Updated: May 23, 2026, 9:01 PM IST
| Mumbai
رام گوپال ورما نے ’’مائیکل‘‘ دیکھنے کے بعد ایک شدید جذباتی ردعمل ظاہر کیا ہے۔ فلمساز نے سوشل میڈیا پر ایک طویل نوٹ شیئر کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ فلم نے انہیں ۲۵؍ جون ۲۰۰۹ء کی اس خوفناک رات میں واپس پہنچا دیا جب مائیکل جیکسن کی موت کی خبر نے دنیا کو ہلا دیا تھا۔
رام گوپال ورما نے حال ہی میں Michael دیکھنے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک غیر معمولی حد تک جذباتی اور ذاتی ردعمل شیئر کیا، جس نے انٹرنیٹ پر تیزی سے توجہ حاصل کر لی۔ فلمساز نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر ایک طویل پوسٹ میں نہ صرف اپنی جذباتی کیفیت بیان کی بلکہ مائیکل جیکسن کی موت سے جڑی یادوں کو بھی تفصیل سے بیان کیا۔ اپنے نوٹ کا آغاز انہوں نے ایک چونکا دینے والے جملے سے کیا: ’’میں مائیکل سے نفرت کرتا ہوں۔‘‘ تاہم بعد میں انہوں نے واضح کیا کہ یہ نفرت دراصل اس ناقابلِ برداشت دکھ سے پیدا ہوئی جو انہوں نے ۲۰۰۹ء میں مائیکل جیکسن کی موت کی خبر سن کر محسوس کیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے : جھانوی کپور نے پیٹ کمنزکی گیند پر ایسا زبردست شاٹ مارا کہ ایک فون ٹوٹ گیا
ورما نے لکھا کہ مائیکل جیکسنکی موت نے ان کے اندر ایک ایسا خلا پیدا کر دیا تھا جسے وہ آج تک قبول نہیں کر سکے۔ انہوں نے یاد کیا کہ ۲۵؍ جون ۲۰۰۹ء کی رات وہ ٹیلی ویژن چلتا چھوڑ کر سو گئے تھے، جب اچانک نیوز چینلز پر بار بار یہ خبر نشر ہونے لگی کہ ’’مائیکل جیکسن مر گیا ہے۔‘‘ انہوں نے لکھا کہ ’’میں نے سوچا یہ کوئی ڈراؤنا خواب ہے، لیکن جب میں نے چینلز بدلے اور ہر جگہ وہی خبر دیکھی، تب مجھے احساس ہوا کہ ناممکن حقیقت بن چکا ہے۔‘‘ اپنے پوسٹ میں ورما نے پہلی بار مائیکل جیکسن کو دیکھنے کا تجربہ بھی بیان کیا۔ ان کے مطابق ۱۹۸۴ء میں وجئے واڑہ میں انجینئرنگ کے زمانے میں ایک دوست انہیں ایک ویڈیو پارلر لے گیا جہاں انہوں نے پہلی بار ’’Thriller‘‘ دیکھا۔
یہ بھی پڑھئے : ورون دھون کی ’’ہے جوانی تو عشق ہونا ہے‘‘ کا ٹریلر جاری
انہوں نے لکھا، ’’وہ صرف ایک گلوکار یا ڈانسر نہیں تھا۔ وہ انسانی وجود سے آگے کی چیز لگتا تھا۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے کوئی مافوق الفطرت طاقت اسکرین پر زندہ ہو گئی ہو۔‘‘ فلمساز کے مطابق، مائیکل جیکسن ان کے لیے ہمیشہ ایک خواب، ایک دیومالائی شخصیت اور ناقابلِ شکست علامت رہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی موت نے انہیں ذاتی طور پر توڑ دیا۔ ورما نے اپنے نوٹ میں کہا، ’’میں مائیکل سے اس لیے نفرت کرتا ہوں کہ اس نے ثابت کر دیا کہ وہ بھی ہم سب کی طرح انسان تھا۔ اسے بھی آکسیجن کی ضرورت تھی، اس کا دل بھی دھڑکنا بند کر سکتا تھا۔‘‘
انہوں نے مزید لکھا، ’’مجھے نفرت ہے کہ میں نے سی این این پر یہ الفاظ دیکھے: مائیکل جیکسن کی لاش مردہ خانے بھیج دی گئی۔ اس لمحے اس نے میرے خواب کو ڈراؤنے خواب میں بدل دیا۔‘‘ تاہم اپنے نوٹ کے اختتام پر رام گوپال ورما نے واضح کیا کہ ان کا غصہ یا دکھ مائیکل جیکسن سے جڑے تنازعات یا الزامات سے متعلق نہیں، بلکہ خالصتاً ایک مداح کی جذباتی وابستگی کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے لکھا کہ ’’میں تم سے نفرت بھی کرتا ہوں اور تم سے بے حد محبت بھی۔ مجھے یقین ہے کہ تم اب بھی کسی اور جہت میں چاند کی سیر کر رہے ہو۔‘‘
واضح رہے کہ مائیکل جیکسن کا ہندوستان سے تعلق بھی ہمیشہ خاص رہا۔ ۱۹۹۶ء میں اپنے ’’HIStory World Tour‘‘ کے دوران انہوں نے ممبئی کا دورہ کیا تھا، جسے اس وقت ملک کی سب سے بڑی پاپ کلچرل تقریبات میں شمار کیا گیا۔ رپورٹس کے مطابق، ان کے دورے کے دوران ہزاروں مداح ہوٹلوں اور کنسرٹ مقامات کے باہر جمع ہوئے تھے جبکہ میڈیا کوریج نے پورے ملک میں غیر معمولی جنون پیدا کر دیا تھا۔ ان کے ساتھ سیکڑوں افراد پر مشتمل پروڈکشن ٹیم اور درجنوں کنٹینرز پر مشتمل ساز و سامان بھی ہندوستان پہنچا تھا، جو ان کے عالمی اثر و رسوخ کی عکاسی کرتا تھا۔