’جین زی سے حوصلہ پاکر اب ’جین الفا‘ نے بھی آواز بلند کی،یوپی، بہار اور راجستھان میں اسکولوں کی بنیادی سہولیات کیلئے مظاہرہ کیا
EPAPER
Updated: August 02, 2026, 9:57 AM IST | New Delhi
’جین زی سے حوصلہ پاکر اب ’جین الفا‘ نے بھی آواز بلند کی،یوپی، بہار اور راجستھان میں اسکولوں کی بنیادی سہولیات کیلئے مظاہرہ کیا
’جین زی‘ کے بعد اب ملک کی سب سے کم عمر نسل’’جنریشن الفا‘‘ بھی اپنے حقوق کیلئے آواز بلند کرتی نظر آ رہی ہے۔ اتر پردیش، راجستھان اور بہار کے سرکاری اسکولوں میں کم عمر طلبہ کلاس روم سے نکل کر احتجاج اور دھرنوں کا سہارا لے رہے ہیں۔ واضح رہے کہ ۱۹۹۷ء سے۲۰۱۲ء کے درمیان پیدا ہونےوالے بچے جنریشن زیڈ اور ۲۰۱۲ء سے ۲۰۲۴ء کے درمیان آنکھیں کھولنے والے بچے جنریشن الفا کہلاتے ہیں۔ اس کےبعد کے بچوں کو جنریشن بیٹا نام دیاگیاہے۔
یوپی کے سرودیا انٹرکالج میں طلبہ کا احتجاج
اتر پردیش کے فتح پور میں سرودیا انٹر کالج کے تقریباً۱۵۰۰؍ طلبہ نے اسکول کی بنیادی سہولیات کی خراب حالت کے خلاف کئی گھنٹے تک احتجاج کیا۔ طلبہ کا کہنا تھا کہ کلاس روم میں پنکھے اور بجلی کا مناسب انتظام نہیں، بیت الخلا گندےہیں، پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں اور بیٹھنے کیلئے بنچ بھی ناکافی ہیں۔ احتجاج کے بعد ضلع اسکول انسپکٹر نے اسکول کا معائنہ کیا اور مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ فتح پور کے طلبہ نے اپنے احتجاج کیلئے تخلیقی انداز اختیار کیا۔ ان کے پلے کارڈس اور نعرے سوشل میڈیا پر توجہ کا مرکز بن گئے۔ بچوں کا پیغام واضح تھا کہ اسکول میں بنیادی سہولیات فراہم کرنا کوئی غیر معمولی مطالبہ نہیں بلکہ ان کا حق ہے۔
راجستھان میں اساتذہ کی کمی پر طلبہ سڑکوں پر
راجستھان میں سرکاری اسکولوں کے طلبہ اساتذہ کی شدید کمی کے خلاف سڑکوں پر اترے۔ باڑمیر میں طلبہ نے اسکول کے دروازہ پر تالا لگا کر دھرنا دیا اور اساتذہ کی فوری تقرری کی مانگ کی۔جالور کے میگالوا گاؤں میں بھی طلبہ نے خالی تدریسی عہدوں کو پُر کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اساتذہ کی کمی کے باعث کئی مضامین کی پڑھائی متاثر ہو رہی ہے اور امتحانات کی تیاری بھی مشکل ہو گئی ہے۔ مظاہرہ میں شامل ایک طالب علم نے کہا کہ ’’ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت فوری طور پر پہلی،دوسری اور تیسری کیلئے اساتذہ کی تقرری کرے۔ اسکول میں موجودہ عملہ ناکافی ہے اور اس پر انتظامی کاموں کا بھی بوجھ ہے جس کی وجہ سے وہ تدریسی ذمہ داری نہیں نبھا پاتے۔ ‘‘
بہار (گیا) میں طلبہ کا سب ڈویژنل آفس تک مارچ
بہار کے گیا میں۴۰؍سے زیادہ طلبہ نےجمعرات کو ٹکاری سب ڈویژنل آفس تک مارچ کیا۔بچوں نے اسکول میں ناقص معیار کے مڈ ڈے میل، خراب ہینڈ پمپ، گندے بیت الخلا اور کھیلوں کے سامان کی کمی کی شکایت کی۔ ٹکاری کے ایس ڈی ایم نے طلبہ کی شکایات سننے کے بعد ہیڈ ماسٹر کو ۵؍ دن کے اندر مسائل حل کرنے کی ہدایت دی اور شکایات کی تحقیقات کیلئے۳؍رکنی کمیٹی تشکیل دی۔ یہ صورت حال اس لحاظ سے اہم ہے کہ جنریشن الفا کی عمر عموماً ان طلبہ کی ہے جو ابھی اسکول کی ابتدائی یا جماعتوں میں ہیں۔ اس کے باوجود وہ اپنی شکایات انتظامیہ تک پہنچانےکیلئے احتجاج، دھرنے، نعرے بازی اور سوشل میڈیا جیسے ذرائع استعمال کر رہے ہیں۔
جنریشن الفا کا یہ ابھرتا ہوا احتجاج اس بے خوفی کا مظہر ہے جو جنتر منتر پر نیٹ پیپر لیک کے خلاف احتجاج سے پیدا ہوئی ہے۔ یہ اس بات کا اشارہ بھی ہے کہ نئی نسل اپنے مسائل پرخاموش رہنے کے بجائے انتظامیہ سے جواب مانگنے کا طریقہ سیکھ رہی ہے۔ اس کی وجہ سے حکومت کے ہاتھ پائوں پھول رہے ہیں۔