• Thu, 12 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بنگلہ دیش: محمد یونس نے انتخاب کو خوف کی رات کا خاتمہ، امید کی صبح کا آغازکہا

Updated: February 12, 2026, 6:07 PM IST | Dhaka

بنگلہ دیش میں عام انتخابات میں عوام نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، ۱۷؍کروڑ کی آبادی والے اس ملک میں ۳۰۰؍ رکن پارلیمانی نشستوں کیلئے ۲۰۳۴؍ امیدوار میدان میں ہیں، جبکہ ۴۲۰۰۰؍ مراکز پر عوام عام انتخاب کے ساتھ ہی آئینی ترمیم کیلئے بھی ووٹ کریں گے، خبروں کے مطابق ۴۸؍ فیصد عوام نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔

Bangladesh`s interim leader Muhammad Yunus casting his vote. Photo: PTI
بنگلہ دیش کے عبوری سربراہ محمد یونس ووٹ ڈالتے ہوئے۔ تصویر: پی ٹی آئی

بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد پہلے عام انتخاب میں عوام نے اپنے رائے دہی کے حق کا استعمال کیا، اس دوران عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس نے اس انتخاب کوخوف کی رات کا خاتمہ اور امید کی صبح کا آغاز قراردیا۔ ۱۲؍ کروڑ۷۶؍ لاکھ سے زائد افراد ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں اور وہ آئینی اصلاحات پر بھی اپنی رائے دیں گے۔نتائج جمعرات کی دیر رات تک آتے رہیں گے جب  کہ ملک بھر کے ۴۲۰۰۰؍ ووٹنگ مراکز پر۳۰۰؍ ارکان پارلیمان کا انتخاب کیا جائے گا۔کل۵۱؍ سیاسی جماعتیں اور۲۰۳۴؍ امیدوار پارلیمانی نشستوں کے لیے مقابلہ کر رہے ہیں، جن میں ۲۷۵؍ آزاد امیدوار شامل ہیں۔۳۰۰؍ عام نشستوں کے علاوہ، جہاں امیدوار براہ راست عوام کے ووٹ سے منتخب ہوتے ہیں، پارلیمان میں خواتین کے لیے۵۰؍ مخصوص نشستیں بھی ہیں، جس سے ایوان کی کل رکنیت۳۵۰؍ ہو جاتی ہے۔ خبروں کے مطابق ۴۸؍ فیصد عوام نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: یورپی ممالک سے اقوام متحدہ اور کثیرفریقی نظام کے تحفظ کی اپیل

عبوری سربراہ محمد یونس نے بھی دارالحکومت میں ووٹ ڈالا۔ ووٹ ڈالنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے یونس نے کہا، ’’آج سارے بنگلہ دیش کے لیے خوشی کا دن ہے ، ہمارے خواب پریشان کا خاتمہ، نئے خوابوں کا آغاز۔‘‘انہوں نے کہا کہ انہیں عوامی انتظامیہ اور انصاف کا مکمل طور پر ٹوٹا پھوٹا نظام ملا تھا جس کی جامع اصلاحات کی ضرورت تھی۔علاوہ ازیں یونس نے جمہوری تبدیلی کے لیے اصلاحات کا ایک منشور پیش کیا ہے، جس کا مقصد آمرانہ یک جماعتی نظام کی واپسی کو روکنا ہے۔ اس میں وزیر اعظم کے لیے مدت کی حد، پارلیمان کا ایوانِ بالا، صدر کے اختیارات میں اضافہ اور عدلیہ کی مزید آزادی تجویز کی گئی ہے۔اس کے علاوہ  اس میں مستقبل کے تمام عام انتخابات کی نگرانی کے لیے غیر جانبدار، غیر جماعتی نگران ادارے کی بحالی کی تجویز بھی شامل ہے۔ یونس نے کہاکہ ’’ ہم یہاں سے نئے بنگلہ دیش کی جانب سفر شروع کریں گے۔ میں آپ سب سے ریفرنڈم میں شرکت کی اپیل کرتا ہوں۔ یہ نہ صرف اپنے نمائندے چننے بلکہ ریفرنڈم میں حصہ لینے کے لیے بھی اہم ہے۔‘‘
دریں اثناء انتخاب کےدوران حفاظت کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں،جس کے تحت مختلف اداروں کے ۹؍ لاکھ ۵۸؍ ہزار اہلکار تعینات کئے گئے ہیں۔واضح رہے کہ یہ ملک کا۱۳؍واں قومی انتخابات ہے، جس میں۱۹۷۱ء کے بعد پہلی بار بنگلہ دیش سے باہر مقیم تارکین وطن کو ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے کی سہولت دی گئی ہے۔یاد رہے کہ عوامی بغاوت کے بعد شیخ حسینہ نے ۱۵؍ سالہ دور اقتدار کے خاتمے کے بعد یہ پہلا عام انتخاب ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ایران : انقلابِ اسلامی کی ۴۷؍ویں سالگرہ منائی گئی

پولنگ اسٹیشن پر بی این پی لیڈر کا انتقال: 
کھلنہ میںپولنگ اسٹیشن پر ووٹ ڈالنے کے دوران میٹروپولیٹن بی این پی کے لیڈرمحبوب زمان کوچی (۶۰؍ سالہ) انتقال کر گئے۔ یہ واقعہ صبح۹؍ بجے کے قریب کھلنہ، مدرسہ پولنگ سینٹر پر پیش آیا۔  بی این پی کے مطابق، کوچی ووٹ ڈالنے پولنگ اسٹیشن آئے تھے اور مرکز کے اندر ووٹ مانگنے کی کوششوں کی مخالفت کی۔ مبینہ طور پر حریف جماعتِ اسلامی کے کارکنوں نے انھیں دھکا دیا، جس سے وہ گر کر زخمی ہو گئے۔ انھیں ایک نجی میڈیکل کالج اسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے انھیں مردہ قرار دے دیا۔
میٹروپولیٹن بی این پی میڈیا سیل کے کنوینر میزان الرحمان نے پروتھم آلو کو بتایا کہ کوچی طویل عرصے سے دل کے عارضے میں مبتلا تھے۔ انھوں نے کہا کہ صبح سے مرکز پر کشیدگی تھی۔ اطلاع ہے کہ عالیہ مدرسہ کے پرنسپل عبدالرحیم جماعتِ اسلامی کی مہم چلا رہے تھے، اور جب کوچی نے انھیں روکنے کی کوشش کی تو انھوں نے اور ان کے ساتھیوں نے کوچی کو دھکا دے دیا، جس سے وہ درخت سے ٹکرا کر گر گئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK