• Thu, 10 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

لبنان: اسرائیلی حملوں سے ۲۲؍ فیصد قابل کاشت زمین متاثر

Updated: September 10, 2026, 9:58 PM IST | Beirut

لبنان پر اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ۲۲؍ اعشاریہ ۵؍ فیصد زرعی زمین متاثر ہوئی ہے،زراعت کے وزیر کے مطابق لبنان نے نقصان کے ازالے کے لیے ورلڈ بینک نے ۴۰؍ ملین ڈالر کا منصوبہ حاصل کر لیا۔

Photo: X
تصویر: ایکس

اسرائیل کے حملوں نے جنوبی لبنان کی۲۲؍ اعشاریہ ۵؍ فیصد سے زیادہ زرعی زمین کو نقصان پہنچایا ہے، زراعت کے وزیر نزار ہانی نے جمعرات کو کہا۔صدارت کے بیان کے مطابق، ہانی نے یہ بات صدارتی محل میں صدر جوزف عون سے ملاقات کے بعد کہی، جو بیروت کے مشرق میں واقع ہے۔ وزیر نے کہا کہ انہوں نے عون کو جنوب میں زرعی نقصان سے آگاہ کیا، جو زرعی زمین کے ۲۲؍ اعشاریہ ۵؍ فیصد سے زیادہ، یعنی۵۶۰۰۰؍ ہیکٹر سے زائد ہے۔ واضح رہے کہ باوجود اس فریم ورک معاہدے کے جو بیروت اور تل ابیب نے امریکی سرپرستی میں جون کے آخر میں کیا تھا،  جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے حالیہ دنوں میں شدت اختیار کر گئے ہیں، اس معاہدے میں مقبوضہ علاقے سے اسرائیل کے بتدریج انخلاء کے بدلے وہاں لبنانی فوج کی تعیناتی کا انتظام شامل ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’اگر حوثی تنازع سعودی عرب تک پھیلتا ہے تو مکہ معاہدہ نافذ ہوگا‘‘

بعد ازاں یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی سرپرستی میں مذاکرات کے نئے دور کی تیاریاں جاری ہیں، جس کی اس ماہ اطالوی دارالحکومت روم میں توقع ہے، اگرچہ لبنان نے سرکاری طور پر تاریخ کا اعلان نہیں کیا۔جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا زراعت کی وزارت کے بجٹ میں اسرائیلی حملوں سے زرعی زمین کو ہونے والے نقصان کی تلافی کے لیے اضافہ شامل ہے تو، ہانی نے کہا کہ اس میں زمینی گزرگاہوں اور بندرگاہ پر بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے ’معمولی اضافے‘ شامل ہیں۔ہانی نے تصدیق کی کہ جنوبی لبنان میں زرعی شعبے پر اسرائیلی حملوں سے ہونے والے نقصان کی تلافی کے لیے متعدد ذرائع سے فنڈنگ حاصل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔انہوں نے ورلڈ بینک کے ساتھ تقریباً۴۰؍ ملین ڈالر کے مشترکہ منصوبے کی طرف اشارہ کیا جو نقصان کے ازالے کے لیے مختص ہے۔بعد ازاں ہانی نے کہا کہ اس وقت۶؍ سے ۷؍ ملین ڈالر کے درمیان براہ راست کسانوں کو زرعی مدد اور امداد کی صورت میں فراہم کیے جا رہے ہیں، اور انہوں نے امید ظاہر کی کہ جنوبی لبنان کے زرعی شعبے کی بحالی کے لیے مزید فنڈنگ حاصل کی جا سکے گی۔

یہ بھی پڑھئے: یمن: فوجی کشیدگی کے نتیجے میں ایک ہی دن میں ۱۴۰۰؍ خاندان بے گھر

ذہن نشین رہے کہ عالمی اداروں نے، جن کی قیادت ورلڈ بینک کر رہا ہے، لبنان کے معاشی بحران کو، جو۲۰۱۹ء میں شروع ہوا، انیسویں صدی کے وسط سے اب تک کے ’دنیا کے بدترین معاشی بحرانوں‘ میں شمار کیا ہے۔اس بحران کے نتیجے میں ڈالر کے ذخائر منجمد ہو گئے، بینک سے رقم نکالنے پر سخت پابندیاں لگیں اور لبنانی پاؤنڈ کی قدر میں۹۵ء فیصد سے زیادہ کمی واقع ہوئی۔سعودی عرب اور خلیجی ممالک کے لیے زمینی راستہ ،فعال زرعی پیداوار، خاص طور پر سیب اور انگور کے بارے میں، ہانی نے کہا کہ رواں سال دونوں فصلوں کی بھرپور پیداوار ہو رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ سعودی مارکیٹ اب لبنانی زرعی مصنوعات کے لیے کھلی ہے اور سعودی عرب کے راستے خلیجی ممالک تک زمینی راستہ بھی دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔مزید برآں انہوں نے امید ظاہر کی کہ زرعی شعبہ متحدہ عرب امارات، مصر اور سعودی عرب کے ساتھ بہتر تعلقات سے، نیز ان سرمایہ کاریوں اور ترقیاتی منصوبوں سے فائدہ اٹھائے گا جو لبنان اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر تیار کر رہا ہے۔ یاد رہے کہ ریاض نے۲۰۲۱ء میں کیپٹاگون کی اسمگلنگ پر عائد پابندی کے بعد جون میں لبنانی برآمدات دوبارہ شروع کیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK