• Sun, 06 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندوستانی پرچار سبھا کے سابق اردو آفیسر محمد حسین پرکار کی رحلت

Updated: September 06, 2026, 5:52 PM IST | Saadat Khan | Mumbai

سینئر معلم، ادیب ، مترجم اور ہندوستانی پرچار سبھا ( گاندھی میموریل ریسرچ سینٹر) کے سابق اُردو آفیسر ، محمد حسین پرکار انتقال کرگئے۔ انتقال کے وقت اُن کی عمر ۸۷؍ سال تھی۔پسماندگان میں ۳؍بیٹیاں ہیں ۔اہلیہ ۲؍سال قبل انتقال کر چکی ہیں ۔ سنیچر کو بعد نماز ظہر شہر کی علمی، ادبی، تدریسی اور سیاسی و سماجی شخصیات کی موجودگی میں اُنہیں ناریل واڑی قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا ۔

Mohammad Hussain Parkar. Photo: INN
محمد حسین پرکار۔ تصویر: آئی این این
سینئر معلم، ادیب ، مترجم اور ہندوستانی پرچار سبھا ( گاندھی میموریل ریسرچ سینٹر) کے سابق اُردو آفیسر ، محمد حسین پرکار انتقال کرگئے۔ انتقال کے وقت اُن کی عمر ۸۷؍ سال تھی۔پسماندگان میں ۳؍بیٹیاں ہیں ۔اہلیہ ۲؍سال قبل انتقال کر چکی ہیں ۔ سنیچر کو بعد نماز ظہر شہر کی علمی، ادبی، تدریسی اور سیاسی و سماجی شخصیات کی موجودگی میں اُنہیں ناریل واڑی قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا ۔
مرحوم محمدحسین پرکار گزشتہ ایک مہینے سے کھار کے ہندوجا اسپتال میں زیر علاج تھے۔ جمعہ اور سنیچر کی نصف شب ، انہوں نے اسپتال میں آخری سانس لی۔ درس و تدریس سے دلی وابستگی کی وجہ سے دوران علاج نیم بےہوشی میں انہیں یہ کہتے ہوئے سنا گیا، ’’میرے اسٹوڈنٹس کہاں ، میں انہیں پڑھانا چاہتا ہوں، اسپتال سے گھر جاکر میں انہیں دوبارہ پڑھانا شروع کروں گا ۔‘‘ یہ بھی اتفاق ہے کہ ان کا انتقال اس دن ہواجب ’یومِ اساتذہ ‘ منایاجارہاتھا۔
مرحوم شریف النفس ، سادگی پسند اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کے مالک تھے ۔ ان کی پیدائش سرزمین کوکن کے موضع بانکوٹ ، ضلع رتنا گیری میں ۲۲؍جون ۱۹۳۹ء کو ہوئی تھی۔ ابتدائی تعلیم گائوں کے اسکول سے حاصل کی جبکہ ثانوی تعلیم داپولی کے نیشنل ہائی اسکول سے مکمل کی۔ میٹرک پاس کر کے ممبئی کے اسماعیل یوسف کالج سے گریجویشن کی سند حاصل کی، بعدازیں ممبئی یونیورسٹی سے ایم اے بی ایڈ کیا۔ اس کے علاوہ انگلینڈ کی مانچسٹر یونیورسٹی سے پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ ان اڈلٹ ایجوکیشن کی سند بھی ان کےپاس تھی ۔ عملی زندگی میں ممبئی کے برہانی اور مہاراشٹر کالج میں درس وتدریس کی خدمات انجام دیں ۔ اس دوران کویت کے ایک معروف ادارہ میں ملازمت کی پیشکش قبول کی ۔ ۱۰؍سال بعد کویت سے ممبئی لوٹنے پر ہندوستانی پرچار سبھا میں بحیثیت ریسرچ آفیسر (اُردو)مامور ہوئے۔ اس دوران بے شمار غیر اُردو داں اصحاب کو اُردو سکھانے کی ذمہ داری نبھائی ۔
 
 
محمد حسین پرکار نے تنقید، تحقیق، انشائیہ اور ترجمہ نگاری جیسے اہم شعبوں میں اپنی علمی صلاحیت کا لوہا منوایا ۔ ہندوستانی پرچار سبھا کے ماہانہ رسالے ’ہندوستانی زبان‘ میں ان کے لکھے ہوئے اداریے اور مضامین بہت پسند کئے جاتے تھے۔ اچھے ادب کی پہچان، اردو ادب اور گاندھیائی افکار، باقی نشاں ہمارا، پریم چند: نئی جہتیں اور سعادت حسن منٹو :عصر حاضر کے آئینے میں، ان کی ادبی تصانیف ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے مراٹھی کی متعدد کتابوں کے اُردو میں ترجمے کئے ۔ 
 
 
محمد حسین پرکارسے اُردو سیکھنے والے گھوڑبندر (تھانے) کے ۸۵؍ سالہ باپوپٹوردھن نے اپنے اُستاد کی رحلت پر گہرے رنج وغم کا اظہار کرتےہوئے کہا کہ ’’ مجھے یقین نہیں ہو رہا ہےکہ میرے اُستاددنیا میں نہیں رہے۔ہمارے مراسم تقریباً ۲۰؍ سال پرانے تھے۔ اس دوران میں نے کبھی انہیں غصہ میں نہیں دیکھا۔ طالب علمی کے زمانے میںان سے ایسے سوالات کئے تھے جنہیں سن کر سامنے والا غصہ میں آجائے لیکن انہوںنے ہمیشہ اطمینان اور تحمل سے جواب دیا۔ ہمارے گھریلوتعلقات بھی تھے۔ عیدپر میں ان کے گھر اور دیوالی پر وہ میری رہائش گاہ ضرورآتے تھے ۔ہفتہ میں ایک مرتبہ ان سے بات ہوتی تھی۔ فی الحال وہ اسپتال میں زیر علاج تھے،جمعرات کوبھی ان کی خیریت لی تھی۔ان کاوصال میرے لئے ذاتی نقصان جیسا ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK