سرمایہ کاری اور الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے کیلئےمودی سرکار نے تجویز پیش کی، چین کے مقابلے میں ہندوستان کومینوفیکچرنگ مرکز بنانے کا ہدف۔
EPAPER
Updated: August 05, 2026, 12:22 PM IST | New Delhi
سرمایہ کاری اور الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے کیلئےمودی سرکار نے تجویز پیش کی، چین کے مقابلے میں ہندوستان کومینوفیکچرنگ مرکز بنانے کا ہدف۔
نئی دہلی (ایجنسی): نریندر مودی کی حکومت نے ایپل جیسی غیر ملکی کمپنیوں کیلئےٹیکس میں چھوٹ کا دائرہ وسیع کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ اس کا مقصد ملک کی ٹیکنالوجی سپلائی چین کو مضبوط بنانا اور ہندوستان کو چین کے مقابلے میں ایک بڑامینوفیکچرنگ مرکزبناناہے۔اس تجویز کے تحت ان غیر ملکی کمپنیوں کو دی جانے والی ٹیکس چھوٹ میں ۱۰؍ سال کی توسیع کرتے ہوئے اسے۲۰۴۱ءتک جاری رکھنے کی بات کہی گئی ہے، جو تائیوان کی فوکس کون اور ہندوستان کی ٹاٹا الیکٹرانکس سمیت ان کنٹریکٹ مینوفیکچررس کو آلات فراہم کرتی ہیں جو ہندوستان میں آئی فون اسمبل کرتے ہیں۔
غیر ملکی سرمایہ کاروں کو رعایتیں
ا س کے ساتھ ہی حکومت نے ہندوستان سے چلائے جانے والے آف شور فنڈس کو انکم ٹیکس ایکٹ کے تحت ٹیکس چھوٹ حاصل کرنے کیلئے درکار شرائط میں بڑی نرمی کی تجویز پیش کی ہے۔ اس کے علاوہ مخصوص غیر ملکی کمپنیوں، جن میں کان کنی کمپنیاں، ساٹ ہولڈرس، بروکر، ایگریگیٹر اور ٹینڈر یا نیلامی سے متعلق ادارے شامل ہیں،کیلئے۳۱؍ مارچ۲۰۴۱ء تک۱۵؍ سال کی نئی ٹیکس چھوٹ کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اس کے تحت ہندوستان کے ایک نوٹیفائیڈ خصوصی زون میں خام ہیروں کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے: باب المندب میں خلل سے ایشیا میں پیٹرول اور اشیائے خورونوش کی قیمتیں بڑھنے کا خدشہ
مجوزہ ترامیم ٹیکسیشن اینڈ اَدر لاز (ترمیمی) بل ۲۶ء کا حصہ ہیں، جسے ابھی پارلیمنٹ میں پیش نہیں کیا گیا ، تاہم اس کی نقل ارکان پارلیمنٹ میں تقسیم کردی گئی ہے۔ امکان ہے کہ حکومت اسے اسی ہفتے پارلیمنٹ میں پیش کرے گی۔
’آف شور‘ فنڈس کیلئے تجویز
آف شور(غیر ملکی) فنڈس کے معاملے میں حکومت کی تجویز ہے کہ ان کی سرگرمیوں کو ہندوستان میں کاروباری آمدنی تصور نہ کرنے کے تعلق سے شرائط کم کی جائیں۔ انہیں ک م از کم۲۵؍ سرمایہ کاروں کی شرط، کسی ایک سرمایہ کار کی ۱۰؍ فیصد شراکت کی حد، کسی ایک ادارہ میں ۲۵؍ فیصد سے زیادہ سرمایہ کاری پر پابندی، اور ۱۰۰؍کروڑ کی کم از کم ماہانہ اوسط جیسی شرائط پوری کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
ٹیکس ترامیم کیوں ضروری ہیں؟
وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے کہا کہ منگل کو پارلیمنٹ میں پیش کی گئی مجوزہ ٹیکس ترامیم فوری طور پر ضروری ہیںتاکہ کاروبار کرنے میں آسانی پیدا ہو اور ٹیکس کے معاملے میں یقین دہانی فراہم کی جا سکے۔ نئی دہلی نے رواں سال کے آغاز میں ’میک اِن انڈیا‘ مہم کے تحت یہ ٹیکس چھوٹ متعارف کرائی تھی جو ۲۰۳۱ء تک مؤثر تھی۔ اس مہم کا مقصد ہندوستان کو ایک بڑے مینوفیکچرنگ مرکز میں تبدیل کرنا ہے۔ حکومت اس ضمن میں دی جانےوالی رعایتوں کو بڑھا کر ۲۰۴۱ء تک جاری رکھنا چاہتی ہے۔
آف شور فنڈس کیلئے نئی اور آسان شرائط
مجوزہ بل کے تحت آف شور فنڈس کو صرف ۵؍شرائط پوری کرنی ہوں گی، جن میں ہندوستان کا رہائشی نہ ہونا اور ہندوستان میں کسی کاروبار کو براہ راست یا بالواسطہ کنٹرول یا مینج نہ کرنا شامل ہے۔ مزید یہ کہ ٹیکس سال کے یکم اپریل اور یکم اکتوبر کو فنڈ میں ہندوستانی باشندوں کی براہ راست مجموعی سرمایہ کاری فنڈ کے کل حجم کے۵؍ فیصد سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔
یہ بھی پڑھئے: ای۲۰؍ ایندھن کے معیار پر حکومت کی وضاحت، روزانہ ۸؍ سے ۱۲؍ بار جانچ کی جا رہی ہے
ڈیٹا سینٹرس کیلئے بھی رعایت
بل میں ڈیٹا سینٹرس کیلئے بھی ٹیکس رعایت کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے تحت ڈیٹا سینٹر کی تعریف میں ان مراکز کو بھی شامل کیا جائے گا جو ملکیت اور لیز کے ذریعے چلائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ غیر ملکی کمپنیوں کو ہندوستان میں مخصوص ڈیٹا سینٹرس سے ڈیٹا سینٹر خدمات حاصل کرنے کیلئے مرکزی حکومت کی الگ منظوری یا نوٹیفکیشن کی شرط ختم کی جائیگی ۔
ترامیم کا مطالبہ غیر ملکی کمپنیوں نے بھی کیا ہے
صنعت کے اعلیٰ عہدیداروں کے مطابق اسمارٹ فون بنانے والی کمپنیاں حکومت سے قوانین میں تبدیلی کا مطالبہ کر رہی تھیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ہندوستان میں مینوفیکچررس کو فراہم کی جانے والی مشینری کی ملکیت کی وجہ سے غیر ملکی کمپنیوں پر ٹیکس عائد نہ ہو۔