحریروں اور دینی مجالس کے ذریعے عوام تک عقیدۂ ختمِ نبوت کا صحیح پیغام پہنچاتے رہیں اور ۷؍ستمبر(اسی تاریخ کو قادیانیوں کو خارج ازاسلام قرار دیا گیا تھا ) پیر کو بعد نمازِ عشاء کربلا مسجد، سنگم نگر، انٹاپ ہل، وڈالا، ممبئی میں منعقد ہونے والی تحفظِ ختمِ نبوت کانفرنس میں شرکت کریں۔‘‘
مولانا عرفان علیمی نے عقیدۂ ختمِ نبوت کی اہمیت، فتنۂ قادیانیت کی حقیقت اور امتِ مسلمہ کی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ’’موجودہ دور میں نئی نسل کو اسلامی عقائد سے روشناس کرانا اور فکری و اعتقادی گمراہیوں سے محفوظ رکھنا اہلِ علم کی اہم ذمہ داری ہے۔‘‘ میٹنگ میں دیگر علماء اور ائمہ نے شرکت کی اور سب نےاس اہم کانفرنس کے انعقاد کے فیصلے کوسراہا اورہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔