Inquilab Logo Happiest Places to Work

ناکامی کی وجہ سے روینہ کو پنوتی لیکن مہرہ کی کامیابی کے بعد لکی کہا جانے لگا تھا

Updated: June 20, 2026, 11:03 AM IST | Mumbai

بالی ووڈ اداکارہ روینہ ٹنڈن نےفلمی دنیا میں اپنے ۳۵؍سال مکمل کر لیے ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے اپنے اس طویل سفر کو یاد کرتے ہوئے ان دنوں کا ذکر کیاجب مسلسل ناکام فلموں کی وجہ سے انہیں فلمی صنعت میں ’پنوتی‘تک کہا جانے لگا تھا۔

Raveena Tandon. Photo: INN
روینہ ٹنڈن۔ تصویر: آئی این این

بالی ووڈ اداکارہ روینہ ٹنڈن نےفلمی دنیا میں اپنے ۳۵؍سال مکمل کر لیے ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے اپنے اس طویل سفر کو یاد کرتے ہوئے ان دنوں کا ذکر کیاجب مسلسل ناکام فلموں کی وجہ سے انہیں فلمی صنعت میں ’پنوتی‘تک کہا جانے لگا تھا۔ تاہم بعد میں فلم مہرہ کی زبردست کامیابی نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا اور وہی لوگ انہیں انڈسٹری کا ’لکی میسکاٹ‘ کہنے لگے۔ روینہ ٹنڈن نے ایک انٹرویو میں اپنے ابتدائی دنوں کی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے کریئرکے پہلےچند سال انتہائی کٹھن تھے۔ ۱۹۹۱ءمیں پتھر کے پھول کےذریعے سلمان خان کےساتھ فلمی دنیا میں قدم رکھنے کے باوجود ان کی متعدد فلمیں باکس آفس پر ناکام ثابت ہوئیں۔

یہ بھی پڑھئے: دی گریٹ گرینڈ سوپر ہیرو: بچوں کی فلم جسے بڑے بھی دیکھ سکتے ہیں

۹۰ءکی دہائی میں بطور ہیروئن کام کرنے کے چیلنجز اور موجودہ دور کے بدلتے ہوئے بالی ووڈ کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے روینا ٹنڈن نے کہا کہ اس زمانے میں میڈیا کا رویہ بہت سخت اور بے رحم تھا۔ ان کے بقول،’اس دور میں میڈیا نے مجھے پنوتی کہنا شروع کر دیا تھا۔‘انہوں نے اس بات پر زور دیاکہ کسی فلم کی ناکامی کا ذمہ دار صرف ایک شخص کو قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا، ’’ایک اداکار کے طور پر آپ اپنی پوری محنت اور صلاحیت صرف کرتے ہیں۔ کبھی فلم کامیاب ہو جاتی ہے اور کبھی نہیں۔ اس میں کسی ایک فرد کو قصوروار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔‘‘۱۹۹۴ءمیں ریلیز ہونے والی بلاک بسٹر فلم’مہرہ‘کی کامیابی نے نہ صرف روینا ٹنڈن کی قسمت بدل دی بلکہ ان کے بارے میں لوگوں کی رائے بھی مکمل طور پر تبدیل ہو گئی۔ انہوں نے بتایا کہ فلم کی غیر معمولی کامیابی کے بعد معروف فلم ساز گلشن رائےنے انہیں سب کے سامنے انڈسٹری کا ’لکی میسکاٹ‘ قرار دیا تھا، جس کے بعد راتوں رات حالات بدل گئے۔

یہ بھی پڑھئے: چاند میرا دل: شادی سے پہلے نہیں بلکہ بعد کے پیار کی کہانی ہے

روینہ نے مسکراتے ہوئے کہا،’’اس ایک فلم کے بعد میں اچانک سب کے لیے خوش قسمت بن گئی۔ حال یہ تھا کہ پروڈیوسر میرے پاس آکر کہتے تھے کہ ہماری فلم کو کامیاب بنانے کے لیے آپ صرف ایک چھوٹا سا شاٹ ہی دے دیجئے۔‘‘ان کے مطابق بطور اداکارہ ان کی صلاحیتوں کے بارے میں فلمی صنعت اور ناظرین کی سوچ ۱۹۹۹ءمیں ریلیز ہونے والی فلم ’شول‘ کے بعد تبدیل ہوئی۔ انہوں نے کہا، ’’شول نے میرے بارے میں لوگوں کا نظریہ بدل دیا۔ اس فلم نے ثابت کر دیا کہ میں صرف گلیمرس کردار ہی نہیں بلکہ سنجیدہ اور مضبوط کردار بھی ادا کر سکتی ہوں۔‘‘روینہ ٹنڈن نے اپنی زندگی کے ان اہم اسباق کا بھی ذکر کیا جو انہیں اپنےوالد اور فلم ساز روی ٹنڈن سےملے تھے۔ ان کے مطابق ان کے والد ہمیشہ کہتے تھے، ’’تم ضرور گرو گی، لیکن تمہیں دوبارہ کھڑا ہونا سیکھنا ہوگا۔ بالکل ایک چھوٹے بچے کی طرح جو چلنا سیکھتے وقت بار بار گرتا ہے، مگر وہ بیٹھا نہیں رہتا بلکہ دوبارہ اٹھ کر چلنے کی کوشش کرتا ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK