ملکۂ جذبات میناکماری کوپیدائش کے وقت ان کے والد یتیم خانے چھوڑ آئے تھے

Updated: April 01, 2022, 12:46 PM IST | Agency | Mumbai

اپنی سنجیدہ اداکاری سے ناظرین کے دلوں کو چھو لینے والی عظیم اداکارہ مینا کماری حقیقی زندگی میں ’’ ملکۂ جذبات ‘‘ کے نام سے مشہور ہوئیںلیکن وہ۶؍ ناموں سے جانی جاتی تھیں۔

Meena Kumari.Picture:INN
ماضی کی اداکارہ مینا کماری ۔ تصویر: آئی این این

 اپنی سنجیدہ اداکاری سے ناظرین کے دلوں کو چھو لینے والی عظیم اداکارہ مینا کماری حقیقی زندگی میں ’’ ملکۂ جذبات ‘‘ کے نام سے مشہور ہوئیںلیکن  وہ۶؍ ناموں سے جانی جاتی تھیں۔ ممبئی میں یکم اگست۱۹۳۲ء کو ایک متوسط طبقے کے مسلم خاندان میں مینا کماری جب پیدا ہوئیں تو باپ علی بخش  انہیں یتیم خانے چھوڑ آئے کیونکہ دو بیٹیوں کی پیدائش کے بعد اس بات کی دعا کررہے تھے کہ اللہ اس مرتبہ بیٹے کا منہ دکھا دے تبھی انہیں بیٹی ہونے کی خبرآئی اور وہ  بچی کو گھر نہ لے جاکر یتیم خانے چھوڑ آئے لیکن بعد میں ان کی بیوی کے آنسوؤں نے بچی کو یتیم خانے سے گھر لانے کے لئے مجبور کر دیا۔ مینا  کماری کی  ماں اقبال بانو نے ان کا نام ’’ماہ جبیں‘‘ رکھا۔بچپن کے دنوں میں مینا کماری کی آنکھیں بہت چھوٹی تھیں اس لئے خاندان والے انہیں ’’چینی‘‘ کہہ کر پکارا کرتے تھے۔ تقریبا ۴؍ سال کی عمر میں۱۹۳۹ء میں بطور چائلڈ آرٹسٹ انہوں نے فلموں میں اداکاری کرنی شروع کر دی تھی۔ پرکاش پکچرس کے بینر تحت بنی فلم ’’لیدر فیس‘‘میں ان کا نام بے بی مینا رکھا گیا۔اس کے بعد مینا نے ’’بچوں کا کھیل‘‘ میں بطور اداکارہ کام کیا۔ اس فلم میں انہیں’’ مینا کماری‘‘ کا نام دیا گیا۔۱۹۵۲ءمیں میناکماری کو وجے بھٹ کی ہدایت میں بیجو باورا میں کام کرنے کا موقع ملا۔ فلم کی کامیابی کے بعد وہ بطور اداکارہ اپنی شناخت بنانے میں کامیاب رہیں۔    ۱۹۶۲ء ان  کے فلمی کریئر کے لئے کامیاب ثابت ہوا۔ ’’آرتی، میں چپ رہوں گی اورصاحب بیوی اور غلام ‘‘جیسی فلمیں منظر عام پر آئیں  اور اپنی  بہترین اداکاری  کے لئے وہ  فلم فیئر ایوارڈ کے لئے نامزد کی گئیں۔ فلم فیئر کی تاریخ میں یہ  پہلا موقع تھا جب ایک اداکارہ کو فلم فیئر کے ۳؍ نومنیشن ملے تھے۔ کمال امروہی کی فلم ’’پاکیزہ‘‘کی تخلیق میں تقریباً ۱۴؍ برس لگ گئے  باوجودیہ کہ کمال امروہی سے الگ ہونے کے باوجود مینا کماری نے شوٹنگ جاری رکھی تھی  کیونکہ ان کا خیال تھا کہ پاکیزہ جیسی فلموں میں کام کرنے کا موقع بار بار نہیں مل پاتا ہے۔ مینا کماری  کی جوڑی اشوک کمار کے ساتھ کافی پسند کی گئی۔ بہترین اداکاری کے لئے انہیں ۴؍ بار فلم فیئر کے بہترین اداکارہ کے ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔ ان میں’’بیجو باورا، پرینیتا، صاحب بیوی اور غلام اور کاجل‘‘ شامل ہیں۔ مینا کماری اگر اداکارہ نہیں ہوتیں تو شاعر ہ کے طور پر اپنی شناخت بناتیں۔ہندی فلموں کے نغمہ نگار اور شاعر گلزار سے ایک بار مینا کماری نے کہا تھا، ’’یہ جو اداکاری میں کرتی ہوں اس میں ایک کمی ہے۔یہ فن، یہ آرٹ مجھ میں پیدا نہیں ہوا ہے، خیال دوسرے کا، کردار کسی کا اور ہدایت کسی کی ۔ میرے اندر سے جو پیدا ہوا ہے، وہ میں لکھتی ہوں، جو میں کہنا چاہتی ہوں، وہ لکھتی ہوں۔‘‘   تقریباً ۳؍ دہائیوں  تک اپنی سنجیدہ اداکاری سے ناظرین کے دلوں پر راج کرنے والی ہندی سنیما کی عظیم اداکارہ مینا کماری۳۱؍ مارچ۱۹۷۲ء کو ہمیشہ کے لئے الوداع کہہ گئیں ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK