Inquilab Logo Happiest Places to Work

پنجابی گلوکارہ افسانہ خان کی آواز میں جذباتی اتار چڑھاؤ ہے

Updated: June 12, 2026, 1:49 PM IST | Mumbai

پنجابی موسیقی کی دنیا میںایک دہائی کے دوران جن خواتین گلوکاراؤںنے غیر معمولی شہرت حاصل کی ہے، ان میں افسانہ خان کا نام نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ ان کی آواز میں دیہی پنجاب کی مٹی کی خوشبو، لوک گائیکی کا رنگ اور جذبات کی شدت یکجا نظر آتی ہے۔

پنجابی گلوکارہ اوراداکارہ افسانہ خان۔ تصویر: آئی این این
پنجابی گلوکارہ اوراداکارہ افسانہ خان۔ تصویر: آئی این این

پنجابی موسیقی کی دنیا میںایک دہائی کے دوران جن خواتین گلوکاراؤںنے غیر معمولی شہرت حاصل کی ہے، ان میں افسانہ خان کا نام نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ ان کی آواز میں دیہی پنجاب کی مٹی کی خوشبو، لوک گائیکی کا رنگ اور جذبات کی شدت یکجا نظر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے نہ صرف پنجابی موسیقی کے شائقین بلکہ ملک بھر کےسامعین کے درمیان اپنی ایک الگ شناخت قائم کی ہے۔

افسانہ خان کی پیدائش ۱۲؍جون ۱۹۹۴ءکوپنجاب کے ضلع سری مکتسرصاحب کے گاؤں بادل میں ہوئی۔ ان کا تعلق ایک ایسے خاندان سے ہے جہاں موسیقی نسل در نسل منتقل ہوتی رہی۔ بچپن ہی سےانہیں گانے کا شوق تھا اور گھریلو ماحول نے اس شوق کو مزید جلا بخشی۔ موسیقی ان کے لیے صرف ایک مشغلہ نہیں بلکہ زندگی کا حصہ تھی، اسی لیے انہوں نے کم عمری میں ہی اس میدان میں اپنی قسمت آزمانے کا فیصلہ کر لیا۔افسانہ خان کو پہلی بڑی پہچان ۲۰۱۲ءمیںاس وقت ملی جب انہوں نےپنجابی گائیکی کے مقبول ریئلٹی شو’وائس آف پنجاب سیزن۳‘میں حصہ لیا۔ اگرچہ وہ مقابلے کی فاتح نہیں بن سکیں، لیکن ٹاپ فائیو تک پہنچنے میں کامیاب رہیں۔ ان کی منفرد آواز نے موسیقی کے حلقوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی۔ اس کے بعد انہوں نے مختلف اسٹیج پروگراموں اور میوزک لیبلز کے ساتھ کام کرنا شروع کیا اور آہستہ آہستہ پنجابی موسیقی کی دنیا میں اپنی جگہ بنائی۔ 

یہ بھی پڑھئے: اُدئے چوپڑا کی واپسی، ناکام اداکاری سے ہالی ووڈ، پھرYRF اسپائی یونیورس تک کا سفر

۲۰۱۷ءمیں انہوں نے ایک اور قومی سطح کے ریئلٹی شو ’رائزنگ اسٹار‘میںشرکت کی۔ اس مقابلے میں بھی وہ نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرتےہوئے ٹاپ سیون تک پہنچیں۔ بعد میں ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ آڈیشن کے وقت انہیں بالی ووڈ کے گانوں کی زیادہ واقفیت نہیں تھی اور انہوں نے موقع پر ہی ایک گیت کی تیاری کرکے انتخاب حاصل کیا تھا۔ یہ واقعہ ان کی لگن اور سیکھنے کے جذبے کی عکاسی کرتا ہے۔اگرچہ افسانہ خان پہلے ہی پنجابی موسیقی کے حلقوں میں جانی پہچانی جا چکی تھیں، لیکن ان کی اصل شہرت کا دائرہ ۲۰۲۰ء میں بے حد وسیع ہوگیا جب ان کا گایا ہوا گیت ’تتلیاں‘ریلیز ہوا۔ اس گیت میںمحبت،بے وفائی اور جذباتی کشمکش کو جس انداز میں پیش کیا گیا،اس نے سامعین کے دل جیت لیے۔گیت میں اداکاری ہردی سندھو اور سرگن مہتا نے کی تھی جبکہ بول جانی نے تحریر کیے تھے۔ ’تتلیاں‘نہ صرف یوٹیوب پر کروڑوں بار سنا گیا بلکہ یہ پورے شمالی ہندوستان میں مقبولیت کا ریکارڈ قائم کرنے میں کامیاب رہا۔ 

یہ بھی پڑھئے: ’’ماں بہن‘‘ کی نیٹ فلکس پر دھوم، عالمی فہرست میں دوسرے نمبر پر

افسانہ خان کی کامیابی صرف ’تتلیاں‘تک محدود نہیں رہی۔ ان کےگائے ہوئے گیت ’دھکا‘،’جانی وے جانی‘،’کمال کرتے ہو‘، ’بازار‘، ’تتلیاں ورگا‘اور دیگر کئی نغمے پنجابی موسیقی کے شائقین میں بے حد مقبول ہوئے۔ خاص طور پر گلوکار اور نغمہ نگار سدھو موسے والا کے ساتھ ان کے اشتراک کو بہت پسند کیا گیا۔ ’دھکا‘ ان گیتوں میں شامل ہے جس نے ان کی شہرت کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔۲۰۲۱ءمیں افسانہ خان نےٹیلی ویژن کے سب سے زیادہ زیرِ بحث ریئلٹی شوز میںسے ایک’بگ باس ۱۵‘میں شرکت کی۔ شو کے دوران ان کی جذباتی شخصیت بار بار ناظرین کے سامنے آئی۔ افسانہ خان کی گائیکی کی سب سے نمایاں خصوصیت ان کی آواز کا جذباتی اتار چڑھاؤ ہے۔ وہ درد بھرے گیتوں میں جس شدت کے ساتھ احساسات کو منتقل کرتی ہیں، وہ انہیں اپنی ہم عصر گلوکاراؤں سے ممتاز بناتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK