• Thu, 17 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کرناٹک: بھٹکل میں گنیش وسرجن جلوس کے دوران مسجد اورمدرسے پر پتھراؤ

Updated: September 17, 2026, 9:13 PM IST | Bhatkal

کرناٹک کے ضلع اترا کنڑ کے بھٹکل قصبے میں گنیش مورتی وسرجن کے جلوس کے دوران نامعلوم افراد کی جانب سے ایک مسجد اور مدرسے پر مبینہ پتھراؤ کے بعد کشیدگی پھیل گئی۔ واقعے میں عمارت کی کھڑکیوں کے دو شیشے ٹوٹ گئے، جس کے بعد مقامی مسلم باشندوں نے پولیس اسٹیشن کے باہر جمع ہو کر ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ پولیس نے تحقیقات شروع کرتے ہوئے علاقے میں اضافی فورس تعینات کر دی ہے۔

People demanding the arrest of the accused outside the police station. Photo: X
پولیس اسٹیشن کے باہر لوگ ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے۔ تصویر: ایکس

کرناٹک کے ضلع اترا کنڑ کے قصبے بھٹکل میں بدھ کی رات ۱۶؍ ستمبر کو گنیش مورتی وسرجن کے جلوس کے دوران نامعلوم افراد کی جانب سے ایک مسجد اور مدرسے پر مبینہ پتھراؤ کے بعد کشیدگی پھیل گئی۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب گلمی ریلوے اسٹیشن روڈسے ایک عوامی گنیش جلوس گزر رہا تھا۔ یہ جلوس تالینڈ سے شروع ہوا تھا اور گلمی ریلوے پل پار کر کے ریلوے اسٹیشن کی طرف بڑھ رہا تھا۔ بھٹکل ٹاؤن پولیس اسٹیشن میں درج کروائی گئی شکایت کے مطابق، اسماعیل سنی جامعہ مسجد اور اسی عمارت کی نچلی منزل پر قائم تاج السنہ عربی مدرسہ پر مبینہ طور پر پتھر پھینکے گئے، جس کے نتیجے میں عمارت کی کھڑکیوں کے دو شیشے ٹوٹ گئے۔

یہ بھی پڑھئے: جرنگے کی حالت دیکھ کر انکے والد روپڑے

واقعے کے فوراً بعد مقامی مسلم باشندے بڑی تعداد میں پولیس اسٹیشن کے باہر جمع ہو گئے اور ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ پولیس حکام نے مظاہرین سے بات چیت کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ معاملے کی مکمل تحقیقات کی جائے گی اور ثبوتوں کی بنیاد پراس معاملےکے ذمہ دارافرادکی شناخت کر کے انہیں گرفتار کیا جائے گا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی اترا کنڑ کے ضلع ایس پی دیپن ایم این نے موقع پر پہنچ کر متاثرہ عمارت کا معائنہ کیا، مقامی لوگوں سے گفتگو کی اور حالات کا جائزہ لیا۔ ایس پی کی جانب سے سخت کارروائی کے ایقان کے بعد جمع ہونے والے لوگ تھانے کے باہر سے منتشر ہو گئے۔

یہ بھی پڑھئے: منی پور میں پھر تشدد،۲؍کوکی خواتین کا قتل، مکانات نذر ِ آتش

پولیس نے اس واقعے کی تفتیش شروع کر دی ہے اور علاقے میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج اور دیگر دستیاب شواہد کی جانچ کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکام جلوس کے روٹ اور ان حالات کے بارے میں بھی معلومات اکٹھی کر رہے ہیں جن کے تحت یہ واقعہ پیش آیا۔ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کیلئے بھٹکل میں احتیاطی تدابیر کے طور پر اضافی پولیس فورس تعینات کر دی گئی ہے اور سینئر افسران صورتِحال کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں۔ تفتیش کے دوران پولیس نے عام شہریوں سے امن و امان برقرار رکھنے اور غیر تصدیق شدہ افواہیں پھیلانے سے گریز کرنے کی بھی اپیل کی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK