Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہنٹر بائیڈن نےنیتن یاہو کو ”شيطان کا اوتار “ قراردیا، کہا اسرائیل پر تنقید، سام دشمنی کے مترادف نہیں

Updated: August 12, 2026, 7:01 PM IST | Washington

سابق امریکی صدر جو بائیڈن کے بیٹے ہنٹر بائیڈن نے اس بات پر ٹکر کارلسن کے ساتھ اتفاق کیا کہ اسرائیلی حکومت پر تنقید، سام دشمنی کے مترادف نہیں ہے۔ ان کے ان تبصروں نے آن لائن شدید ردِعمل کو جنم دیا۔ متعدد صارفین نے انہیں یاد دلایا کہ ان کے والد کی قیادت میں امریکی انتظامیہ نے تل ابیب کو مسلسل ہتھیاروں کی فراہمی جاری رکھتے ہوئے اسرائیل کو غزہ پر اپنی جنگ جاری رکھنے کی اجازت دی تھی۔

Tucker Carlson and Hunter Biden. Photo: X
ہنٹر بائیڈن اور ٹکر کارلسن۔ تصویر: ایکس

سابق امریکی صدر جو بائیڈن کے بیٹے ہنٹر بائیڈن نے معروف صحافی ٹکر کارلسن کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجامین نیتن یاہو کو ”شیطان کا اوتار“ (evil incarnate) قرار دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیلی حکومت پر تنقید کرنا سام دشمنی (antisemitism) کے مترادف نہیں ہے۔ ان کے تبصروں نے آن لائن شدید ردِعمل کو جنم دیا۔ متعدد صارفین نے ہنٹر بائیڈن کو یاد دلایا کہ ان کے والد جو بائیڈن کی قیادت میں امریکی انتظامیہ نے تل ابیب کو مسلسل ہتھیاروں کی فراہمی جاری رکھتے ہوئے اسرائیل کو غزہ پر اپنی جنگ جاری رکھنے کی اجازت دی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: ’’غزہ میں فلسطینیوں کی جانوں کو لاحق خطرہ بڑھ رہا ہے‘‘

اس انٹرویو میں، کارلسن جو امریکی دائیں بازو کی سب سے ممتاز آوازوں میں سے ایک ہیں، اور بائیڈن، جو طویل عرصے سے قدامت پسندوں کی تنقید کا نشانہ رہے ہیں، نے نیتن یاہو اور اسرائیل کی مذمت میں ایک موقف پر اتفاق کیا۔ بائیڈن حال ہی میں میڈیا کے ساتھ انٹرویوز کے غیرمعمولی سلسلے میں مصروف رہے ہیں۔ گزشتہ جمعہ کو بی بی سی (BBC) کے ساتھ ایک انٹرویو میں، انہوں نے اپنے والد کی صحت کے بارے میں گفتگو کی اور انکشاف کیا کہ سابق صدر کا کینسر ان کی ہڈیوں تک پھیل چکا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کی ہٹ دھرمی، ایک اور غیر قانونی آبادکاری منصوبے پرعمل

کارلسن کے ساتھ انٹرویو کے دوران، گفتگو کا زیادہ تر حصہ خود ہنٹر بائیڈن سے جڑے تنازعات پر مرکوز رہا۔ ان تنازعات میں ان کی ماضی کی منشیات کی لت اور لیپ ٹاپ اسکینڈل، جو بائیڈن خاندان کے خلاف ایک سیاسی ہتھیار بن گیا تھا، شامل ہیں جس کے بعد گفتگو کا رخ اسرائیل کی طرف مڑ گیا۔ کارلسن نے دعویٰ کیا کہ جس وقت لیپ ٹاپ تنازع سامنے آیا، اس وقت اسرائیلی شخصیات یا اسرائیل سے تعلق رکھنے والے افراد نے ان کے سامنے یہ دعوے پیش کئے تھے کہ اس ڈیوائس میں کمسن بچوں کے ساتھ بدسلوکی کو ظاہر کرنے والا مواد موجود ہے۔ کارلسن نے نے کہا کہ ”کمپیوٹر پر نابالغوں کے ساتھ بدسلوکی پر مشتمل مواد موجود ہونے کا دعویٰ اسرائیلیوں کی طرف سے آیا تھا۔ میں صرف آپ کو یہ بتا رہا ہوں کہ وہ اسے لے کر میرے پاس آئے تھے اور اس طرح مجھے یہ معلوم ہوا۔“

یہ بھی پڑھئے: امریکہ: ’’نو مارک پروجیکٹ‘‘ ملک میں لگائے گئے ایک لاکھ سے زائد اے آئی کیمرون کو ہٹانے کیلئے سرگرم

اس انٹرویو نے اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ اسرائیل اور نیتن یاہو پر تنقید، اب روایتی امریکی سیاسی حدود کو عبور کر چکی ہے، جو اب صرف ڈیموکریٹک پارٹی کے ترقی پسند (progressive) دھڑے تک محدود نہ رہتے ہوئے پاپولسٹ دائیں بازو اور ”امریکہ فرسٹ“ (America First) تحریک کے اندر بھی مقبولیت حاصل کر رہی ہے، جس کے کارلسن ایک اہم لیڈر ہیں۔ اگرچہ بائیڈن اور کارلسن سیاسی طور پر ایک دوسرے کے مخالف ہیں، لیکن اس دعوے کو مسترد کرنے پر ان کا متفق ہونا کہ نیتن یاہو پر تنقید کرنا فطری طور پر سامیت دشمنی ہے، اسرائیل کے بارے میں امریکی سیاسی رویوں میں ایک وسیع تر تبدیلی کی نشان دہی کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK