Updated: April 01, 2026, 6:04 PM IST
| Mumbai
ہندوستانی فلم انڈسٹری میں رنبیر کپور کی فلم ’’رامائن‘‘ میں بھگوان رام کے کردار پر کاسٹنگ نے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اداکار نے ابتدا میں اس کردار کو قبول کرنے سے انکار کیا تھا، تاہم بعد میں وہ اس کے لیے تیار ہوئے۔ نتیش تیواری نے نیویارک میں ایک تقریب کے دوران ان کے انتخاب کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس کردار کے لیے بہترین ہیں۔
رپورٹس کے مطابق رنبیر کپور کو جب پہلی بار فلم ’’رامائن‘‘ میں بھگوان رام کا کردار پیش کیا گیا تو انہوں نے اسے مسترد کر دیا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ وہ اس عظیم اور روحانی کردار کے لیے مکمل طور پر موزوں نہیں ہیں۔ تاہم قریبی ذرائع کے مطابق ان کی ذاتی زندگی، خصوصاً ان کی بیٹی راہا کے اثر نے ان کے فیصلے کو بدلنے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے بعد انہوں نے اس پروجیکٹ کے لیے رضامندی ظاہر کی۔ دوسری جانب فلم کے ہدایت کار نتیش تیواری شروع سے ہی رنبیر کپور کو اس کردار کے لیے بہترین انتخاب مانتے رہے ہیں۔ نیویارک میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب کے دوران ان کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے جس میں وہ اس کاسٹنگ کے پیچھے اپنی سوچ واضح کرتے نظر آتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: کنگنا رناوت کی’’کوئین ۲‘‘ کی شوٹنگ اپریل کے آخر میں شروع ہوگی
انہوں نے کہا کہ ’’بھگوان رام کم الفاظ میں بات کرنے والے انسان تھے، ان کی محبت بے حد تھی اور ان کا درد محسوس کیا جا سکتا تھا۔ اس کردار کے لیے نہ صرف جذباتی گہرائی بلکہ جسمانی مضبوطی بھی ضروری تھی، اور ہمیں لگا کہ ان تمام پہلوؤں کو پیش کرنے کے لیے رنبیر کپور سے بہتر کوئی نہیں۔‘‘ تیواری نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ فلم کو جدید بنانے کی کوئی شعوری کوشش نہیں کی گئی بلکہ اصل توجہ ’’رامائن‘‘ کی بنیادی اقدار پر مرکوز ہے۔ ان کے مطابق ’’رامائن‘‘ کی اصل طاقت ان اقدار میں ہے جو آفاقی اور لازوال ہیں۔ آج کی دنیا ان اقدار کو بھولتی جا رہی ہے اور یہ فلم انہیں دوبارہ یاد دلانے کی ایک کوشش ہے۔‘‘
تاہم، نیویارک میں حالیہ تقریب کے بعد سوشل میڈیا پر مداحوں کی رائے واضح طور پر تقسیم ہو گئی ہے۔ کئی صارفین کا کہنا ہے کہ رنبیر کپور اس کردار کے لیے موزوں انتخاب ہیں اور ان کی اداکاری اس کردار میں نئی جان ڈال سکتی ہے۔ جبکہ دیگر ناقدین نے ان کی موجودہ شکل و صورت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہ اس کردار کے روایتی تصور سے مختلف نظر آتے ہیں اور اپنی عمر سے زیادہ بڑے دکھائی دیتے ہیں۔ فلمی تجزیہ کاروں کے مطابق اس طرح کی بڑی مذہبی اور ثقافتی کہانیوں میں کاسٹنگ ہمیشہ حساس معاملہ رہی ہے۔ ماضی میں بھی جب مختلف اداکاروں نے مذہبی کردار ادا کیے تو انہیں مداحوں کی توقعات اور تنقید دونوں کا سامنا کرنا پڑا۔ موجودہ صورتحال بھی اسی روایت کا تسلسل معلوم ہوتی ہے جہاں ایک طرف شائقین کی بڑی تعداد اس پروجیکٹ کے لیے پرجوش ہے تو دوسری جانب کچھ حلقے اس انتخاب پر شکوک کا اظہار کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ’’سپرگرل‘‘ ٹریلر ریلیز، جیمز گن کی نئی ڈی سی فلم پر مداحوں کا ردعمل
اعداد و شمار کے مطابق، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اس موضوع پر لاکھوں تبصرے اور پوسٹس سامنے آ چکی ہیں، جو اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ فلم ’’رامائن‘‘ کے لیے عوامی دلچسپی غیر معمولی حد تک زیادہ ہے۔ فلمی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر کہانی، ہدایت کاری اور اداکاری مضبوط رہی تو ابتدائی تنقید وقت کے ساتھ کم ہو سکتی ہے۔ پس منظر کے طور پر دیکھا جائے تو ’’رامائن‘‘ ہندوستانی ثقافت اور مذہب کی ایک اہم داستان ہے جسے ماضی میں متعدد بار فلموں اور ٹی وی سیریلز کی صورت میں پیش کیا جا چکا ہے۔ ایسے میں نئی فلم سے توقعات کا بلند ہونا فطری امر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رنبیر کپور کی کاسٹنگ نہ صرف فلمی حلقوں بلکہ عوامی سطح پر بھی شدید بحث کا باعث بنی ہوئی ہے۔