فلمی گیتوں کے انداز اور مذہبی عقیدت کے اظہار کو لے کر سوشل میڈیا پر جاری بحث نے نغمہ نگار منوج منتشر کو ایک بار پھر اپنی سابقہ فلم ’آدی پُرش‘ کے گیتوں کے دفاع پر مجبور کردیا ہے۔
EPAPER
Updated: October 31, 2026, 9:01 PM IST | Mumbai
فلمی گیتوں کے انداز اور مذہبی عقیدت کے اظہار کو لے کر سوشل میڈیا پر جاری بحث نے نغمہ نگار منوج منتشر کو ایک بار پھر اپنی سابقہ فلم ’آدی پُرش‘ کے گیتوں کے دفاع پر مجبور کردیا ہے۔
نغمہ نگار اور مصنف منوج منتشر شکلا اس وقت سوشل میڈیا پر تنقید کی زد میں آگئے جب انہوں نے فلم ’’رامائن‘‘ کا نیا گیت ریلیز ہونے پر ایک بار پھر اپنی سابقہ فلم ’’آدی پُرش‘‘ کے گیت شیئر کیے۔ کچھ صارفین نے ان پوسٹس کو ردعمل حاصل کرنے کی کوشش قرار دیا، تاہم منوج منتشر نے ایک صارف کی جانب سے دونوں فلموں کی موسیقی کا موازنہ کیے جانے پر اپنا مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’’رام کیلئے قوالیاں نہیں لکھتے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: سکیش چندر شیکھر کے ۲۰۰ ؍کروڑ روپے کے وصولی معاملے میں نورا فتحی کو سمن
منوج منتشر کو ’منافق‘ کیوں کہا جا رہا ہے؟
یہ معاملہ اس وقت مزید توجہ کا مرکز بن گیا جب منوج منتشر حال ہی میں ریلیز ہونے والے بھکتی گیت ’دشرتھ کے لالن‘ سے وابستہ نظر آئے۔ سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے اس گیت کے موسیقی کے انداز پر سوال اٹھاتے ہوئے انہیں ’منافق‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ گیت کی موسیقی قوالی سے ملتی جلتی محسوس ہوتی ہے۔ ایک صارف نے تبصرہ کیا، ’’بھائی، ہم فلم ’رامائن‘ کے گیت پر تنقید کر رہے ہیں، لیکن یہ تو حقیقت میں قوالی ہے۔‘‘ ایک اور صارف نے لکھا، ’’منتشر جی، آپ لیلیٰ مجنوں جیسے گیت لکھیے، وہ قوالی کیلئے مناسب ہیں۔‘‘ ایک اور صارف نے کہا کہ اے آر رحمان ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کو دوسروں سے بہتر سمجھتے ہیں، جبکہ منوج منتشر قوالی اور ’منگل رنگ‘ کے درمیان فرق کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ایک صارف نے ’رامائن‘ کے مداحوں سے مخاطب ہوتے ہوئے لکھا کہ وہ اس گیت کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں، کیونکہ منوج منتشر نے فلم کے خلاف بہت زیادہ بیانات دیے ہیں۔
’آدی پُرش‘ اور ’رامائن‘ کے گیتوں کے موازنے پر منوج منتشر کا جواب
منوج منتشر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک خبر کے جواب میں اپنا مؤقف پیش کیا، جس میں ’منگل رنگ‘ گیت پر ہونے والی تنقید اور فلم ’آدی پُرش‘ سے متعلق سابقہ تنازعات کا ذکر کیا گیا تھا۔ منوج نے لکھا، ’’منوج منتشر والا کارنامہ؟ ملک کے خود ساختہ سب سے بہترین نیوز چینل نے جاہل عوام جیسی بات کی ہے۔‘‘ انہوں نے فلم ’آدی پُرش‘ کے گیتوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا، ’’میرے بھائی، کاش ’رامائن‘ کے گیتوں میں بھی میرا والا کارنامہ دہرایا جاتا۔ ’آدی پُرش‘ بہت خراب فلم تھی، اس کے مکالمے تو اس سے بھی زیادہ خراب تھے، لیکن اس کے گیت ملک کا بچہ بچہ گاتا ہے۔ کبھی ایودھیا جائیے، وہاں گلی گلی میں ’آدی پُرش‘ کے ہی گیت بج رہے ہوتے ہیں۔‘‘
منوج منتشر نے مزید کہا کہ فلم پر تنقید کے باوجود اس کے گیت عقیدت اور لگن کے ساتھ تخلیق کیے گئے تھے۔ اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’مجھ سے جو غلطی ہوئی، اس کے لیے میں نے رام بھکتوں سے بے شمار مرتبہ معافی مانگی اور مجھے معافی بھی مل گئی، لیکن گیتوں کو چیلنج مت کیجیے۔ ان میں عقیدت، لگن اور شاعرانہ خوبی کی کوئی کمی نہیں تھی۔ میں نے نہ رام کے لیے بچوں کی نظمیں لکھیں اور نہ قوالیاں۔ آگے کے لوگ سمجھ دار ہیں، وہ جانتے ہیں کہ کون کتنے پانی میں ہے۔ جے شری رام۔‘‘ اس طرح منوج منتشر نے ایک جانب ’آدی پُرش‘ کے مکالموں اور فلم کو خراب قرار دیا، تو دوسری جانب اس کے گیتوں کو تنقید سے بالاتر قرار دیتے ہوئے ان کا دفاع کیا۔