Updated: August 12, 2026, 7:02 PM IST
| Mumbai
نتیش تیواری کی ہدایت کاری میں بننے والی بڑی بجٹ کی فلم ’’رامائن‘‘ اپنے ٹیزر اور ٹریلر کے ریلیز ہونے کے بعد سے ہی سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔ فلم کے وی ایف ایکس اور سی جی آئی کو لے کر کئی صارفین اور ناظرین نے تنقید کی ہے۔ اب اداکار رنبیر کپور ، ہدایتکار نتیش تیواری اور شریک پروڈیوسر نمت ملہوترا نے اس تنقید پر اپنا موقف سامنے رکھا ہے۔
رنبیر کپورفلم رامائن میں۔ تصویر:آئی این این
نتیش تیواری کی ہدایت کاری میں بننے والی بڑی بجٹ کی فلم ’’رامائن‘‘ اپنے ٹیزر اور ٹریلر کے ریلیز ہونے کے بعد سے ہی سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔ فلم کے وی ایف ایکس اور سی جی آئی کو لے کر کئی صارفین اور ناظرین نے تنقید کی ہے۔ اب اداکار رنبیر کپور ، ہدایتکار نتیش تیواری اور شریک پروڈیوسر نمت ملہوترا نے اس تنقید پر اپنا موقف سامنے رکھا ہے۔
رنبیر کپور فلم میں بھگوان رام کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فلم کے ویژول ایفیکٹس کا فیصلہ صرف موبائل فون کی چھوٹی اسکرین پر ٹریلر دیکھ کر نہیں کیا جانا چاہیے، کیونکہ فلم کو بڑے پردے، خصوصاً آئی میکس کے تجربے کو ذہن میں رکھ کر تیار کیا گیا ہے۔رنبیرکپور نے کولیڈر کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ آج کل ایک نیا رجحان سامنے آیا ہے، جہاں لوگ ٹریلر اپنے اسمارٹ فون پر دیکھ کر خود کو سی جی آئی کریٹکس سمجھنے لگتے ہیں۔
رنبیر کے مطابق موبائل کی چھوٹی اسکرین پر کسی فلم کے وی ایف ایکس کا جائزہ لینا اس بڑے پیمانے اور تفصیلات کو پوری طرح ظاہر نہیں کرتا جس پر فلم ساز اور وی ایف ایکس فنکار برسوں محنت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض اوقات یہ بات انہیں مضحکہ خیز لگتی ہے کہ لوگ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ کسی نے صرف اے آئی کا استعمال کیا اور فوراً ویژول ایفیکٹس تیار ہوگئے جبکہ حقیقت میں ہزاروں گھنٹے کی محنت شامل ہوتی ہے۔
رنبیر نے بتایا کہ ہدایت کارنتیش تیواری اور نمت ملہوترا فلم کے آغاز سے ہی وی ایف ایکس سے متعلق مسلسل میٹنگز اور کالز کرتے رہے ہیں، حتیٰ کہ آسمان کے رنگ جیسی معمولی نظر آنے والی چیز پر بھی باریک بینی سے کام کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:منوج منتشر کا ’’چھاوا‘‘ کو تقسیم کرنے والی فلم قرار دینے پر اے آر رحمان سے سوال
ہدایت کارنتیش تیواری نے بھی واضح کیا کہ فلم کے وی ایف ایکس کا کام ابھی مکمل نہیں ہوا ہے۔ ان کے مطابق ٹیم فلم کو آخری شکل دینے میں مصروف ہے اور بعض وی ایف ایکس سیکوئنسز کو مکمل کرنے میں ڈھائی سے تین سال تک کا وقت لگا ہے۔نتیش نے کہا کہ فلم کے نامکمل ہونے کے دوران سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید کا سامنا کرنا آسان نہیں ہے۔ ان کے مطابق اگر کوئی شخص صرف خامیاں تلاش کرنے پر توجہ مرکوز کرے تو بہترین کام بھی نظر انداز ہوسکتا ہے اور چھوٹی سی غلطی کو بہت بڑا بنا کر پیش کیا جاسکتا ہے۔
فلم کے شریک پروڈیوسرنمیت ملہوترا نے’’رامائن‘‘ کے وی ایف ایکس پر ہونے والی تنقید کو زیادہ تر ’شور‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فلم کے مارکیٹنگ مواد میں دکھایا جانے والا ہر منظر مکمل فلم کا حتمی ورژن نہیں ہے۔ چونکہ فلم کی ریلیز میں ابھی کئی ماہ باقی ہیں، اس لیے وی ایف ایکس اور پوسٹ پروڈکشن پر کام مسلسل جاری ہے۔
نمت کے مطابق جب فلم کی مارکیٹنگ ریلیز سے چھ سے آٹھ ماہ پہلے شروع کی جاتی ہے تو اس کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ فلم ابھی پروڈکشن یا پوسٹ پروڈکشن کے مرحلے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر فلم مکمل طور پر تیار ہوتی تو اسے ریلیز ہونے میں مزید نو ماہ کا وقت نہ لگتا۔ نمت ملہوترا نے معروف ہدایت کار کرسٹوفر نولن کی فلم ’’دی اوڈیسی‘‘کی مثال بھی دی۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑے فارمیٹ میں بنائی جانے والی فلموں کا اصل مقصد انہیں اسی ماحول اور اسکرین پر دیکھنا ہوتا ہے جس کے لیے انہیں تیار کیا گیا ہے۔
ان کے مطابق اگر کسی شخص کے پاس ایسا ڈسپلے ہی موجود نہیں جو فلم کے اصل ویژول اور ساؤنڈ کو درست انداز میں پیش کرسکے، تو اس بنیاد پر فلم کی تکنیکی خوبصورتی پر حتمی رائے دینا مناسب نہیں۔ فلم سازوں نے خاص طور پر اس بات پر زور دیا ہے کہ فلم ’’رامائن‘‘ کو بڑے پردے پر دیکھنے کے تجربے کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا جا رہا ہے۔ ٹیم چاہتی ہے کہ ناظرین حتمی فلم کو سنیما، خصوصاً آئی میکس میں دیکھنے کے بعد اس کےوی ایف ایکس اور تکنیکی معیار پر اپنی رائے قائم کریں۔
یہ بھی پڑھئے:بولینڈ کو بنگلہ دیش کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں جگہ نہیں ملی
فلم میں رنبیر کپور کے علاوہ یَش، سائی پلوی اور روی دوبے اہم کرداروں میں نظر آئیں گے۔ فلم کو دو حصوں میں پیش کیا جائے گا اور اس کے پہلے حصے کی ریلیز ۶؍ نومبر۲۰۲۶ء کو مقرر ہے۔ فلم کی ریلیز سے پہلے ہی اس کے وی ایف ایکس پر بحث نے اسے سوشل میڈیا پر خاصی توجہ دلا دی ہے۔ تاہم فلم کی ٹیم کا موقف واضح ہے کہ ٹریلر میں نظر آنے والے وی ایف ایکس کو حتمی فلم نہ سمجھا جائے، کیونکہ پوسٹ پروڈکشن کا کام ابھی جاری ہے۔