• Mon, 12 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سی جے پی احتجاج پر طالب علم کو نوٹس بھیجنے والا مجسٹریٹ معطل: سالیسیٹر جنرل

Updated: September 10, 2026, 9:59 PM IST | New Delhi

سالیسیٹر جنرل نے سپریم کورٹ کو مطلع کیا کہ سی جے پی احتجاج پر طالب علم کو نوٹس بھیجنے والے ایگزیکٹو مجسٹریٹ کومعطل کردیا گیا ہے۔

Supreme Court of India. Photo: INN
سپرریم کورٹ آف انڈیا۔ تصویر: آئی این این

 کاکروچ جنتا پارٹی کے مظاہروں کی مہم چلانے کے الزام میں ایک طالب علم کو ۵؍ لاکھ روپے کے بانڈ کا وجہ بتاؤ نوٹس جاری کرنے والے گریٹر نوئیڈا کے ایگزیکٹو مجسٹریٹ کو معطل کر دیا گیا ہے۔ سالیسیٹر جنرل آف انڈیا تسشار مہتا نے آج سپریم کورٹ میں ایک سماعت کے دوران عدالت کو یہ اطلاع دی۔سالیسیٹر جنرل نے یہ بیان گوتم بدھ یونیورسٹی کے لاء کے طالب علم اکشت ترپاٹھی کی جانب سے دائر کردہ ایک آئینی درخواست کی سماعت کے دوران دیا۔ سینئر وکیل پی وی دنیش نے چیف جسٹس کی سربراہی والی بنچ کے سامنے اس درخواست کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’سرکاری افسران کو ایک سخت پیغام جانا چاہیے۔‘‘ بعد ازاں انہوں نے عدالت کو بتایا کہ نوٹس میں طالب علم پر حکومت مخالف اور گمراہ کن باتیںپھیلانے کا الزام لگایا گیا تھا اور ۵؍ لاکھ روپے کا بانڈ جمع کرنے کی ہدایت دی تھی۔چیف جسٹس سوریا کانت نے یاد دلایا کہ جب کل یہ معاملہ ان کے سامنے لایا گیا تھا تو انہوں نے اس پر سخت موقف اپنایا تھا اور ریاست سے جواب بھی طلب کیا تھا۔ اس کے جواب میں سالیسیٹر جنرل نے عدالت کو بتایا کہ متعلقہ افسر کو معطل کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: حقیقت دکھانے والے صحافی پر مقدمہ’’ قاصد کے قتل ‘‘ کے مترادف: الہ آباد ہائی کورٹ

ذہن نشین رہے کہ سبھاش چندرن کے ذریعے دائر کی گئی اکشت ترپاٹھی کی اس درخواست کے مطابق، ایگزیکٹو مجسٹریٹ نے بی این ایس یس کی دفعہ ۱۲۶؍ اور ۱۳۵؍ کے تحت نوٹس جاری کیا تھا، جس کے ذریعے امن وامان میں خلل پڑنے کے اندیشے کے تحت سیکیورٹی کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ یہ نوٹس پولیس کی ایک رپورٹ کی بنیاد پر جاری کیا گیا تھا جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ ترپاٹھی طلبہ کو حکومت مخالف بیانات کے ذریعے مظاہروں میں شامل ہونے کیلئے بھڑکا رہے ہیں جس سے تناؤ پیدا ہو سکتا ہے اور امن و امان بگڑ سکتا ہے۔ مزید برآں ترپاٹھی نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ نوٹس میں ان کے خلاف کسی مخصوص تاریخ، وقت، بیان یا کسی پرتشدد کارروائی کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا اور نہ ہی الزامات سے متعلق کوئی مواد فراہم کیا گیا۔ اس کے علاوہ ۴؍ ستمبر کو جاری کئے گئے نوٹس میں انہیں ۵؍ ستمبر کو ہی پیش ہونے کا حکم دیا گیا یعنی اپنے دفاع کرنے، وکیل کرنے اور ۵؍ لاکھ روپے کے بانڈ کا انتظام کرنے کیلئے محض ایک دن کا وقت دیا گیا جو کہ انصاف کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔  

یہ بھی پڑھئے: ابو سالم کی ۲۵؍ سالہ قید مکمل ہونے کا دعویٰ، سپریم کورٹ نے رہائی کی اپیل رد کردی

علاوہ ازیں درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ انتظامیہ کی یہ کارروائی سپریم کورٹ کے یکم ستمبر کے اس حکم کی براہِ راست خلاف ورزی ہے جس میں طلبہ کے خلاف تمام ایف آئی آرمنسوخ کر نے کو کہا گیا تھا اور کسی بھی قسم کےجبری  اقدام پر روک لگا دی گئی تھی۔ تاہم طالب علم کا کہنا ہے کہ دیگر طلبہ کو پرامن احتجاج کی ترغیب دینا آئین کی دفعہ ۱۹؍ کے تحت حاصل اظہارِ رائے اور پرامن اجتماع کی آزادی کا حصہ ہے اور اتنی بڑی رقم کا مطالبہ کرنا دفعہ ۲۱؍ کے تحت حاصل شخصی آزادی پر سنگین حملہ ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK