جلد ہی اسمبلی میں پیش کرنے اور پاس کرنے کااعلان،ذرائع کا دعویٰ، ان ڈگریوں سے پہلے سے تقرری پانے والے اساتذہ و ملازمین کی ملازمتیں ختم کرنا زیر غور نہیں۔
EPAPER
Updated: August 05, 2026, 11:04 AM IST | Hamidullah Siddiqui | Lucknow
جلد ہی اسمبلی میں پیش کرنے اور پاس کرنے کااعلان،ذرائع کا دعویٰ، ان ڈگریوں سے پہلے سے تقرری پانے والے اساتذہ و ملازمین کی ملازمتیں ختم کرنا زیر غور نہیں۔
وزیر اعلیٰ یوگی کی صدارت میں منعقدہ ریاستی کابینہ کےایک اجلاس میں کئی فیصلوں کے ساتھ’اتر پردیش مدرسہ ایجوکیشن بورڈ ایکٹ ۲۰۰۴ء‘ میں ترمیم کو بھی منظوری دی گئی۔ اس ترمیم کے تحت ایکٹ اور متعلقہ ضابطوں سے ’کامل اور فاضل‘ کی اسناد سے متعلق دفعات کو حذف کیا جائے گا کیونکہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا تھا کہ مدرسہ بورڈ کو آئندہ یہ اعلیٰ تعلیمی اسناد جاری کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہوگا، کیونکہ اعلیٰ تعلیم کا شعبہ’ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن‘کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے۔واضح رہے کہ وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر محکمہ اقلیتی فلاح و بہبود کے ڈائریکٹر کی سربراہی میں تشکیل دی گئی کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پریوپی کابینہ نے یہ فیصلہ کیا ہے تاکہ ریاستی قوانین کو سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ہم آہنگ کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھئے: اپوزیشن کا سرکار کو چیلنج ’مودی، شاہ ایوان میں آئیے اور جواب دیجیے‘
حکومتی ذرائع کے مطابق، اس قانونی ترمیم کا مقصد صرف ضوابط میں ضروری تبدیلی کرنا ہے لیکن اس سے قبل قانون ساز محکمہ سے رائےلی جائےگی اور پھر اسمبلی سے پاس بھی کرایا جائےگا۔ حکومتی ذرائع نے یہ بھی واضح کیا ہے ابھی فی ا لحال نہ تو محکمہ اقلیتی فلاح و بہبود نے اس سلسلے میں کوئی ایسا حکم نامہ جاری کیا ہے اور نہ ہی ایسی کوئی تجویز زیر غور ہے جس کے تحت کامل و فاضل کی بنیاد پر پہلے سے تقرری پانے والے اساتذہ و ملازمین کی ملازمتیں ختم کی جائیں۔
اس سلسلے میں ٹیچرس اسوسی ایشن مدارس عربیہ، اترپردیش و دیگر اساتذہ تنظیموں کا بھی کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے قبل مدرسہ بورڈ سے کامل یا فاضل کی اسناد حاصل کرنے والے اور انہی اسناد کی بنیاد پر ملازمت کرنے والے اساتذہ یا دیگر ملازمین کی خدمات پر فی الحال کسی قسم کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ان تنظیموں نے مدارس سے وابستہ افراد سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی افواہوں اور گمراہ کن اطلاعات پر یقین نہ کریں۔
یہ بھی پڑھئے: نتن گڈکری کی رہائش گاہ کے باہر کانگریس کارکنان کا احتجاج
حکومتی ذارئع کا بھی کہنا ہے کہ اگر مستقبل میں اس حوالے سے کوئی انتظامی فیصلہ لیا جاتا ہے تو وہ آئین اور عدالتوں کے قائم کردہ قانونی اصولوں کے مطابق ہوگا۔ وہیں قانونی ماہرین کا بھی خیال ہے کہ نافذ قانون کے تحت حاصل کئے گئے حقوق کو بعد کی قانونی ترمیم کی بنیاد پر بلاجواز ختم نہیں کیا جا سکتا اور اس سلسلے میں سپریم کورٹ کے متعدد فیصلے رہنمائی فراہم کرتے ہیں تاہم خدشہ اس بات کا ہے کہ بی جے پی کی سربراہی والی حکومتیں اس بات کا اتنا پاس نہیں رکھتیں، انہیں ایسے موضوعات کی تلاش رہتی ہے جن سے اردو زبان، مسلم اور پسماندہ طبقات کے لوگوں کو متاثر کرنے کا کوئی موقع مل سکے۔