بالی ووڈ اداکارہ اور فلم ساز رچا چڈھا اپنی آنے والی نان فکشن سیریز ’’مسافری‘ ‘ کے ذریعے تخلیقی دنیا میں ایک نئے سفر کا آغاز کررہی ہیں۔ اس سیریز کے ٹائٹل ٹریک کے لیے انہوں نے معروف موسیقار اور گلوکارہ اسنیہا کھانولکر کے ساتھ اشتراک کیا ہے۔
EPAPER
Updated: November 06, 2026, 3:06 PM IST | Mumbai
بالی ووڈ اداکارہ اور فلم ساز رچا چڈھا اپنی آنے والی نان فکشن سیریز ’’مسافری‘ ‘ کے ذریعے تخلیقی دنیا میں ایک نئے سفر کا آغاز کررہی ہیں۔ اس سیریز کے ٹائٹل ٹریک کے لیے انہوں نے معروف موسیقار اور گلوکارہ اسنیہا کھانولکر کے ساتھ اشتراک کیا ہے۔
بالی ووڈ اداکارہ اور فلم ساز رچا چڈھا اپنی آنے والی نان فکشن سیریز ’’مسافری‘ ‘ کے ذریعے تخلیقی دنیا میں ایک نئے سفر کا آغاز کررہی ہیں۔ اس سیریز کے ٹائٹل ٹریک کے لیے انہوں نے معروف موسیقار اور گلوکارہ اسنیہا کھانولکر کے ساتھ اشتراک کیا ہے۔ اسنیہا نے نہ صرف اس گانے کی موسیقی ترتیب دی ہے بلکہ اپنی آواز بھی دی ہے۔ اس تعاون کی خاص بات یہ ہے کہ گانے کے بول خود رچا چڈھا نے تحریر کیے ہیں۔ دونوں فنکاروں کے درمیان یہ پیشہ ورانہ رشتہ نیا نہیں ہے، بلکہ ان کی وابستگی رچا کے فلمی کریئر کے ابتدائی دور سے چلی آرہی ہے۔
رچا چڈھا نے اسنیہا کھانولکر کے ساتھ دوبارہ کام کرنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں اپنی قریبی دوست اور ’لکی چارم‘ قرار دیا۔ رچا کے مطابق اسنیہا میں ہندوستان کی مختلف کہانیوں اور ثقافتوں کے لیے موسیقی تخلیق کرنے کی غیر معمولی صلاحیت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہندوستان میں ایک ہزار کہانیاں ہیں تو اسنیہا ان تمام کہانیوں کے لیے موسیقی تلاش کرسکتی ہیں۔ رچا کو ’’مسافری‘‘ کا ٹائٹل ٹریک خاص طور پر اس کی دلکش دھن، گنگنانے کے انداز اور مختلف جذباتی رنگوں کی وجہ سے پسند آیا ہے۔ ان کے مطابق اس گانے میں کہیں تجسس اور شرارت کا احساس ہے تو کہیں لوری جیسی نرمی اور مٹھاس بھی سنائی دیتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:گوگل نے بھی ۵؍ممالک کے ملازمین کو رضاکارانہ طور پر ملازمت چھوڑنے کی پیشکش کی
رِچا نے اسنیہا کے ساتھ اپنے پرانے تعلق کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی پہلی فلم ’’اوئے لکی! لکی اوئے!‘‘ تھی، جو اسنیہا کھانولکر کے لیے بھی موسیقار کی حیثیت سے ایک اہم ابتدائی فلم ثابت ہوئی تھی۔ اس کے بعد جب رچا نے فلم سازی کے میدان میں قدم رکھا تو ان کی پہلی پروڈیوس کردہ فلم ’’گرلز ول بی گرلز‘‘ میں بھی اسنیہا کا ایک گانا شامل تھا۔ اب رچا جب تخلیق کار کی حیثیت سے اپنی پہلی سیریز ’’مسافری‘‘ پیش کررہی ہیں تو اس اہم موقع پر بھی اسنیہا ان کے ساتھ ہیں۔ اسی لیے رچا نے انہیں اپنا خوش قسمت ساتھی قرار دیا ہے۔
اسنیہا کھانولکر نے گانے کی تیاری کے عمل کے بارے میں بتایا کہ جب رچا نے ان سے سیریز کے لیے ٹائٹل ٹریک بنانے کی درخواست کی تو انہوں نے ابتدا میں ایک سادہ ردھمک ٹریک تیار کرکے بھیجا۔ اس کے ساتھ انہوں نے کچھ ایسے عارضی الفاظ اور آوازیں بھی گنگنائیں جن کا کوئی مخصوص مطلب نہیں تھا، لیکن ان سے گانے کی دھن اور تال کا بنیادی تصور سامنے آگیا۔ بعد میں رچا نے اسی موسیقی پر خود گانے کے بول لکھے، جنہیں اسنیہا نے اپنی آواز میں ریکارڈ کیا۔ا سنیہا نے رچا کی تخلیقی سوچ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اپنی ایک الگ اور آزاد آواز ہے اور ان کے ساتھ کام کرنا ہمیشہ خوشگوار تجربہ رہتا ہے۔
رِچا چڈھا کی یہ نان فکشن سیریز ہندوستان کے مختلف علاقوں، ثقافتوں، روایات، مناظر اور ایسی کہانیوں کو سامنے لانے کی کوشش ہے جن سے عام طور پر لوگ پوری طرح واقف نہیں ہوتے۔ اس کا مقصد محض مشہور سیاحتی مقامات دکھانا نہیں بلکہ ان مقامات کی تہذیبی شناخت، مقامی لوگوں کی زندگی، تاریخ اور ان کے پس منظر کو بھی سمجھنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔ اسنیہا نے رچا کی صحافتی تعلیم اور تحقیق کے رجحان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی اس تعلیمی بنیاد کو ایک دلچسپ اور معلوماتی پروگرام کی تشکیل میں استعمال کیا ہے۔ ان کے مطابق یہ سیریز ناظرین کو ایسے علاقوں اور مناظر سے روشناس کرائے گی جنہیں شاید انہوں نے دیکھا ہو، لیکن ان کی اصل کہانیوں اور گہرائی سے واقف نہ ہوں۔
یہ بھی پڑھئے:کیا رونالڈوآخری الوداعی میچ کھیلنے کے لیے دوبارہ میدان میں اتریں گے؟
’’مسافری‘‘ کے پہلے سیزن میں ممبئی کے ان تاریخی، سماجی اور ثقافتی پہلوؤں پر توجہ دی گئی ہے جو عام طور پر لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔ آٹھ اقساط پر مشتمل اس سیریز میں شہر کی تہہ دار تاریخ، مختلف برادریوں، مقامی لوگوں اور تاریخی ورثے کو محفوظ رکھنے کی کوششوں سے متعلق کہانیاں پیش کی جائیں گی۔ رچا کے مطابق اس سیریز کا خیال انہیں ممبئی کے ایک ایسے مقام کی دریافت کے بعد آیا جس کے بارے میں وہ پہلے زیادہ نہیں جانتی تھیں۔ اس تجربے نے انہیں احساس دلایا کہ جس شہر میں وہ رہتی ہیں، اس کے اندر بھی دریافت کرنے کے لیے بہت کچھ موجود ہے۔ یہ سیریز ان کے لیے سفر کو صرف تفریح نہیں بلکہ تاریخ، ثقافت اور انسانی زندگی کو سمجھنے کا ذریعہ بنانے کی کوشش ہے۔
اسنیہا خانولکر ہندوستانی فلمی موسیقی میں اپنے منفرد انداز اور تجرباتی دھنوں کے لیے پہچانی جاتی ہیں۔ انہیں فلم ’’اوئے لکی! لکی اوئے!‘’ اور’ ’گینگز آف واسع پور‘‘ کے دونوں حصوں کی موسیقی سے خاص شہرت ملی۔ اس کے علاوہ ان کا ٹریول اور موسیقی پر مبنی پروگرام ’’دی ساؤنڈ ٹرپِن‘‘ بھی خاصا مقبول رہا، جس میں ہندوستان کے مختلف علاقوں کی موسیقی اور مقامی آوازوں کو پیش کیا گیا تھا۔ ان کا یہی تجربہ ’’مسافری‘‘ جیسے ثقافتی اور سفری موضوع پر مبنی پروگرام کے لیے موزوں سمجھا جارہا ہے۔