• Thu, 17 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

برطانیہ: شہزادی ڈائنا کے بھائی کی کتاب میں سنسنی خیز دعوؤں پر تنازع، شاہی خاندان کے ساتھ لفظی جھڑپیں

Updated: September 17, 2026, 10:07 PM IST | London

رپورٹ کے مطابق، شاہ چارلس سوم نے مبینہ تبصرہ (”مطمئن رہیں، ہم جلد ہی انہیں بھول جائیں گے۔“) شہزادی کے جنازے کے انتظامات پر ایک گرما گرم بحث کے دوران کیا تھا، جب اسپینسر نے پرنس ولیم اور ہیری، جن کی عمریں اس وقت ۱۵ اور ۱۲ سال تھیں، کو ڈیانا کے تابوت کے پیچھے چلنے پر مجبور کئے جانے پر اعتراض کیا تھا۔ اسپینسر نے لکھا کہ چارلس نے ”شدید غصے“ سے جواب دیا تھا۔ اپنی کتاب میں اسپینسر نے اس غصے کو ڈیانا کے خلاف دیرینہ رنجش کی علامت سے تعبیر کیا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

برطانوی شہزادی ڈائنا کے بھائی، ارل اسپینسر کی سوانح عمری جلد ہی منظرعام پر آنے والی ہے جس میں شہزادی کے بارے میں سنسنی خیز دعوے کئے گئے ہیں۔ اس کتاب کے چند اقتباسات سامنے آنے کے بعد، شاہی محل بکنگھم پیلس، کتاب کے مصنف کے ساتھ ایک غیر معمولی عوامی تنازع میں الجھ گیا ہے۔ برطانوی روزنامے ڈیلی میل کی جانب سے شائع کئے گئے اقتباسات میں الزام لگایا گیا ہے کہ شاہ چارلس سوم نے ۱۹۹۷ء میں شہزادی ڈائنا کی موت کے بعد کے دنوں میں اسپینسر سے کہا تھا، ”مطمئن رہیں، ہم جلد ہی انہیں بھول جائیں گے۔“ شاہی محل نے اس پر سخت جوابی ردِعمل ظاہر کیا ہے، جو کتابوں پر تبصرہ نہ کرنے کی اس کی دیرینہ پالیسی کے پیشِ نظر غیر معمولی اقدام ہے۔

یہ بھی پڑھئے: برطانیہ غزہ میں بچوں کے قتل پر اب مزید خاموش نہیں رہے گا: فرسٹ سیکرٹری آف اسٹیٹ

شاہی محل کا ردِعمل ”بے نظیر“ قرار دیا گیا

اپنے بیان میں، بکنگھم پیلس نے کہا ہے کہ اگرچہ شاہی محل کی جانب سے اصولی طور پر کتابوں پر تبصرہ نہیں کیا جاتا ہے، لیکن ”اعلیٰ حضرت اس بات سے باخبر ہیں کہ بھائی کے بچھڑنے کا غم عقل پر پردہ ڈال سکتا ہے، فیصلے کو متاثر کر سکتا ہے اور یادداشت کو ایسے انداز میں بدل سکتا ہے جسے دوسرے نہیں پہچان پاتے، یہاں تک کہ اتنے بڑے نقصان کے کئی سال بعد بھی۔“ شاہی مبصرین، بشمول مجیسٹی میگزین کی چیف ایڈیٹر انگرڈ سیورڈ، نے اس ردِعمل کو بے نظیر قرار دیا۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ بادشاہ شدید رنجیدہ تھے اور خاص طور پر اپنے بیٹوں کی خاطر حقائق واضح کرنا چاہتے تھے۔ بادشاہ کے سابق کمیونیکیشن سیکریٹری جولین پین نے کہا کہ یہ مبینہ الفاظ ”بالکل ایسی زبان نہیں ہیں جسے میں پہچانتا ہوں۔“ انہوں نے محل کے بیان کو اس بات کی علامت قرار دیا کہ حکام نے کس قدر شدت سے جواب دینے کی ضرورت محسوس کی۔

یہ بھی پڑھئے: ترکی: برطانیہ اسرائیل کے حوالے سے اپنا نقطہ نظر تبدیل کر رہا ہے: برطانوی سفیر

کتاب کا مرکز: شہزادی کے جنازے سے جڑا تنازع

اقتباس کے مطابق، شاہ چارلس سوم نے مذکورہ بالا مبینہ تبصرہ، شہزادی ڈائنا کے جنازے کے انتظامات پر ایک گرما گرم بحث کے دوران کیا تھا، جب اسپینسر نے پرنس ولیم اور ہیری، جن کی عمریں اس وقت ۱۵ اور ۱۲ سال تھیں، کو ڈیانا کے تابوت کے پیچھے چلنے پر مجبور کئے جانے پر اعتراض کیا تھا۔ اسپینسر نے لکھا کہ چارلس نے ”شدید غصے“ سے جواب دیا تھا۔ اپنی کتاب میں اسپینسر نے اس غصے کو ڈیانا کے خلاف دیرینہ رنجش کی علامت سے تعبیر کیا ہے۔ پرنس ہیری پہلے کہہ چکے ہیں کہ کسی بچے کو والدین کے تابوت کے پیچھے چلنے کیلئے نہیں کہنا چاہئے، اگرچہ بعد میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ اس کا حصہ بننے پر خوش تھے۔ اس ہفتے کے اوائل میں، غیر مطبوعہ کتاب، جس کا عنوان ”سوان سانگ: ڈائنا، مائی سسٹر“ (Swan Song: Diana, My Sister) ہے، اگلے ہفتے ریلیز ہونے سے قبل نیدرلینڈز میں ایک لاری سے چوری ہونے کی اطلاع ملی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: اسکاٹ لینڈ، ویلز اورشمالی آئرلینڈ کے متحدہ برطانیہ سے آزادی کے معاہدے پر دستخط

تنازع کے دوران بادشاہ عوامی سطح پر سامنے آئے

حال ہی میں چارلس نے اسکاٹ لینڈ کے ڈمفریز ہاؤس میں اے آئی انڈسٹری کے لیڈران کے سربراہی اجلاس سے خطاب کیا۔ اسپینسر کی کتاب پر تنازع کے بعد وہ پہلی بار عوامی سطح پر سامنے آئے ہیں۔ اس اجلاس میں این ویڈیا، اینتھروپک، گوگل ڈیپ مائنڈ اور اوپن اے آئی کے اعلیٰ عہدیداروں نے شرکت کی۔ انہوں نے غلط ہاتھوں میں جانے والی اے آئی کے ”وجودی خطرات“ سے خبردار کیا اور ٹیک لیڈران پر زور دیا کہ جیسے جیسے یہ ٹیکنالوجی ترقی کرے، اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ”انسانیت کی مقدس حیثیت برقرار رہے۔“ انہوں نے اس لمحے کو آنے والی نسلوں کیلئے فیصلہ کن قرار دیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK