• Thu, 12 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

پروڈیوسرز کو قیمت چکانی پڑتی ہے: رتنا پاٹھک شاہ کی ’’مصاحبین کے کلچر‘‘ پر تنقید

Updated: February 12, 2026, 7:07 PM IST | Mumbai

سینئر اداکارہ رتنا پاٹھک شاہ نے بالی ووڈ میں بڑھتے ہوئے ’’اینٹوراج کلچر‘‘ (مصاحبین کا کلچر) پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بڑے ستاروں کے ساتھ آنے والے وسیع عملے اور غیر ضروری مطالبات کا بوجھ بالآخر پروڈیوسرز کو اٹھانا پڑتا ہے۔ ان کے مطابق یہ رجحان فلم سازی کے پیشہ ورانہ معیار اور بجٹ دونوں کو متاثر کر رہا ہے۔

Ratna Pathak Shah. Photo: X
رتنا پاٹھک شاہ۔ تصویر: ایکس

معروف اداکارہ رتنا پاٹھک شاہ نے ہندی فلم صنعت میں رائج ’’اینٹوراج کلچر‘‘ پر تنقید کی ہے کہ اس رجحان کی مالی و انتظامی قیمت آخرکار پروڈیوسرز کو ادا کرنا پڑتی ہے۔ ایک حالیہ گفتگو میں انہوں نے واضح کیا کہ فلمی سیٹ پر اداکاروں کے ساتھ آنے والا بڑا عملہ اکثر غیر ضروری اخراجات اور پیچیدگیوں کا سبب بنتا ہے۔ رتنا پاٹھک شاہ کے مطابق ماضی میں اداکار محدود پیشہ ورانہ ٹیم کے ساتھ کام کرتے تھے، مگر اب کئی بڑے ستارے مینیجرز، ذاتی معاونین، سوشل میڈیا ٹیم، اسٹائلسٹس اور دیگر عملے کے ساتھ سیٹ پر پہنچتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب یہ عملہ غیر معمولی حد تک بڑھ جائے تو اس کے انتظامی اور مالی اثرات براہِ راست پروڈکشن پر پڑتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فلم سازی ایک اجتماعی فن ہے جس میں وسائل کا درست استعمال بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اگر بجٹ کا بڑا حصہ غیر متعلقہ سہولتوں اور اضافی انتظامات پر صرف ہو جائے تو اصل تخلیقی عمل متاثر ہوتا ہے۔ ان کے بقول، ’’پروڈیوسرز کو اس کلچر کی قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے، کیونکہ ہر اضافی فرد کا مطلب اضافی خرچ، لاجسٹکس اور وقت ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: کمال خان کا دعویٰ: راجپال کے پاس ۵۰؍ کروڑ کی جائیداد، بیوی کو جیل کیوں نہیں؟

اداکارہ نے اس بات پر زور دیا کہ وہ ذاتی معاون یا پیشہ ور مینیجر رکھنے کے خلاف نہیں مگر جب کسی فلم کے سیٹ پر غیر ضروری افراد کی موجودگی فیصلوں پر اثر انداز ہونے لگے تو یہ رجحان صنعت کے لیے نقصان دہ بن جاتا ہے۔ ان کے مطابق اس سے نہ صرف بجٹ بڑھتا ہے بلکہ شوٹنگ شیڈول اور تخلیقی آزادی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ رتنا پاٹھک شاہ نے یہ بھی کہا کہ فلم کی کامیابی کا انحصار کہانی، ہدایت کاری اور اداکاری پر ہوتا ہے، نہ کہ کسی ستارے کے گرد موجود ٹیم کے حجم پر۔ انہوں نے نوجوان فنکاروں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے کام اور پیشہ ورانہ نظم و ضبط پر توجہ دیں، کیونکہ اصل پہچان فن اور محنت سے بنتی ہے۔واضح رہے کہ حالیہ برسوں میں بڑے بجٹ کی فلموں کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس میں پروڈکشن ڈیزائن، مارکیٹنگ اور تکنیکی پہلوؤں کے ساتھ ساتھ اسٹار کاسٹ کے اخراجات بھی شامل ہیں۔ ایسے میں ’’اینٹوراج کلچر‘‘ پر بحث صنعت کے معاشی توازن کے حوالے سے اہم سمجھی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: راجکمار ہیرانی نے ’’منا بھائی ۳‘‘ اور ’’تھری ایڈیٹس‘‘ سیکوئل کی تصدیق کی

رتنا پاٹھک شاہ نے اپنے بیان میں یہ بھی اشارہ دیا کہ فلمی ماحول کو زیادہ پیشہ ور اور سادہ بنانے کی ضرورت ہے تاکہ وسائل کا درست استعمال ہو سکے۔ ان کے مطابق اگر صنعت کو پائیدار بنانا ہے تو اخراجات اور تخلیقی ترجیحات کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔ ان کے بیان کے بعد فلمی حلقوں میں اس موضوع پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ بعض پروڈیوسرز اور تخلیق کاروں نے بھی اس بات کی تائید کی ہے کہ غیر ضروری انتظامی تقاضے بجٹ پر دباؤ ڈالتے ہیں، جبکہ دیگر کا مؤقف ہے کہ بڑے ستاروں کے ساتھ پیشہ ور ٹیم ناگزیر ہوتی ہے۔ تاہم یہ بحث واضح کرتی ہے کہ بالی وڈ کو بدلتے معاشی حالات میں اپنے کام کے طریقوں پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK