سونے اور چاندی کے زیورات کے ساتھ ساتھ کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کے باعث جولائی میں خردہ قیمتوں پر مبنی مہنگائی کی شرح بڑھ کر۴۵ء۴؍ فیصد ہوگئی۔
EPAPER
Updated: August 12, 2026, 7:02 PM IST | New Delhi
سونے اور چاندی کے زیورات کے ساتھ ساتھ کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کے باعث جولائی میں خردہ قیمتوں پر مبنی مہنگائی کی شرح بڑھ کر۴۵ء۴؍ فیصد ہوگئی۔
سونے اور چاندی کے زیورات کے ساتھ ساتھ کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کے باعث جولائی میں خردہ قیمتوں پر مبنی مہنگائی کی شرح بڑھ کر۴۵ء۴؍ فیصد ہوگئی۔یہ کم از کم ۱۹؍ ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔ نئی سیریز کی بنیاد پر جنوری۲۰۲۵ء سے اب تک جاری کیے گئے اعداد و شمار میں خردہ مہنگائی کی شرح کبھی بھی اس بلند سطح پر نہیں رہی۔ رواں سال جون کے نظرثانی شدہ اعداد و شمار میں خردہ مہنگائی کی شرح ۳۸ء۴؍ فیصد اور گزشتہ سال جولائی میں ۳۵ء۳؍ فیصد درج کی گئی تھی۔ غذائی خردہ مہنگائی کی شرح بھی جون کے ۳۲ء۵؍ فیصد سے بڑھ کر ۵۲ء۵؍ فیصد ہوگئی۔
یہ بھی پڑھئے:بولینڈ کو بنگلہ دیش کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں جگہ نہیں ملی
مرکزی شماریاتی دفتر کی جانب سے بدھ کو جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق، جولائی میں کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں ایک سال پہلے کے مقابلے میں ۲۴ء۵؍فیصد اضافہ ہوا، جبکہ پان، تمباکو اور نشہ آور اشیا کی مہنگائی کی شرح ۷۹ء۴؍ فیصد رہی۔ ریستوران اور رہائشی خدمات کی مہنگائی کی شرح ۷۲ء۷؍فیصد رہی۔ نقل و حمل کی خدمات کی مہنگائی کی شرح ۴۳ء۴؍ فیصد درج کی گئی۔
یہ بھی پڑھئے:منوج منتشر کا ’’چھاوا‘‘ کو تقسیم کرنے والی فلم قرار دینے پر اے آر رحمان سے سوال
ایک سال پہلے کے مقابلے میں اس سال جولائی میں چاندی کے زیورات ۱۱۰؍ فیصد، ادرک ۸۴؍ فیصد، لہسن ۳۵؍ فیصد، پیاز ۲۳؍ فیصد اور سونے، ہیرے اور پلاٹینم کے زیورات۳۳؍ فیصد مہنگے ہوئے۔ اس کے برعکس آلو کی قیمت میں۱۷؍ فیصد، گاڑیوں میں ۷؍ فیصد اور بھنڈی کی قیمت میں ۶؍ فیصد کمی آئی ہے۔ مٹر اور ٹماٹر کی قیمتوں میں سالانہ ۵؍ فیصد کمی درج کی گئی۔ ایک بار پھر دیہی علاقوں میں مہنگائی کی شرح شہری علاقوں کے مقابلے میں زیادہ رہی۔ شہری علاقوں میں مہنگائی کی شرح ۹۶ء۳؍فیصد جبکہ دیہی علاقوں میں ۸۴ء۴؍ فیصد رہی۔