Updated: September 17, 2026, 10:07 PM IST
| New Delhi
سپریم کورٹ نے اوپن، ڈسٹنس یا کرسپانڈنس موڈ سے گریجویشن کرنے کے بعد منظور شدہ یونیورسٹیوں سے باقاعدہ تین سالہ ایل ایل بی مکمل کرنے والے طلبہ کو عارضی طور پر بطور وکیل رجسٹر کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا کی بینچ نے واضح کیا کہ یہ اجازت مقدمے کے حتمی فیصلے سے مشروط ہوگی اور اس سے طلبہ کا کوئی مستقل حق قائم نہیں ہوگا۔
سپریم کورٹ آف انڈیا۔ تصویر: آئی این این
سپریم کورٹ نے جمعرات کو ان ۳ ؍ سالہ ایل ایل بی کے طلبہ کو بطور وکیل رجسٹر کرنے کی اجازت دی، جنہوں نے گریجویشن ڈسٹنس یا اوپن موڈ سے کیا ہے۔ عدالت نے یہ واضح کیا کہ حتمی فیصلہ سنائے جانے تک یہ اجازت عارضی طورپر دی گئی ہے۔ سپریم کورٹ نے حال ہی میں تلنگانہ اسٹیٹ بار کونسل کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایسے امیدواروں کو عارضی (پروویژنل) طور پر بطور وکیل رجسٹر کرے جنھوں نے اپنی ۳؍ سالہ ایل ایل بی کی ڈگری باقاعدہ (ریگولر) موڈ سے حاصل کی ہے، لیکن ان کا اندراج اس بنیاد پر روک دیا گیا تھا کہ ان کی پچھلی تعلیمی لیاقت (بیچلرز ڈگری) اوپن، ڈسٹنس یا کرسپانڈنس کے ذریعے حاصل کی گئی تھی۔ جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا کی بینچ نے یہ عبوری حکم ان درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے جاری کیا، جس میں بار کونسل آف انڈیاکے رولز آف لیگل ایجوکیشن، ۲۰۰۸ء کے رول ۵؍ کی تشریح کا حتمی فیصلہ آنے تک عارضی رجسٹریشن کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: کرناٹک: بھٹکل میں گنیش وسرجن جلوس کے دوران مسجد اورمدرسے پر پتھراؤ
درخواست گزاروں نے اپنی اسکول کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد حیدرآباد کی ڈاکٹر بی آر امبیڈکر اوپن یونیورسٹی سے بیچلرز کی ڈگری حاصل کی تھی اور اس کے بعد بی سی آئی سے منظور شدہ یونیورسٹیوں سے ریگولر موڈ کے تحت ۳؍ سالہ ایل ایل بی کورس مکمل کیا۔ لیکن اس کے باوجود، صرف اس وجہ سے ان کا وکالت کیلئے اندراج نہیں کیا جا رہا تھا کہ ان کی ایل ایل بی سے پہلے کی بیچلرز ڈگری اوپن یا ڈسٹنس موڈ کی تھی۔اسی طرح ایک اور درخواست گزار نے ۲۰۰۶ء میں مدورئی کامراج یونیورسٹی سے ڈسٹنس موڈ کے ذریعے بی کام کی ڈگری حاصل کی تھی اور اس کے بعد ۲۰۲۰ء میں عثمانیہ یونیورسٹی سے زیر انتظام ایک کالج سے ریگولر موڈ میں ایل ایل بی کیا۔ تلنگانہ اسٹیٹ بار کونسل نے رول ۵؍ کے تحت ان کی اینرولمنٹ کی درخواست رد کر دی تھی، جسے بعد میں ۲۰۲۴ء میں تلنگانہ ہائی کورٹ نے بھی برقرار رکھا۔
یہ بھی پڑھئے: عمر خالد کیس: پریانک کھرگے کا مودی اور امیت شاہ سے مقدمہ شروع کرنے کا مطالبہ
ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف درخواست گزاروں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ وہ فی الحال `رول ۵؍ کی تشریح سے متعلق تنازع کی تفصیلات میں نہیں جا رہی ہے، اس پر حتمی سماعت کے دوران غور کیا جائے گا۔ عدالت نے نوٹ کیا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ تمام درخواست گزاروں نے منظور شدہ یونیورسٹیوں سے ریگولر موڈ میں ہی اپنا ۳؍ سالہ ایل ایل بی کورس مکمل کیا ہے اور ان کےاینرولمنٹ میں رکاوٹ صرف قانون کی تعلیم سے پہلے کی ڈگری کے طریقہ کار کی وجہ سے آئی ہے۔بینچ نے کہا کہ اپیلیں زیرِ التوا رہنے کے دوران طلبہ کے اینرولمنٹ کو روکے رکھنے سے ان کا بلاوجہ نقصان ہو رہا ہے اور ریگولر لاء ڈگری مکمل کرنے کے باوجود انہیں قانونی پیشے میں قدم رکھنے سے روکا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، ان کے اندراج کو عارضی رکھ کر اور اسے سیول اپیلوں کے حتمی فیصلے سے مشروط کر کے، حتمی عدالتی فیصلے پر اثر انداز ہوئے بغیر ان کے مفادات کا تحفظ کیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’اقلیتوں کیساتھ ناانصافی نہ کی جائے، انہیں سیاسی نمائندگی کا مساوی حق ملنا چاہیے‘‘
عدالت نے مزید یہ بھی واضح کیا کہ اس عارضی اینرولمنٹ کی بنیاد پر درخواست گزار کسی خاص قانونی رعایت یا حق کے دعویدار نہیں ہوں گےاور یہ رجسٹریشن ان کے تعلیمی دستاویزات کی تصدیق اور دیگر لازمی شرائط کے پورا ہونے سے مشروط رہے گی۔ ان تمام باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے، بنچ نے دستاویزات کی تصدیق کی شرط کے ساتھ عارضی اینرولمنٹ کی اجازت دے دی، جو اپیل کے حتمی فیصلے سے مشروط رہے گی۔ سماعت کو سمیٹتے ہوئے عدالت نے ایک بار پھر دہرایا کہ دی گئی اجازت کے مطابق عارضی رجسٹریشن سے ان کا کوئی مستقل حق قائم نہیں ہوگا اور وہ اپیل کے حتمی فیصلے کے پابند رہیں گے۔